محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,058
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
نماز کے ارکان کی اہمیت:
- نماز کے ارکان سے مراد نماز کے وہ افعال اور اقوال ہیں جن سے نماز کی حقیقت و ماہیت بنتی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی رکن رہ جائے، تو نماز شرعی لحاظ سے درست تصور نہیں ہو گی اور نہ ہی سجدہ سہو سے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔
- جس شخص نے نماز کے ارکان میں سے کوئی رکن جان بوجھ کر چھوڑ دیا اس کی نماز باطل ہے ۔
- جس شخص نے نماز کے ارکان میں سے کوئی رکن بھول کر یا جہالت کی وجہ سے چھوڑ دیا اگر اس رکن کو ادا کرنا ممکن ہو سکتا ہو تو ادا کیا جائے گا اور اگر ادا کرنا ممکن نہ ہوتو وہ رکعت جس میں کوئی رکن رہ گیا ہے باطل ہو جائے گی۔ اگر تکبیر تحریمہ کہنا ہی بھول گیا ہو، تو ساری نماز دوبارہ پڑھے گا کیونکہ نماز تکبیر تحریمہ سے شروع ہوتی ہے جس کی تکبیر تحریمہ ہی رہ گئی ہو گویا اس کی نماز شروع ہی نہیں ہوئی۔
نما ز کے ارکان درج ذیل ہیں:
1- قیام (جو کھڑا ہونے کی قدرت رکھتا ہو)
- سفر میں نفلی نما ز سواری پر بیٹھ کر پڑھی جاسکتی ہے۔
- نفلی نماز بغیر عذر کے بھی بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے لیکن اس کاثواب قیام کرنے والے سے آدھا ہو گا۔
- اگر کوئی شخص ہوائی جہاز یا کشتی میں ہو ، ا ور قیام کرنے کی استطاعت رکھتا ہوتو اس پر بھی فرض نما ز میں قیام کرنا واجب ہے ، اگر گرنے یا ڈوب جانے کاخدشہ ہو ، قیام کرنے کی استطاعت نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: تم اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھو الا کہ تمہیں ڈوبنے کا خطرہ ہو۔ (صفۃ صلاۃ النبی از البانی: صفحہ نمبر 79)
2- تکبیرہ تحریمہ (پہلی تکبیر )
3- ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کی قراءت کرنا رکن ہے۔
4- اطمینان کے ساتھ رکوع کرنا
5- رکوع کے بعد اعتدال کےساتھ سیدھے اور اطمینان کے ساتھ کھڑا ہونا
6- اطمینان کے ساتھ سجدہ کرنا
7- دو سجدوں کےدرمیان اطمینان کے ساتھ بیٹھنا
8- بیٹھ کر آخری تشہد (التحیات للہ...) پڑھنا
9- سلام کرنا
10- مذکورہ بالا تمام ارکان کو اسی ترتیب سے ادا کرنا جس ترتیب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیے ہیں۔
- نماز کے ارکان سے مراد نماز کے وہ افعال اور اقوال ہیں جن سے نماز کی حقیقت و ماہیت بنتی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی رکن رہ جائے، تو نماز شرعی لحاظ سے درست تصور نہیں ہو گی اور نہ ہی سجدہ سہو سے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔
- جس شخص نے نماز کے ارکان میں سے کوئی رکن جان بوجھ کر چھوڑ دیا اس کی نماز باطل ہے ۔
- جس شخص نے نماز کے ارکان میں سے کوئی رکن بھول کر یا جہالت کی وجہ سے چھوڑ دیا اگر اس رکن کو ادا کرنا ممکن ہو سکتا ہو تو ادا کیا جائے گا اور اگر ادا کرنا ممکن نہ ہوتو وہ رکعت جس میں کوئی رکن رہ گیا ہے باطل ہو جائے گی۔ اگر تکبیر تحریمہ کہنا ہی بھول گیا ہو، تو ساری نماز دوبارہ پڑھے گا کیونکہ نماز تکبیر تحریمہ سے شروع ہوتی ہے جس کی تکبیر تحریمہ ہی رہ گئی ہو گویا اس کی نماز شروع ہی نہیں ہوئی۔
نما ز کے ارکان درج ذیل ہیں:
1- قیام (جو کھڑا ہونے کی قدرت رکھتا ہو)
- سفر میں نفلی نما ز سواری پر بیٹھ کر پڑھی جاسکتی ہے۔
- نفلی نماز بغیر عذر کے بھی بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے لیکن اس کاثواب قیام کرنے والے سے آدھا ہو گا۔
- اگر کوئی شخص ہوائی جہاز یا کشتی میں ہو ، ا ور قیام کرنے کی استطاعت رکھتا ہوتو اس پر بھی فرض نما ز میں قیام کرنا واجب ہے ، اگر گرنے یا ڈوب جانے کاخدشہ ہو ، قیام کرنے کی استطاعت نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: تم اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھو الا کہ تمہیں ڈوبنے کا خطرہ ہو۔ (صفۃ صلاۃ النبی از البانی: صفحہ نمبر 79)
2- تکبیرہ تحریمہ (پہلی تکبیر )
3- ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کی قراءت کرنا رکن ہے۔
4- اطمینان کے ساتھ رکوع کرنا
5- رکوع کے بعد اعتدال کےساتھ سیدھے اور اطمینان کے ساتھ کھڑا ہونا
6- اطمینان کے ساتھ سجدہ کرنا
7- دو سجدوں کےدرمیان اطمینان کے ساتھ بیٹھنا
8- بیٹھ کر آخری تشہد (التحیات للہ...) پڑھنا
9- سلام کرنا
10- مذکورہ بالا تمام ارکان کو اسی ترتیب سے ادا کرنا جس ترتیب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیے ہیں۔