محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,058
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
اذان کی شرطیں درج ذیل ہیں:
1- وقت کا داخل ہونا (نماز فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے ایک اذان دینا مستحب ہے، جب فجر کا وقت شروع ہو جائے گا تو دوسری اذان دینا واجب ہے) (صحیح بخاری: 617، صحیح مسلم: 1093)
2- اذان کی نیت کرنا
3- عربی زبان میں اذان دینا
4- اذان میں ایسی غلطی نہ کرنا جس سے معنی بدل جائے
5- اذان کے کلمات کو ترتیب سے کہنا
6- اذان کے کلمات کو پے درپے (مسلسل) کہنا
7- بلند آواز سے اذان کہنا تاکہ غیر حاضر کو بھی سنائی دے
اذان کے بعدمسجد سے نکلنا منع ہے، ہاں اگر کوئی مجبوری ہو تو جا سکتا ہے، جیسے قضائےحاجت کے لیے، غسل یا وضو کرنے کے لیے، کوئی شخص دوسری مسجد کا امام ہو وہ بھی جا سکتا ہے وغیرہ۔
افضل اور بہتر یہی ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہےکیونکہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے اور وہی اقامت کہتے تھے، لیکن اگر مؤذن کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اقامت کہہ دے تو جائز ہے۔
اذان کی طرح اقامت کا جواب دینا بھی مشروع ہے، یعنی جو اقامت کہنے والا کہے گا نمازی بھی وہی کلمات کہیں گے،کیونکہ سیدنا ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم اذان سنو تو وہی کلمات کہو جو مؤذن کہتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 611)
لیکن یاد رہے! جب اقامت کہنے والا قد قامت الصلاۃ کہے گا تو نمازی بھی قدقامت الصلاۃ ہی کہیں گے، کیونکہ جس حدیث میں اقامہا اللہ وادامہا کے الفاظ آئے ہیں وہ حدیث ضعیف ہے۔
1- وقت کا داخل ہونا (نماز فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے ایک اذان دینا مستحب ہے، جب فجر کا وقت شروع ہو جائے گا تو دوسری اذان دینا واجب ہے) (صحیح بخاری: 617، صحیح مسلم: 1093)
2- اذان کی نیت کرنا
3- عربی زبان میں اذان دینا
4- اذان میں ایسی غلطی نہ کرنا جس سے معنی بدل جائے
5- اذان کے کلمات کو ترتیب سے کہنا
6- اذان کے کلمات کو پے درپے (مسلسل) کہنا
7- بلند آواز سے اذان کہنا تاکہ غیر حاضر کو بھی سنائی دے
اذان کے بعدمسجد سے نکلنا منع ہے، ہاں اگر کوئی مجبوری ہو تو جا سکتا ہے، جیسے قضائےحاجت کے لیے، غسل یا وضو کرنے کے لیے، کوئی شخص دوسری مسجد کا امام ہو وہ بھی جا سکتا ہے وغیرہ۔
افضل اور بہتر یہی ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہےکیونکہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے اور وہی اقامت کہتے تھے، لیکن اگر مؤذن کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اقامت کہہ دے تو جائز ہے۔
اذان کی طرح اقامت کا جواب دینا بھی مشروع ہے، یعنی جو اقامت کہنے والا کہے گا نمازی بھی وہی کلمات کہیں گے،کیونکہ سیدنا ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم اذان سنو تو وہی کلمات کہو جو مؤذن کہتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 611)
لیکن یاد رہے! جب اقامت کہنے والا قد قامت الصلاۃ کہے گا تو نمازی بھی قدقامت الصلاۃ ہی کہیں گے، کیونکہ جس حدیث میں اقامہا اللہ وادامہا کے الفاظ آئے ہیں وہ حدیث ضعیف ہے۔