ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 831
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
کچھ ایسے بھی شیعہ ہیں جو کفر نہیں کرتے تو ہم سب کو کیسے کافر مان سکتے ہیں؟
بسم الله الرحمن الرحيم
روافض سے منسوب ایک فرقہ جو تفضل کا عقیدہ رکھنے والے تھیں جن کو مفضلہ کہا جاتا تھا جو وہ خلیفۃ المسلمین علی رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ کرام پر یا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیتے تھے، وہ نہ کسی صحابہ پر طعن کرتے تھے نہ شرک کرتے تھے اور نہ ہی قران میں تحریف کرتے تھے، وہ گروہ مسلمان تھا کیونکہ وہ دراصل روافض تھے ہی نہیں ، لیکن وہ گروہ آج کے دور میں ختم ہوچکا ہے
جبکہ آج کل کے تمام روافض انجاس کے عقائد کفر ہی کے ہیں ، کوئی بھی ایسا نجس رافضی دنیا میں نہیں ہے جو وہ رافضی ہو اور اس کا عقیدہ غلیظ شرکیات پر مبنی نہ ہو۔
اور اگر بالفرض وہ بظاہر ان عقائد سے برأت کرتے ہیں تو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ برأت بھی جھوٹ بولنے کے ایک طریقے کے تحت ہے جو ان کے عقائد میں سے ایک عقیدہ ہے۔
یہ روافض سر سے پاؤں تک شرکی عقائد سے بھرے پڑے ہیں اور شرک کرنے والے کیلیے کوئی جہالت کا عذر نہیں، روافض جو خود کو بےشرمی کے ساتھ شیعہ کہتے ہیں یہ سب کے سب مرتدین ہیں اور ان کے چھوٹے بڑے سب کفر میں برابر ہیں، جبکہ ہم ذیل میں ان کے بارے میں اسلاف کے اقوال بھی نقل کرتے ہیں :
''میں کسی رافضی (شیعی) کا ذبیحہ نہیں کھاتا ہوں کیونکہ وہ میرے نزدیک مرتد ہے۔'مزید فرماتے ہے کہ :لو أن يهودياً ذبح شاة، وذبح رافضي لأكلت ذبيحة اليهودي، ولم آكل ذبيحة الرافضي لأنه مرتد عن الإسلام ،
''اگر یہودی کسی بکری کو ذبح کرے اور رافضی(شیعی) کسی بکری کو ذبح کرے تو میں یہودی کا ذبیحہ کھالوں گا (کیونکہ قرآن نے اہل کتاب کا ذبیحہ کھانا حلال کیا ہے)۔ میں رافضی (شیعی) کی ذبح کردہ بکری نہیں(اعتقاد اہل السنة والجماعة، اللالكائی ج 8 / صفحہ 1546)
''جو نبی ﷺ کے صحابہ کو گالی دیتے ہیں ان کا برائے نام بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اسلام سے ان کا کوئی حصہ ہے۔'(السنة، للخلال، ج 2 / ص 557)
''اس آیت سے امام مالک رحمہ اللہ نے صحابہ رضی اللہ عنھم سے بغض رکھنے والے روافضہ (شیعہ) کی تکفیر کا استنباط کیا ہے کیونکہ یہ صحابہ کرام کو غیظ دلاتے ہیں اور جو صحابہ کو غیظ دلائے تو وہ اس آیت کی رو سے کافر ہے۔ علماء کی ایک جماعت ــ اللہ ان سے راضی ہوــ نے اس پر امام مالک کی موافقت کی ہے۔'' (تفسير ابن كثير: ج 4 / ص2199 )
امام احمد بن حنبل نے جواب دیا:((ما أراه على الإسلام.))
''میرے نزدیک وہ اسلام پر نہیں ہیں۔''
''موسی بن ھارون بن زیاد روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام محمد بن یوسف الفریابی سے سنا کہ ان سے ایک شخص نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دینے والے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ وہ کافر ہے۔ اس نے پوچھا کہ کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے تو آپ نے جواب دیا: نہیں۔
میں نے پھر آپ سے پوچھا کہ(اگر اس کی نمازہ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی) تو پھر اس کی لاش کے ساتھ کیا کیا جائے گا جبکہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ اس کے جسم کو ہاتھ بھی نہ لگایا جائے۔ لکڑی کے ذریعے اسے اٹھا کر اس کی قبر میں ڈال دو۔'' ( السنة للخلال، روایت نمبر: 794)
رحمہ الله:واعلم أن الأهواء كلها ردية، تدعوا إلى السيف، وأردؤها وأكفرها الرافضة، والمعتزلة، والجهمية، فإنهم يريدون الناس على التعطيل والزندقة۔
''جان لیجئے! اہل اھواء تمام مرتد ہیں، جو تلوار کی طرف بلاتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ ارتداد اور کفر والے رافضی (شیعی)، معتزلہ اور جھمیہ ہیں کیونکہ یہ لوگوں میں تعطیل (انکار) اور زندیقیت (الحاد) پھیلانا چاہتے ہیں۔' (کتاب شرح السنة، صفحہ: 54)
''اہل اھواء میں سے جاوردیہ، ھشامیہ، جھمیہ اور امامیہ (شیعہ) جنہوں نے صحابہ کرام کی مایہ ناز ہستیوں کی تکفیر کا ارتکاب کیا .. ہم ان کو کافر قرار دیتے ہیں اور ہمارے نزدیک نہ ان کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہیں اور نہ ہی ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔'( الفرق بين الفرق، صفحہ: 357)
''رافضیوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ: .. بلاشبہ صحابہ کو کافر یا فاسق قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اپنے اوپر ہی جہنم واجب ہوجاتی ہیں اور وہ خود کافر ہیں۔' (کتاب المعتمد، صفحہ: 267)
الروافض ليسوا من المسلمين.. وهي طائفة تجري مجرى اليهود والنصارى في الكذب والكفر.
''رافضی مسلمان نہیں ہیں.. بلکہ یہ ایک ایسا گروہ ہے جو جھوٹ اور کفر بکنے میں یہود ونصاری کے نقش قدم پر ان کے برابر چل رہا ہے۔ (کتاب الفصل فی الملل والنحل، ج 2، ص 78)
ایک اور مقام پر فرمایا:وإنما خالف في ذلك (وجوب الأخذ بما في القرآن) قوم من غلاة الروافض وهم كفار بذلك مشركون عند جميع أهل الإسلام وليس كلامنا مع هؤلاء وإنما كلامنا مع ملتنا۔
''قرآن میں جو کچھ ہے، اس پر عمل کرنا واجب ہونے کی مخالفت غلو پسند رافضیوں (شیعوں) کی قوم نے کی ہے اور ایسا کرنے کی وجہ سے وہ ایسے کافر ہیں کہ تمام اہل اسلام کے نزدیک وہ مشرک ہیں۔ اس لیے ہمارے مخاطب یہ (رافضی شیعہ) نہیں ہے بلکہ ہمارے مخاطب ہماری ملت والے ہیں (یعنی شیعہ ہم مسلمانوں کی ملت میں سے نہیں ہیں)۔' (الاحكام لابن حزم: ج 1، صفحہ: 96)
''رافضیوں کی دعوت (منہج) کی اصلیت ہی دین کے خلاف سازش اور اسلام کی مخالفت کرنے پر مبنی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہر رافضی (شیعی) خبیث ایک صحابی کی تکفیر کرنے کی وجہ سے کافر ہوجاتا ہے تو اس کا کیا حال ہوگا جو تمام صحابہ کو کافر کہتا ہوں اور چند صحابہ کو کفر سے مستثنی قرار دیتا ہوں۔'
(كتاب نثر الجوهر على حديث أبي ذر، )
''اماموں کو انبیاء سے زیادہ افضل قرار دینے والے غالی رافضیوں(شیعوں) کے قول میں موجود کفر کا ہم سرے سے انکار کرتے ہیں۔''
(کتاب الشفا: ج 2 ص 1078)
''ساری امت امامیہ (شیعوں) کے کافر ہونے پر متفق ہیں کیونکہ یہ صحابہ کو گمراہ سمجھتے ہیں، ان کے اجماع کے منکر ہیں اور ان کی طرف ایسی چیزوں کو منسوب کرتے ہیں جو ان کے شان شایان نہیں ہیں۔ (کتاب الانساب ج 6، صفحہ: 341)
روافض کے عقاٸد ذکر کرکے کہتے ہے کہ
لا يخفى على كل ذي بصيرة وفهم من المسلمين أن أكثر ما قدمناه في الباب قبله من عقائد هذه الطائفة الرافضة على اختلاف أصنافها كفر صريح . (رسالة في الرد على الرافضة ص 200 .)
وقد ذكر جملة من مكفراتهم فمنها قوله ( إنهم يكفرون بتكفيرهم لصحابة رسو الله صلى الله عليه وسلم الثابت تعديلهم وتزكيتهم في القرآن بقوله تعالى : ( لتكونوا شهداء على الناس ) وبشهادة الله تعالى لهم أنهم لا يكفرون بقوله تعالى : ( فإن يكفر بها هؤلاء فقد وكلنا بها قوماً ليسوا بها بكافرين ) . ) .
(المناظرة بين أهل السنة والرافضة للواسطي ص66)
من زعم أن القرآن نقص منه آيات وكتمت، أو زعم أن له تأويلات باطنة تسقط الأعمال المشروعة، فلا خلاف في كفرهم.ومن زعم أن الصحابة ارتدوا بعد رسول الله - عليه الصلاة والسلام - إلا نفراً قليلاً لا يبلغون بضعة عشر نفساً أو أنهم فسقوا عامتهم، فهذا لا ريب أيضاً في كفره ((الصارم المسلول ص 586 - 587.))
ما أبالي صليت خلف الجهمي والرافضي، أم صليت خلف اليهود والنصارى، لا يُسلم عليهم، ولا يُعادون ولا يُناكحون، ولا يشهدون، ولا تُؤكل ذبائحهم.
''میرے نزدیک جہمی اور رافضی(شیعہ) کے پیچھے نماز پڑھنے اور یہود ونصاری کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان جہمیوں اور رافضیوں(شیعوں) کو نہ سلام کیا جائے، نہ ان سے ملا جائے، نہ ان سے نکاح کیا جائے، نہ ان کی گواہی قبول کی جائے اور نہ ان کے ہاتھوں سے ذبح شدہ جانوروں کا گوشت کھایا جائے۔'
(كتاب خلق افعال العباد، صفحہ 125)
لقد أحسن مالك في مقالته وأصاب في تأويله فمن نقص واحداً منهم أو طعن عليه في روايته فقد رد على الله رب العالمين وأبطل شرائع المسلمين
''امام مالک نے کافی اچھی بات کی ہے اور اس کی تاویل درست بات تک پہنچی۔ پس جس کسی نے کسی ایک صحابی کی شان گھٹائی یا ان کی روایت میں کوئی طعن کیا تو اس نے اللہ رب العالمین کو ٹھکرا دیا اور مسلمانوں کی تمام شریعتوں کو منسوخ کرڈالا ہے۔''
(تفسير القرطبی : ج 16 / ص 297 )
والله أعلم بالصواب و علمه أتم، والسلام۔