محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,088
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
نماز وتر کا وقت:
وتر کی نماز کا وقت نماز عشاء کے بعد سے لے کر طلوع فجر تک رہتا ہے، لیکن افضل وقت رات کا آخری تہائی حصہ ہے، اگر انسان کو یقین ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار ہو جائے گا تو وتر کو نوافل کے آخر میں پڑھنا افضل ہے، اگر اسے خدشہ ہو کہ وہ رات کو بیدار نہیں ہو سکے گا تو سونے سے پہلے وتر پڑھ لے ۔
وتر کے بعد نوافل پڑھنے کا حکم:
اگر کوئی انسان وتر پڑھ چکا ہو ، پھر نوافل ادا کرنا چاہے تو جائز ہے لیکن وتر دوبارہ نہیں پڑھے گا۔
’’ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔‘‘ (سنن ترمذی: 471)
نماز وتر کی رکعات کی تعداد:
وتر کی ایک، تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھی جا سکتی ہیں۔
وتر پڑھنے کا طریقہ:
تین رکعات وتر پڑھنے کی دو کیفیتیں احادیث مبارکہ میں بیان کی گئی ہیں:
1- دورکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے ، پھرکھڑا ہوکر تیسری رکعت الگ سے پڑھے۔
2- مسلسل تین رکعتیں ادا کرے اور آخر میں تشہد کے لیےبیٹھے اور تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔
یادرہے! تین رکعتیں دو تشہدوں اور ایک سلام کے ساتھ، مغرب کی نماز کی طرح پڑھنا درست نہیں ہے۔
اگر کوئی شخص پانچ رکعات وتر ادا کرناچاہتا ہو تو پانچ رکعات مسلسل پڑھے اور آخر میں تشہد کے لیےبیٹھے اور تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔
اگر کوئی سات رکعات یا نو رکعات وتر پڑھنا چاہتا ہو تو آخری سے پہلےوالی رکعت میں بیٹھ کر تشہد پڑھے لیکن سلام نہ پھیرے ، پھر کھڑا ہو کر آخری رکعت ادا کرے اور تشہد پڑھنے کے بعد سلام پھیرے۔
وتر کی نماز کا وقت نماز عشاء کے بعد سے لے کر طلوع فجر تک رہتا ہے، لیکن افضل وقت رات کا آخری تہائی حصہ ہے، اگر انسان کو یقین ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار ہو جائے گا تو وتر کو نوافل کے آخر میں پڑھنا افضل ہے، اگر اسے خدشہ ہو کہ وہ رات کو بیدار نہیں ہو سکے گا تو سونے سے پہلے وتر پڑھ لے ۔
وتر کے بعد نوافل پڑھنے کا حکم:
اگر کوئی انسان وتر پڑھ چکا ہو ، پھر نوافل ادا کرنا چاہے تو جائز ہے لیکن وتر دوبارہ نہیں پڑھے گا۔
’’ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔‘‘ (سنن ترمذی: 471)
نماز وتر کی رکعات کی تعداد:
وتر کی ایک، تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھی جا سکتی ہیں۔
وتر پڑھنے کا طریقہ:
تین رکعات وتر پڑھنے کی دو کیفیتیں احادیث مبارکہ میں بیان کی گئی ہیں:
1- دورکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے ، پھرکھڑا ہوکر تیسری رکعت الگ سے پڑھے۔
2- مسلسل تین رکعتیں ادا کرے اور آخر میں تشہد کے لیےبیٹھے اور تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔
یادرہے! تین رکعتیں دو تشہدوں اور ایک سلام کے ساتھ، مغرب کی نماز کی طرح پڑھنا درست نہیں ہے۔
اگر کوئی شخص پانچ رکعات وتر ادا کرناچاہتا ہو تو پانچ رکعات مسلسل پڑھے اور آخر میں تشہد کے لیےبیٹھے اور تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔
اگر کوئی سات رکعات یا نو رکعات وتر پڑھنا چاہتا ہو تو آخری سے پہلےوالی رکعت میں بیٹھ کر تشہد پڑھے لیکن سلام نہ پھیرے ، پھر کھڑا ہو کر آخری رکعت ادا کرے اور تشہد پڑھنے کے بعد سلام پھیرے۔