• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پیغام قرآن: پچیسویں پارے کے مضامین

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


پیغام قرآن

پچیسویں پارہ کے مضامین

مؤلف : یوسف ثانی، مدیر اعلیٰ پیغام قرآن ڈاٹ کام





یوسف ثانی بھائی کے شکریہ کے ساتھ کہ انہوں نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پیج فائلز مہیا کیں۔
احباب سے درخواست ہے کہ کہیں ٹائپنگ یا گرامر کی کوئی غلطی پائیں تو ضرور بتائیں۔ علمائے کرام سے گزارش ہے کہ ترجمے کی کسی کوتاہی پر مطلع ہوں تو ضرور یہاں نشاندہی کریں تاکہ یوسف ثانی بھائی کے ذریعے آئندہ ایڈیشن میں اصلاح کی جا سکے۔
پی ڈی ایف فائلز کے حصول کے لئے ، وزٹ کریں:
Please select from ::: Piagham-e-Quran ::: Paigham-e-Hadees


 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
دیگر پاروں کے لنکس کے لئے مختص پوسٹ

پیغام قرآن: پہلے پارے کے مضامین
پیغام قرآن: دوسرے پارے کے مضامین
پیغام قرآن: تیسرے پارے کے مضامین
پیغام قرآن: چوتھے پارے کے مضامین
پیغام قرآن: پانچویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: چھٹے پارے کے مضامین
پیغام قرآن: ساتویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: آٹھویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: نویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: دسویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: گیارہویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: بارہویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: تیرہویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: چودہویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: پندرہویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: سولہویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: سترہویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: اٹھارہویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: انیسویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: بیسویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: اکیسویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: بائیسویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: تئیسویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: چوبیسویں پارے کے مضامین
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
الیہ یرد کے مضامین


۱۔سارے پھل شگوفوں میں سے نکلتے ہیں
۲۔انسان کبھی بھلائی کی دعا مانگتے نہیں تھکتا
۳۔ آفاق کی نشانیاں قرآن کو برحق قراردیں گی
۴۔فرشتوں کااہلِ زمین کے لیے سفارش کرنا
۵۔شہرِمکہ دنیا کی بستیوں کا مرکز ہے
۶۔ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے نہ مددگار
۷۔کائنات کی کوئی چیز اللہ کے مشابہ نہیں
۸۔اللہ اُسی کوراستہ دکھاتا ہے جو رجوع کرے
۹۔تفرقہ کی وجہ ایک دوسرے پر زیادتی کرنا ہے
۱۰۔مجھے انصاف کا حکم دیا گیا ہے، محمدﷺ
۱۱۔منکرین قیامت کے لیے جلدی مچاتے ہیں
۱۲۔طالبِ دنیا کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں
۱۳۔ایمان اور عملِ صا لح کا انعام جنت ہے
۱۴۔اللہ نیک مومنوں کی دعا قبول کرتا ہے
۱۵۔ سب کو کھلا رزق ملتاتوسرکشی کا طوفان ہوتا
۱۶۔اللہ بیشتر قصوروں سے درگزر کر جاتا ہے
۱۷۔مالِ دنیا عارضی ، مالِ آخرت بہتر و پائیدار
۱۸۔زیادتی کا مقابلہ اور ظلم کا بدلہ لینا
۱۹۔ ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے
۲۰۔اپنے ہاتھوں کی لائی مصیبت پر ناشکرا بننا
۲۱۔اللہ ہی بیٹا بیٹی دیتا ہے ،وہی بانجھ کردیتا ہے
۲۲۔اللہ کسی بشر سے رُوبرُو بات نہیں کرتا
۲۳۔قرآن حکمت سے لبریز اُمُّ الکتاب ہے
۲۴۔انسانی قابو سے باہر کی چیزیں مسخّر کی گئیں
۲۵۔جو اپنامدّعا پوری طرح واضح نہیں کرسکتیں
۲۶۔جب باپ دادا کے نقشِ قدم غلط ہوں
۲۷۔ متاعِ حیات اللہ کو نہ پوجنے پر بھی ملتا ہے
۲۸۔کچھ لوگوں کو دوسروں پر فوقیت کیوں ملی؟
۲۹۔ذکرِ الٰہی سے تغافل پرشیطان کامسلط ہونا
۳۰۔قرآن ہمارے لیے ایک بڑا اعزاز ہے
۳۱۔آلِ فرعون عذاب ہٹتے ہی مُکرجاتے
۳۲۔ عیسیٰؑ قیامت کی ایک نشانی ہیں
۳۳۔ جنتیوں کے آگے ساغر گردش کریں گے
۳۴۔جہنم کے عذاب میں کبھی کمی نہ ہوگی
۳۵۔اللہ بھی سنتا ہے اور فرشتے بھی لکھتے ہیں
۳۶۔اللہ ہی قیامت کی گھڑی کا علم رکھتا ہے
۳۷۔اللہ زندگی عطا کرتا ہے اور موت دیتا ہے
۳۸۔ جس روز اللہ بڑی ضرب لگا ئے گا
۳۹۔پھر نہ آسمان اُن پر رویا نہ زمین
۴۰۔ بعد از موت اُٹھنے کا وقت طے شدہ ہے
۴۱۔زَقّوم کا درخت گناہ گار کا کھاجا ہوگا
۴۲۔جنت :گوری گوری آہُو چشم عورتیں ملیں گی
۴۳۔اہلِ یقین کے لیے نشانیاں بے شمار
۴۴۔ قرآن سراسر ہدایت ہے
۴۵۔اللہ نے سمندر کو انسان کے لیے مسخر کیا
۴۶۔ منکرین کی حرکتوں پر درگزر سے کام لو
۴۷۔ بنی اسرائیل کوفضیلت عطا کی گئی تھی
۴۸۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں
۴۹۔ہر متنفس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا
۵۰۔جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا
۵۱۔قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں
۵۲۔اللہ کا تیار کرایا ہوا اعمال نامہ
۵۳۔جنہوں نے تکبر کیا اور مجرم بن کر رہے
۵۴۔ کلام اللہ کا مذاق بنانے والوں کا انجام
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
۱۔سارے پھل شگوفوں میں سے نکلتے ہیں
اس ساعت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے، وہی اُن سارے پھلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں ، اُسی کو معلوم ہے کہ کون سی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے۔ پھر جس روز وہ ان لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک؟ یہ کہیں گے، ’’ہم عرض کر چکے ہیں ، آج ہم میں سے کوئی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے‘‘۔ اُس وقت وہ سارے معبود اِن سے گم ہو جائیں گے جنہیں یہ اس سے پہلے پکارتے تھے، اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ اِن کے لیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ (سورۃ حٰمٓ السجدہ۴۸)

۲۔انسان کبھی بھلائی کی دعا مانگتے نہیں تھکتا
انسان کبھی بھلائی کی دعا مانگتے نہیں تھکتا، اور جب کوئی آفت اِس پر آ جاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہو جاتا ہے، مگر جونہی کہ سخت وقت گزر جانے کے بعد ہم اِسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں ، یہ کہتا ہے کہ ’’میں اسی کا مستحق ہوں ، اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی، لیکن اگر واقعی میں اپنے رب کی طرف پلٹایا گیا تو وہاں بھی مزے کروں گا‘‘۔ حالانکہ کفر کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے کہ وہ کیا کر کے آئے ہیں اور انہیں ہم بڑے گندے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔انسان کو جب ہم نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا ہے اور اکڑ جاتا ہے۔ اور جب اسے کوئی آفت چُھو جاتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ (سورۃ حٰمٓ السجدہ۵۱)

۳۔ آفاق کی نشانیاں قرآن کو برحق قراردیں گی
اے نبیﷺ، ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر واقعی یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا اور تم اس کا انکار کرتے رہے تو اُس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا اور کون ہوگا جو اس کی مخالفت میں دُور تک نکل گیا ہو؟ عنقریب ہم اِن کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کُھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے۔ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے؟ آگاہ رہو، یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں ۔ سُن رکھو، وہ ہر چیز پر محیط ہے۔ (سورۃ حٰمٓ السجدہ۵۴)

۴۔فرشتوں کااہلِ زمین کے لیے سفارش کرنا
سُورۃ الشُوریٰ : اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ح م، ع س ق۔ اِسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے (رسولوں ) کی طرف وحی کرتا رہا ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اُسی کا ہے، وہ برتر اور عظیم ہے۔ قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں ۔ فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جاتے ہیں ۔ آگاہ رہو، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے۔ جن لوگوں نے اُس کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں ، اللہ ہی اُن پر نگراں ہے، تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو(سورۃ الشوریٰ۶)

۵۔شہرِمکہ دنیا کی بستیوں کا مرکز ہے
ہاں ، اسی طرح اے نبیﷺ، یہ قرآنِ عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے تاکہ تم بستیوں کے مرکز (شہرِ مکہ) اور اُس کے گردوپیش رہنے والوں کو خبردار کر دو، اور جمع ہونے کے دن سے ڈرا دو جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ۔ ایک گروہ کو جنت میں جانا ہے اور دوسرے گروہ کو دوزخ میں ۔ (الشوریٰ۷)
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
۶۔ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے نہ مددگار
اگر اللہ چاہتا تو اِن سب کو ایک ہی اُمت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے، اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے نہ مددگار۔ کیا یہ (ایسے نادان ہیں کہ) انہوں نے اُسے چھوڑ کر دوسرے ولی بنا رکھے ہیں ؟ ولی تو اللہ ہی ہے، وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۃ الشوریٰ۹)

۷۔کائنات کی کوئی چیز اللہ کے مشابہ نہیں
تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو، اُس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے۔ وہی اللہ میرا رب ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور اُسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں ۔ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، جس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے، اور اِسی طرح جانوروں میں بھی (اُنہی کے ہم جنس) جوڑے بنائے، اور اس طریقہ سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اُس کے مشابہ نہیں ، وہ سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے، آسمان اور زمین کے خزانوں کی کُنجیاں اُسی کے پاس ہیں ، جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا دیتا ہے، اُسے ہر چیز کا علم ہے۔(سورۃ الشوریٰ۱۲)

۸۔اللہ اُسی کوراستہ دکھاتا ہے جو رجوع کرے
اُس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اُس نے نوحؑ کو دیا تھا، اور جسے (اے محمدﷺ) اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیمؑ اور موسٰیؑ اور عیسٰیؑ کو دے چکے ہیں ، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہو جاؤ۔ یہی بات اِن مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف (اے محمدﷺ) تم انہیں دعوت دے رہے ہو۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کر لیتا ہے، اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے۔ (سورۃ الشوریٰ۱۳)

۹۔تفرقہ کی وجہ ایک دوسرے پر زیادتی کرنا ہے
لوگوں میں جو تفرقہ رُونما ہوا وہ اس کے بعد ہوا کہ ان کے پاس علم آ چکا تھا، اور اِس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ اگر تیرا رب پہلے ہی یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقتِ مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چُکا دیا گیا ہوتا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اُس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں ۔ (سورۃ الشوریٰ۱۴)

۱۰۔مجھے انصاف کا حکم دیا گیا ہے، محمدؐ
چونکہ یہ حالت پیدا ہوچکی ہے اس لیے اے محمدﷺ، اب تم اُسی دین کی طرف دعوت دو، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اُس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاؤ، اور اِن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو اور اِن سے کہہ دو کہ: ’’اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اُس پر ایمان لایا، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں ۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ۔ اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اُسی کی طرف سب کو جانا ہے‘‘۔ (سورۃ الشوریٰ۱۵)
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
۱۱۔منکرین قیامت کے لیے جلدی مچاتے ہیں
اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ (لبیک کہنے والوں سے) اللہ کے معاملہ میں جھگڑے کرتے ہیں ، اُن کی حجّت بازی ان کے رب کے نزدیک باطل ہے، اور اُن پر اُس کا غضب ہے اور اُن کے لیے سخت عذاب ہے۔وہ اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اور میزان نازل کی ہے۔ اور تمہیں کیا خبر، شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آ لگی ہو۔ جو لوگ اُس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اُس کے لیے جلدی مچاتے ہیں ، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یقیناً وہ آنے والی ہے۔ خوب سُن لو، جو لوگ اُس گھڑی کے آنے میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں ۔اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ جسے جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے، اور وہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ (سورۃ الشوریٰ۱۹)

۱۲۔طالبِ دنیا کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں
جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اُس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں ، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اُسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اُس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریکِ خدا رکھتے ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یقیناً ان ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اُس وقت اپنے کیے کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ اِن پر آ کر رہے گا۔(سورۃ الشوریٰ۲۲)

۱۳۔ایمان اور عملِ صا لح کا انعام جنت ہے
بخلاف اِس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے، جو کچھ بھی وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے، یہی بڑا فضل ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے مان لیا اور نیک عمل کیے۔ اے نبیﷺ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ ’’میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ، البتہ قرابت کی محبت ضرور چاہتا ہوں ‘‘۔ جو کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لیے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کر دیں گے۔ بے شک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور قدردان ہے(سورۃ الشوریٰ۲۳)

۱۴۔اللہ نیک مومنوں کی دعا قبول کرتا ہے
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جُھوٹا بہتان گھڑ لیا ہے؟ اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مُہر کر دے۔ وہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے فرمانوں سے حق کر دکھاتا ہے۔ وہ سینوں کے چُھپے ہوئے راز جانتا ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور بُرائیوں سے درگزر فرماتا ہے، حالانکہ تم لوگوں کے سب افعال کا اُسے علم ہے۔ وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ دیتا ہے۔ رہے انکار کرنے والے ، تو ان کے لیے سخت سزا ہے۔ (سورۃ الشوریٰ۲۶)

۱۵۔ سب کو کھلا رزق ملتاتوسرکشی کا طوفان ہوتا
اگر اللہ اپنے سب بندوں کو کُھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کر دیتے، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے نازل کرتا ہے، یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور اُن پر نگاہ رکھتا ہے۔ وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہو جانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی قابلِ تعریف ولی ہے۔ اُس کی نشانیوں میں سے ہے یہ زمین اور آسمانوں کی پیدائش، اور یہ جاندار مخلوقات جو اُس نے دونوں جگہ پھیلا رکھی ہیں ۔ وہ جب چاہے انہیں اکٹھا کرسکتا ہے۔ (سورۃ الشوریٰ۲۹)
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
۱۶۔اللہ بیشتر قصوروں سے درگزر کر جاتا ہے
تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے، اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی درگزر کر جاتا ہے۔ تم زمین میں اپنے خدا کو عاجز کر دینے والے نہیں ہو، اور اللہ کے مقابلے میں تم کوئی حامی و ناصر نہیں رکھتے۔ اُس کی نشانیوں میں سے ہیں یہ جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح نظر آتے ہیں ۔ اللہ جب چاہے ہوا کو ساکن کر دے اور یہ سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں ۔ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو کمال درجہ صبر و شکر کرنے والا ہو __ یا (اُن پر سوار ہونے والوں کے) بہت سے گناہوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کے چند ہی کرتُوتوں کی پاداش میں انہیں ڈبو دے، اور اُس وقت ہماری آیات میں جھگڑا کرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔(سورۃ الشوریٰ۳۵)

۱۷۔مالِ دنیا عارضی ، مالِ آخرت بہتر و پائیدار
جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے، اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی۔ وہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ، جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور اگر غصہ آ جائے تو درگزر کر جاتے ہیں ، جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ، ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔(سورۃ الشوریٰ۳۸)

۱۸۔زیادتی کا مقابلہ اور ظلم کا بدلہ لینا
اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں __ بُرائی کا بدلہ ویسی ہی بُرائی ہے، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کی ملامت نہیں کی جاسکتی، ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دُوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے، تو یہ بڑی اُولو العزمی کے کاموں میں سے ہے۔ (سورۃ الشوریٰ۴۳)

۱۹۔ ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے
جس کو اللہ ہی گمراہی میں پھینک دے اُس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ہے۔ تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے اب پلٹنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟ اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے تو ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے اور اُس کو نظر بچا بچا کر کن انکھیوں سے دیکھیں گے۔ اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا۔ خبردار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کو آئیں ۔ جسے اللہ گمراہی میں پھینک دے اس کے لیے بچاؤ کی کوئی سبیل نہیں ۔ ( الشوریٰ:۴۶)

۲۰۔اپنے ہاتھوں کی لائی مصیبت پر ناشکرا بننا
مان لو اپنے رب کی بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صُورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ اُس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہوگا۔ اب اگر یہ لوگ مُنہ موڑتے ہیں تو اے نبیﷺ، ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے۔ تم پر تو صرف بات پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اُس پر پُھول جاتا ہے، اور اگر اس کے اپنے ہاتھوں کا کیا دھرا کسی مصیبت کی شکل میں اُس پر اُلٹ پڑتا ہے تو سخت ناشکرا بن جاتا ہے۔(سورۃ الشوریٰ۴۸)
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
۲۱۔اللہ ہی بیٹا بیٹی دیتا ہے ،وہی بانجھ کردیتا ہے
اللہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا جُلا کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۃ الشوریٰ۵۰)

۲۲۔اللہ کسی بشر سے رُوبرُو بات نہیں کرتا
کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے رُوبرُو بات کرے۔ اُس کی بات یا تو وحی (اشارے) کے طور پر ہوتی ہے، یا پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ) بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے وحی کرتا ہے، وہ برتر اور حکیم ہے۔ اور اِسی طرح (اے نبیﷺ) ہم نے اپنے حکم سے ایک رُوح تمہاری طرف وحی کی ہے۔ تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے، مگر اُس رُوح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ۔ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو، اُس خدا کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے۔ خبردار رہو، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رُجوع کرتے ہیں ۔(الشوریٰ۵۳)

۲۳۔قرآن حکمت سے لبریز اُمُّ الکتاب ہے
سورۃ الزُخرف: اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ح۔ م۔ قسم ہے اِس واضح کتاب کی کہ ہم نے اِسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم لوگ اسے سمجھو۔ اور درحقیقت یہ اُم الکتاب میں ثبت ہے، ہمارے ہاں بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب۔اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درسِ نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا چھوڑ دیں صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو؟ پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں ۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی اُن کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اُس کا مذاق نہ اُڑایا ہو۔ پھر جو لوگ اِن سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے اُنہیں ہم نے ہلاک کر دیا، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔(الزُخرف۸)

۲۴۔انسانی قابو سے باہر کی چیزیں مسخّر کی گئیں
اگر تُم اِن لوگوں سے پُوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ انہیں اُسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے۔ وہی نا جس نے تمہارے لیے اس زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دیے تاکہ تم اپنی منزل مقصود کی راہ پا سکو۔ جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اُتارا اور اُس کے ذریعے سے مُردہ زمین کو جِلا اُٹھایا، اسی طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کیے جاؤ گے۔ وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کیے، اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا تاکہ تم اُن کی پُشت پر چڑھو اور جب اُن پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو اور کہو کہ ’’پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخّر کر دیا ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے‘‘۔(یہ سب کچھ جانتے اور مانتے ہوئے بھی) اِن لوگوں نے اُس کے بندوں میں سے بعض کو اُس کا جُز بنا ڈالا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کُھلا احسان فراموش ہے۔( الزُخرف۱۵)

۲۵۔جو اپنامدّعا پوری طرح واضح نہیں کرسکتیں
کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا؟ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمن کی طرف منسوب کرتے ہیں اُس کی ولادت کا مُژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اُس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔ کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث و حجت میں اپنا مدّعا پوری طرح واضح بھی نہیں کرسکتی؟انہوں نے فرشتوں کو، جو خدائے رحمن کے خاص بندے ہیں ، عورتیں قرار دے لیا۔ کیا اُن کے جسم کی ساخت انہوں نے دیکھی ہے؟ اِن کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اِس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔(سورۃ الزُخرف۱۹)
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
۲۶۔جب باپ دادا کے نقشِ قدم غلط ہوں
یہ کہتے ہیں ’’اگر خدائے رحمن چاہتا (کہ ہم اُن کی عبادت نہ کریں ) تو ہم کبھی اُن کو نہ پوجتے‘‘۔ یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے، محض تیر تُکے لڑاتے ہیں ۔ کیا ہم نے اِس سے پہلے کوئی کتاب اِن کو دی تھی جس کی سند (اپنی اس ملائکہ پرستی کے لیے) یہ اپنے پاس رکھتے ہوں ؟ نہیں ، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں ۔ اِسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا، اُس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقشِ قدم کی پیروی کر رہے ہیں ۔ ہر نبی نے اُن سے پوچھا، کیا تم اُسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اُس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بُلانے کے لیے تم بھیجے گئے ہو ہم اُس کے کافر ہیں ۔ آخرکار ہم نے اُن کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ (سورۃ الزُخرف۲۵)

۲۷۔ متاعِ حیات اللہ کو نہ پوجنے پر بھی ملتا ہے
یاد کرو وہ وقت جب ابراہیمؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’تم جن کی بندگی کرتے ہو میرا اُن سے کوئی تعلق نہیں ۔ میرا تعلق صرف اُس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہنمائی کرے گا‘‘۔ اور ابراہیمؑ یہی کلمہ اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تاکہ وہ اِس کی طرف رجوع کریں ۔ (اس کے باوجود جب یہ لوگ دوسروں کی بندگی کرنے لگے تو میں نے ان کو مٹا نہیں دیا) بلکہ میں انہیں اور اِن کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا یہاں تک کہ اِن کے پاس حق، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسولﷺ آگیا۔ مگر جب وہ حق اِن کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں ۔ (سورۃ الزُخرف۳۰)

۲۸۔کچھ لوگوں کو دوسروں پر فوقیت کیوں ملی؟
کہتے ہیں ، یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہ نازل کیا گیا؟ کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں اِن کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کیے ہیں ، اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دُوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں ۔ اور تیرے رب کی رحمت (یعنی نبوت) اُس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو (اِن کے رئیس) سمیٹ رہے ہیں ۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہو جائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں ، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ اپنے بالاخانوں پر چڑھتے ہیں ، اور اُن کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں ، سب چاندی اور سونے کے بنا دیتے۔ یہ تو محض حیاتِ دنیا کی متاع ہے، اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لیے ہے۔ (سورۃ الزُخرف۳۵)

۲۹۔ذکرِ الٰہی سے تغافل پرشیطان کامسلط ہونا
جو شخص رحمٰن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہے۔ یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہِ راست پر آنے سے روکتے ہیں ، اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں ۔ آخرکار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا، ’’کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا بُعد ہوتا، تُو تو بدترین ساتھی نکلا‘‘۔ اُس وقت اِن لوگوں سے کہا جائے گا کہ جب تم ظلم کر چکے تو آج یہ بات تمہارے لیے کچھ بھی نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیاطین عذاب میں مشترک ہیں ۔ (سورۃ الزُخرف۳۹)

۳۰۔قرآن ہمارے لیے ایک بڑا اعزاز ہے
اب کیا اے نبیﷺ، تم بہروں کو سناؤ گے؟ یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ دکھاؤ گے؟ اب تو ہمیں اِن کو سزا دینی ہے خواہ ہم تمہیں دنیا سے اُٹھا لیں ، یا تم کو آنکھوں سے ان کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے، ہمیں اِن پر پوری قدرت حاصل ہے۔ تم بہرحال اُس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے اُن سب سے پُوچھ دیکھو، کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کیے تھے کہ اُن کی بندگی کی جائے؟ (سورۃ الزُخرف…۴۵)
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
۳۱۔آلِ فرعون عذاب ہٹتے ہی مُکرجاتے
ہم نے موسٰیؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اُس کے اعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا اور اس نے جاکر کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ۔ پھر جب اُس نے ہماری نشانیاں اُن کے سامنے پیش کیں تو وہ ٹھٹھے مارنے لگے۔ ہم ایک پر ایک ایسی نشانی ان کو دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کر تھی، اور ہم نے ان کو عذاب میں دھر لیا تاکہ وہ اپنی روش سے باز آئیں ۔ ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے، اے ساحر، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے اُس کی بنا پر ہمارے لیے اُس سے دعا کر، ہم ضرور راہِ راست پر آجائیں گے۔ مگر جُوں ہی کہ ہم اُن پر سے عذاب ہٹا دیتے وہ اپنی بات سے پھر جاتے تھے۔ ایک روز فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا، ’’لوگو، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہ رہی ہیں ؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا؟ میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا؟ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے؟ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا‘‘؟ اُس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی، درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔ آخرکار جب انہوں نے ہمیں غضب ناک کر دیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کر دیا اور بعد والوں کے لیے پیش رَو اور نمونۂ عبرت بنا کر رکھ دیا۔ (سورۃ الزُخرف۵۶)

۳۲۔ عیسیٰؑ قیامت کی ایک نشانی ہیں
اور جونہی کہ ابن مریمؑ کی مثال دی گئی، تمہاری قوم کے لوگوں نے اس پر غُل مچا دیا اور لگے کہنے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لیے لائے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔ ابنِ مریمؑ اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لیے اُسے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا۔ ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کر دیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں ۔ اور وہ (یعنی ابن مریم) دراصل قیامت کی ایک نشانی ہے، پس تم اُس میں شک نہ کرو اور میری بات مان لو، یہی سیدھا راستہ ہے، ایسا نہ ہو شیطان تم کو اُس سے روک دے کہ وہ تمہارا کُھلا دشمن ہے۔ اور جب عیسٰیؑ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اُس نے کہا تھا کہ ’’میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں ، اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض اُن باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ اُسی کی تم عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے‘‘۔ مگر (اُس کی اِس صاف تعلیم کے باوجود) گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا، پس تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سے۔(الزُخرف۶۵)

۳۳۔ جنتیوں کے آگے ساغر گردش کریں گے
کیا یہ لوگ اب بس اِسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آ جائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو؟ وہ دن جب آئے گا تو متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے۔ اُس روز اُن لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے کہا جائے گا کہ ’’اے میرے بندو، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہو جاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں ، تمہیں خوش کر دیا جائے گا‘‘۔ اُن کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی۔ ان سے کہا جائے گا، ’’تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے۔ تم اس جنت کے وارث اپنے اُن اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے‘‘۔(سورۃ الزُخرف۷۳)

۳۴۔جہنم کے عذاب میں کبھی کمی نہ ہوگی
رہے مجرمین، تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مُبتلا رہیں گے، کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہوگی، اور وہ اُس میں مایوس پڑے ہوں گے۔ ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اُوپر ظلم کرتے رہے۔ وہ پکاریں گے، ’’اے مالک،میرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے‘‘۔ وہ جواب دے گا، ’’تم یوں ہی پڑے رہو گے، ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے مگر تم میں سے اکثر کو حق ہی ناگوار تھا‘‘۔ (سورۃ الزُخرف۷۸)

۳۵۔اللہ بھی سنتا ہے اور فرشتے بھی لکھتے ہیں
کیا ان لوگوں نے کوئی اقدام کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے؟ اچھا تو ہم بھی پھر ایک فیصلہ کیے لیتے ہیں ۔ کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم اِن کی راز کی باتیں اور اِن کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں ؟ ہم سب کچھ سُن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں ۔اِن سے کہو، ’’اگر واقعی رحمٰن کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا‘‘۔ پاک ہے آسمانوں اور زمین کا فرماں روا، عرش کا مالک، اُن ساری باتوں سے جو یہ لوگ اُس کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ اچھا، انہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو، یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے۔ (سورۃ الزُخرف۸۳)
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top