• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قومی جھنڈے کو سلامی دینا

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
838
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
قومی جھنڈے کو سلامی دینا

تحریر: عَبْدُ المُذِلّ حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بیشک اگر کوئی چیز ثابت ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے تعلق رکھتی ہے تو پھر اسے اللہ کے سوا کسی اور کے لئے کرنا شرک ہے اور خاص کر جب اطاعت اور قنوت کے طریقے میں کھڑے ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے یہ محض تنہا کھڑے ہونے سے ایک اضافی معاملہ ہے، جیسا کہ فرمان الٰہی ہے: وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِیۡنَ اور اللہ تعالی کے سامنے فرمانبردار بن کر کھڑے ہوا کرو۔ [سورۃ البقرۃ: ۲۳۸]

لہٰذا اس طرح کھڑے ہونا اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لئے کیا جائے تو یہ شرک ہے۔ چاہے وہ کسی انسان کے لئے کیا جائے یا کسی پتھر یا درخت کے لئے یا کسی کمانڈر کے لئے یا کسی ستارے کے لئے یا کسی جھنڈے کے لئے ہو؛ چاہے وہ ملک کا ہو یا قوم کا یا خاندان و قبیلے کا۔

اور نماز جو ہم پڑھتے ہیں اسکے دوران ہم قیام کرتے ہیں اور قرآن کی تلاوت بھی کرتے ہیں، اسی طرح ملک و قومی ترانے کے وقت قیام کیا جاتا ہے اور قومی ترانے کی تلاوت بھی ہوتی ہے اور ہم نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق رفع الیدین کرتے (ہاتھوں کو اٹھاتے) ہیں اور ملک و قومی ترانے میں بھی سلامی و ہاتھ اٹھایا جاتا ہے۔ تو جس طرح ہم نماز میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، اسی طرح یہ ملک و قومی جھنڈے و پرچم کے لئے کیا جاتا ہے جو کہ عبادت ہے۔

دین اسلام سے بڑھ کر کوئی دین کیسے اچھا ہو سکتا ہے؟ ہر آدمی کو اپنی قوم عزیز ہوتی ہے کیوں کہ وہ وہاں پر پیدا ہوتا ہے اور اسکی پرورش وہیں انہی کے ساتھ ہوتی ہے، لیکن اسلام میں یہ حکم ہے کہ اپنی قوم کی حمایت جب تک ہی کر سکتا ہے جب تک کہ وہ مسلمان رہے، اگر وہ کافر اور مشرک ہے تو انکی حمایت کیسے کی جا سکتی ہے! تو ایسی قوم سے اپنے آپ کو الگ تھلگ کر لیں، ایمان کا یہی تقاضہ ہے۔

شرک اور کفر پر مبنی جھنڈے و پرچم کی کوئی عزت نہیں، کوئی تعظیم نہیں، نہ ہی ایسے جھنڈے تلے لڑ سکتے ہیں، نہ ہی اسکی حفاظت کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی کوئی حرمت ہے۔

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ , عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ , يَدْعُو إِلَى عَصَبِيَّةٍ , أَوْ يَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ , فَقِتْلَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ".

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گمراہی کے جھنڈے تلے لڑے، (لوگوں کو) عصبیت (ملک و قوم کی ترفداری) کی دعوت دے یا عصبیت کی بنیاد پر غصے میں آئے (اگر اس کو موت آئے تو) اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔


[سنن ابن ماجه، كتاب الفتن، حدیث: ۳۹۴۸]

فوائد و مسائل:

❍ گمراہی کے جھنڈے کا مطلب یہ ہے کہ یہ تحقیق کئے بغیر ایک فریق کا ساتھ دیتا ہے کہ وہ حق پر ہے یا نہیں۔ اس صورت میں اگر وہ گروہ حق پر بھی ہو تو اس شخص کی نیت حق کا ساتھ دینے کی نہیں تھی بلکہ اپنے ملک، خاندان، قبیلے، قوم، جماعت، پارٹی یا تنظیم کا ساتھ دینے کی ہے، اسلئے یہ وہ جنگ نہیں جس میں حصہ لینا ثواب ہو اور قتل ہونے سے شہادت کا درجہ ملے۔

❍ حق و باطل کی پہچان کیئے بغیر ہر دعوت اور ہر جنگ و جدال جاہلیت کے طریقے پر ہے۔

❍ کچھ جاہل قسم کے لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ اگر ہم ملکی و قومی جھنڈے کے عمل میں شمار نہ ہونگے تو اس سے فتنہ پیدا ہوتا ہے اور مسلمانوں پر غدار و وطن اور قومی پرچم کی بے حرمتی وغیرہ جیسے الزام لگائے جاتے ہیں تو ایسے وقت ان میں شامل ہوا جا سکتا ہے، ان کو اللہ کے نزدیک غدار بن جانے کا ڈر نہیں، اصل فتنہ کسے کہتے ہیں آئیں دیکھتے ہیں:

قتادہ رحمہ اللہ فرمانے الٰہی : وَالۡفِتۡنَةُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِ فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے [سورۃ البقرۃ، آیت: ۱۹۱] کی تفسیر میں فرماتے ہیں الشّركُ أشدُّ مِن القتلِ. شرک قتل سے بڑا گناہ ہے۔ [تفسیر عبد الرزاق: ج: ١، ص: ٧٣، سند صحیح]

وَقٰتِلُوۡهُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَةٌ فتنے کے خاتمے تک ان سے قتال کرو۔ [سورۃ البقرۃ، آیت: ۱۹۳] کی تفسیر میں بھی آپ نے فتنہ سے مراد شرک لیا ہے۔ [تفسیر عبد الرزاق: ج: ١، ص: ٧٣، سند صحیح]

امام طبری رحمہ اللہ اسی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

يقول تعالی ذِكْره لِنَبِيِّهِ مُحَمَّد صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ { حَتَّى لَا تَكُون فِتْنَة } يَعْنِي : حَتَّى لَا يَكُون شِرْك بِاَللَّهِ , وَحَتَّى لَا يُعْبَد دُونه أَحَد , وَتَضْمَحِلّ عِبَادَة الْأَوْثَان وَالْآلِهَة وَالْأَنْدَاد , وَتَكُون الْعِبَادَة وَالطَّاعَة لِلَّهِ وَحْده دُون غَيْره مِنْ الْأَصْنَام وَالْأَوْثَان

اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتے ہیں کہ جو مشرک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتے ہیں، آپ بھی ان سے لڑیں، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوجائے۔ یعنی اللہ کے ساتھ شرک ختم ہوجائے، اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ بتوں، معبودان باطل اور تھانوں کی پوجا ختم ہو جاٸے اور عبادت و اطاعت خالص اللہ کے لئے رہ جائے۔


[جامع البيان عن تأويل آي القرآن، ج: ٢، ص: ٢٠٠]

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حَتّٰی تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَهَا یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے۔ [سورۃ محمد، آیت:۴] میں جنگ سے مراد شرک لیتے ہوئے فرماتے ہیں : حتى لا يكونَ شِركٌ یہاں تک کہ شرک باقی نہ رہے۔ [تفسیر عبد الرزاق: ج: ٣، ص: ۲۲۱، سند صحیح، تفسیر الطبری: ۳۱۳۵۵، سند صحیح]

اصل فتنہ شرک ہے اور یہ لوگ بغیر اکراہ کے شرک کرنے کو کہہ رہے ہیں اور اکراہ والی آیات ایسی جگہ لاگو کر رہے ہیں جہاں اکراہ ہے ہی نہیں۔ ایک عالم سوء کا فتویٰ ہے کہ قومی جھنڈے کی تعظیم کے لئے قیام درست نہیں ہے اور اگر کوئی مجبوری و اکراہ نہ ہو تو اس سے اجتناب کرنا چاہیئے مگر بعض اوقات ایسا کرنے سے فتنہ پیدا ہوتا ہے اور مسلمان پر غدار وطن اور قومی پرچم کی بے حرمتی وغیرہ کے الزام لگائے جاتے ہیں اور جہاں فتنے کا خوف اور مجبوری نہ ہو وہاں احترامً کھڑے ہوکر جھنڈے کو سلامی دینے سے اجتناب کرنا چاہیئے اور جہاں فتنے کا خوف اور مجبوری ہو وہاں بغیر تعظیم کی نیت کیئے ہوئے کھڑا ہونا چاہیئے اور وہ عالم سوء کہتا ہے کہ ایسی صورت میں بلا تعظیم کی نیت کیئے ہوئے کھڑا ہونے کی گنجائش معلوم ہوتی، کیوں کہ مجبوری کی صورت میں زبان سے کلمہ کفر نکالنے کی بھی اجازت ہے بشرط کہ دل ایمان پر مطمٸن ہو اور وہ دلیل کے طور پر قرآن کی یہ آیت پیش کرتا ہے:

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِهٓ ٖ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٝ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِيْمَانِ وَلٰكِنْ مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْـهِـمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّـٰهِۖ وَلَـهُـمْ عَذَابٌ عَظِيْـمٌ

جو کوئی ایمان لانے کے بعد اللہ سے منکر ہوا مگر وہ جو مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو اور لیکن وہ جو دل کھول کر منکر ہوا تو ان پر اللہ کا غضب ہے، اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔


[سورۃ النحل، آیت: ۱۰٦]

❍ یہ عالم سوء سے سوال ہے کہ کیا کفار و مشرکین بھی مسلمانوں کے شرعی حاکم بن سکتے ہیں؟

❍ کیا اگر قومی جھنڈا کفار و مشرکین کے شعار کا ہو، کیا تب بھی ایسا کیا جا سکتا ہے؟

❍ کیا کسی پر غدار وطن اور قومی پرچم کی بے حرمتی کا الزام لگانا اکراہ میں شامل ہے جس سے اسکی جان و مال کو یقینی خطرہ ہو تو وہ شرکیہ و کفریہ کلمات منہ سے نکال سکتا ہے؟

❍ جیسا کہ عالم سوء کا فتویٰ ہے کہ فتنے کے ڈر سے بلا تعظیم غدار وطن جیسے الزامات سے بچنے کے لئے قومی پرچم کے لئے ٹھہرا جا کستا ہے تو کیا غدار وطن کے الزام سے بچنے کے لئے بتوں کی عبادت کی جا سکتی ہے؟ کیا غدار وطن کے الزام سے بچنے کے لئے بتوں کے سامنے سجدہ کیا جا سکتا ہے؟

❍ اکراہ کیا ہے؟ اسکی شرطیں کیا ہے؟ اکراہ کی حالت میں کب دل کو ایمان پر برقرار رکھ کر شرکیہ و کفریہ کہنے کا جواز ہے؟

❍ کیا صرف گمان و گنجائش کی بنا پر اکراہ والی آیت کو لاگو کیا جا کستا ہے جب کہ اکراہ ہونے کا امکان ہی نہیں ہے؟

❍ یہ جو یوم آزادی اور یوم جمہوریت کے دن ہے جہاں قومی جھنڈے کو چڑھانے کا التزام کیا جاتا ہے جو کہ شرک و کفر کی نشانی ہے، کیا اسلام اسکو چڑھانے کی اجازت دیتا ہے؟

❍ کیا مصلحت اور حکمت کے نام پر صرف شرک اور کفر کا ارتکاب کیا جا سکتا ہے؟ چوری اور زنا جیسے گناہ کو مصلحت اور حکمت کا نام کیوں نہیں کرنے دیا جا رہا ہے؟ حالانکہ شرک اور کفر کے لحاظ سے چوری اور زنا کمتر گناہ ہے۔ شرک اور کفر کے مقابلے میں چوری اور زنا کا گناہ کم ہے۔

❍ کیا مصلحت اور حکمت کے نام پر زنا اور چوری کی جا سکتی ہے جس طرح مصلحت اور حکمت کے نام پر شرک اور کفر کا ارتکاب کیا جا رہا ہے؟
 
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
432
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
79
.

قومی جھنڈے کو سلامی دینا

https://telegram.me/salafitehqiqikutub/3401

~~~~؛

سوال( 93 - 139 ) :
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ١٥/اگست ( یوم آزادی ) و ٢٦ /جنوری ( یوم جمہوریہ ) کے موقع پر اسکول کے مسلم طلبہ و طالبات احتراماً کھڑے ہو کر عقیدت کے ساتھ جھنڈے کو سلامی دیتے ہیں ، تو اس طرح جھنڈے کو سلامی دینا اسلام میں کہاں تک درست ہے ؟ امید کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرما کر عند اللہ ماجور اور عند الناس مشکور ہوں گے ۔


جواب :
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں :

” مَا كَانَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ شَخْصًا مِنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ، كَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لاَ يَقُومُ لَهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ، لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ “
( رواه احمد و الترمذي، و قال: حسن صحيح غريب )

یعنی صحابہ کرام کے نزدیک اللہ کے رسول ﷺ سے زیادہ محبوب کوئی نہیں تھا ، مگر کبھی وہ لوگ آپ کو دیکھ کر تعظیماً کھڑے نہیں ہوتے تھے ، اس لئے کہ وہ اس پر آپ کی کراہت کو جانتے تھے ۔

اور ابو امامۃ سے مروی ہے کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ لاٹھی پر ٹیک لگاتے ہوئے تشریف لائے ، ہم لوگ آپ کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو گئے تو آپ نے فرمایا :

” لاَ تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا “
( رواه احمد و ابوداؤد )

جس طرح عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم میں کھڑے ہوتے ہیں اس طرح تم لوگ تعظیم میں مت کھڑے ہو ۔

ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ قیام تعظیمی کسی کے لئے بھی صحیح نہیں ہے، حتی کہ سید المرسلین و امام الاولین و الآخرین و خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے لئے بھی درست نہیں

تو پھر جھنڈا جیسے غیر جاندار چیز کی تعظیم کے لئے قیام کیسے درست ہو سکتا ہے ؟ اس لئے کوئی مجبوری و اکراہ نہ ہو تو اس سے اجتناب کرنا چاہئے ۔

مگر بعض اوقات اس سے فتنہ پیدا ہوتا ہے اور مسلمانوں پر غداریٔ وطن اور قومی پرچم کی بے حرمتی وغیرہ کے الزام عائد کئے جاتے ہیں اس کے لئے ایک تو مسلم قائدین کو کوشش کرنی چاہئے اور ذمہ داران حکومت و برادران وطن کے سامنے یہ مسئلہ رکھنا چاہئے کہ اس میں نہ پرچم کی بے حرمتی ہے اور نہ وطن سے غداری ، بلکہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہونے کی وجہ سے ہم اس سے اجتناب کرنا چاہتے ہیں اس سلسلہ میں مسلمانوں کے لئے رعایت ہونی چاہئے ۔

دوسرے یہ کہ جب تک رعایت نہیں ملتی اس وقت تک جہاں فتنے کا خوف اور مجبوری نہ ہو وہاں احتراماً کھڑے ہو کر اور عقیدت سے ہاتھ اٹھا کر جھنڈے کو سلامی دینے سے اجتناب کرنا چاہئے،

اور جہاں فتنے کا خوف اور مجبوری ہو وہاں بغیر تعظیم کی نیت کئے ہوئے کھڑا ہونا چاہئے، ایسی صورت میں بلا تعظیم کی نیت کئے ہوئے کھڑا ہونے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ،

کیونکہ مجبوری کی صورت میں زبان سے کلمۂ کفر نکالنے کی بھی اجازت ہے بشرط یہ کہ دل ایمان پر مطمئن ہو ۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
﴿ مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَـﭟ بِالْاِيْمَان ﴾
( النحل:106 )

جو شخص اللہ کے ساتھ کفر کرے ایمان لانے کے بعد (تو وہ مرتد ہوگا ) مگر یہ کہ وہ اس پر مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ۔

نعمة المنان مجموع فتاوى فضيلة الدكتور فضل الرحمن: جلد اول، صفحہ ٣١٤ ۔

‏•••═══ ༻✿༺═══ •••

ڈاکٹر فضل الرحمن المدنی چینل.
(علمی٬ عقدی٬ تربوی٬ دعوی)

https://telegram.me/dr_fazlurrahman_almadni/8

.
 
Top