السلام علیکم ایک بھائی نے اس حدیث یا روایت کو ضعیف کہا ہے۔ کوئی بھائی اس کی تخریج اور تحقیق پیش کر دے۔ - اردو میں چاہیے
بڑی مہربانی ہوگی
كل قرض جر منفعة فهو ربا
اور آیا یہ قول ہے یا حدیث ہے یا کوئی اثر
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی یہ قول مرفوعا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) اور موقوفا (حضرت علی رضی اللہ عنہ سے)دونوں طرح مروی ہے ، لیکن اس کی تمام اسانید بالکل ضعیف ہیں ، تفصیل کے لیے نصب الرایۃ للزیلعی اور التخلیص الحبیر وغیرہ دیکھی جاسکتی ہیں ، اعلام الموقعین کے حاشیہ میں شیخ مشہور حسن سلمان لکھتے ہیں :
أخرجه الحارث بن أبي أسامة في "مسنده" (رقم 437 - زوائده)، وأبو الجهم الباهلي في "جزئه" (ق 63/ أ/ ب أو رقم 92 - ط الرشد) والبغوي في "حديث العلاء بن مسلم" (ق 280) -كما في "الإرواء" (5/ 235) - من طريق سوار بن مصعب عن عمارة الهمداني عن علي.
قال ابن عبد الهادي في "تنقيح التحقيق": "هذا إسناد ساقط وسوار متروك الحديث"، وكذا قال السخاوي، وابن حجر في "التلخيص" (3/ 34)، وتبعه الشوكاني في "النيل" (5/ 232)، وقال البوصيري في "إتحاف المهرة" (3/ 34/ ب): "وهذا إسناد ضعيف، لضعف سوّار بن مصعب الهمذاني، وله شاهد وهو موقوف على نضلة بن عبيد، ولفظه: "كل قرض جرّ منفعة فهو وجه من وجوه الربا" رواه الحاكم في "المستدرك"، والبيهقي في "سننه"، واللفظ له" انتهى.
وفي معناه ما رواه ابن ماجه (2432)، والبيهقي في "سننه الكبرى" (5/ 350) من طريق إسماعيل بن عياش حدثني عتبة بن حميد الضبي عن يحيى بن أبي إسحاق الهنائي قال: سألت أنس بن مالك: الرجل منا يُقرض أخاه فيُهدي له؟ فرفع معنى الحديث إلى النبي -صلى اللَّه عليه وسلم-.
وقال البوصيري في "مصباح الزجاجة" (2/ 48): هذا إسناد فيه مقال، عتبة بن حميد ضعفه أحمد، وقال أبو حاتم: صالح، وذكره ابن حبان في "الثقات"، ويحيى بن أبي إسحاق الهنائي لا يُعرف حاله.
ووقع في مطبوع "السنن الكبرى": "يزيد بن أبي يحيى" بدل يحيى بن أبي إسحاق، وهو وهم.
إعلام الموقعين عن رب العالمين ت مشهور (3/ 93)
خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت سندا ضعیف ہے ۔
لیکن اہل علم کے ہاں یہ ایک مسلمہ اصول ہے ، جس کی تائید دیگر کئی احادیث سے ہوتی ہے ، بطور مثال صحیح بخاری کی ایک حدیث ملاحظہ ہو :
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَلَا تَجِيءُ فَأُطْعِمَكَ سَوِيقًا وَتَمْرًا وَتَدْخُلَ فِي بَيْتٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا بِهَا فَاشٍ إِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تِبْنٍ أَوْ حِمْلَ شَعِيرٍ أَوْ حِمْلَ قَتٍّ فَلَا تَأْخُذْهُ فَإِنَّهُ رِبًا (
صحیح البخاری 3814)
سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ حاضرہوا تو میں نے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ، انہوں نے کہا ، آو تمہیں میں ستواورکھجورکھلاوں گااورتم ایک ( باعظمت ) مکان میںداخل ہوگے ( کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے گئے تھے ، پھر آپ نے فرمایا تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں
اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اورپھروہ تمہیں ایک تنکے یاجوکے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابربھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا کیونکہ وہ بھی سود ہے۔
علماء اصول کے علاوہ محدثین و فقہاء نے بھی جا بجا اپنی کتب احادیث و فقہ میں اس کا تذکرہ کیا ہے ۔ علامہ معلمی نے حیدر آباد دکن سے سود کی حلت پر مبنی شائع ہونے والے ایک استفتا کے رد میں ایک تفصیلی رسالہ لکھاتھا ، اس میں انہوں نے ایک جگہ پر اس قاعدہ اور اصول سے متعلق کئی ایک آثار جمع کردیے ہیں ۔ دیکھیے : ( آثار الشيخ العلامة عبد الرحمن بن يحيي المعلمي اليماني (18/ 453)
اس حوالے سے مزید شرح صدر کے لیے یہ ایک دو لنکس پڑھ لیں :
سود کیا ہے ؟ مشروط اضافہ
قرضہ لے کر زمین گروی رکھنا