محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,058
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
قیام اللیل کو تہجد بھی کہتے ہیں اور اس سے مراد وہ نفلی نماز ہے جو سونے کے بعد رات میں ادا کی جاتی ہے۔
قیام اللیل رات کے ابتدائی ، درمیانے یا آخری حصے کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے تمام اوقات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیام کرنا ثابت ہے، لیکن رات کے آخری حصے میں قیام کرنا مستحب اور افضل ہے۔
انسان کو چاہیے کہ جس قدر استطاعت ہو اس قدر قیام کرے ، خود کو مشقت میں نہ ڈالے ، اگر تھک جائے یا نیند کا غلبہ ہو جائے تو سو جائے ، جب بالکل نشیط ہو تو قیام کرے، ٹھہر ٹھہر کر خوبصورت اور درمیانی آواز میں قرآن کی تلاوت کرے، آیات میں غورو فکر کرے، جب تسبیح والی آیت آئے تو اللہ تعالی کی تسیبح بیان کرے ، جب کوئی سوال آئے تو اللہ تعالی سے سوال کرے، جب پناہ کی آیت آئے تو اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے۔ اپنے اہل وعیال کو بھی قیام اللیل کرنے کی ترغیب دےاور انہیں اٹھائے۔
افضل یہی ہے کہ انسان رات کی نماز میں قیام لمبا کرے اور گیارہ یا تیرہ رکعات سے زیادہ نہ پڑھے، لیکن اس سے زیادہ رکعات پڑھنا بھی جائز ہے۔
جو شخص روٹین سے قیام اللیل کرتا تھا لیکن کسی دن سویا رہ گیا یا بیمار ہو گیا تو اس کے لیےمستحب ہے کہ وہ اگلے دن ظہر سے پہلے اس کی قضائی دے دے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’جب نیند یا بیماری غالب آ جاتی اور رات کا قیام نہ کر سکتے تو آپﷺ دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔ ‘‘ (صحیح مسلم: 746)
قیام اللیل رات کے ابتدائی ، درمیانے یا آخری حصے کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے تمام اوقات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیام کرنا ثابت ہے، لیکن رات کے آخری حصے میں قیام کرنا مستحب اور افضل ہے۔
انسان کو چاہیے کہ جس قدر استطاعت ہو اس قدر قیام کرے ، خود کو مشقت میں نہ ڈالے ، اگر تھک جائے یا نیند کا غلبہ ہو جائے تو سو جائے ، جب بالکل نشیط ہو تو قیام کرے، ٹھہر ٹھہر کر خوبصورت اور درمیانی آواز میں قرآن کی تلاوت کرے، آیات میں غورو فکر کرے، جب تسبیح والی آیت آئے تو اللہ تعالی کی تسیبح بیان کرے ، جب کوئی سوال آئے تو اللہ تعالی سے سوال کرے، جب پناہ کی آیت آئے تو اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے۔ اپنے اہل وعیال کو بھی قیام اللیل کرنے کی ترغیب دےاور انہیں اٹھائے۔
افضل یہی ہے کہ انسان رات کی نماز میں قیام لمبا کرے اور گیارہ یا تیرہ رکعات سے زیادہ نہ پڑھے، لیکن اس سے زیادہ رکعات پڑھنا بھی جائز ہے۔
جو شخص روٹین سے قیام اللیل کرتا تھا لیکن کسی دن سویا رہ گیا یا بیمار ہو گیا تو اس کے لیےمستحب ہے کہ وہ اگلے دن ظہر سے پہلے اس کی قضائی دے دے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’جب نیند یا بیماری غالب آ جاتی اور رات کا قیام نہ کر سکتے تو آپﷺ دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔ ‘‘ (صحیح مسلم: 746)