محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,058
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ سیکھے تا کہ وہ نبوی طریقہ کے مطابق نماز ادا کر سکے۔
بعض نمازوں میں ایک تشہد ہوتا ہے، جیسے: فجر کی نماز ، سنتیں اور نوافل وغیرہ۔
بعض نمازوں میں دو تشہد ہوتے ہیں، جیسے: نماز ظہر، عصر، مغرب، عشاء وغیرہ۔
جس نماز میں ایک تشہد ہو اس میں بیٹھنے کے طریقے کو احادیث مبارکہ میں ’’افتراش‘‘ کہا گیا ہے، افتراش کا معنی ہے: دایاں قدم انگلیوں کے بل کھڑا کر لیا جائے اور بائیں قدم کو بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ آپ ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے ، اپنا بایاں پاؤں بچھا لیتےاور دایاں پاؤں کھڑا کر لیتے۔ (صحیح مسلم، الصلاة: 498)
جس نماز میں دوتشہد ہوں اس میں پہلے تشہد میں افتراش کیا جائے گا ، اور دوسرے تشہد میں بیٹھنے کے طریقہ کو احادیث مبارکہ میں "تَوَرُّك" کہا گیا ہے۔
سیدنا ابوحمید ساعدی رضي الله عنہ فرماتے ہیں كہ: رسول اللہ ﷺ جب دو رکعتوں میں بیٹھتے تو بایاں پاؤں بچھا کر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے، اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے تو بایاں پاؤں آگے کرتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے، پھر اپنی نشست گاہ کے بل بیٹھ جاتے۔ (صحيح البخاري، الأذان: 828)
اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : رسول اللہﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں اپنی ران اور اپنی پنڈلی کے درمیان کر لیتے اور اپنا دایاں پاؤ ں بچھا لیتے۔ (صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة: 579)
2- بایاں پاؤں ران اور اپنی پنڈلی کے درمیان کر لے اور دایاں پاؤ ں بچھا لے۔
والله أعلم بالصواب.
بعض نمازوں میں ایک تشہد ہوتا ہے، جیسے: فجر کی نماز ، سنتیں اور نوافل وغیرہ۔
بعض نمازوں میں دو تشہد ہوتے ہیں، جیسے: نماز ظہر، عصر، مغرب، عشاء وغیرہ۔
جس نماز میں ایک تشہد ہو اس میں بیٹھنے کے طریقے کو احادیث مبارکہ میں ’’افتراش‘‘ کہا گیا ہے، افتراش کا معنی ہے: دایاں قدم انگلیوں کے بل کھڑا کر لیا جائے اور بائیں قدم کو بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ آپ ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے ، اپنا بایاں پاؤں بچھا لیتےاور دایاں پاؤں کھڑا کر لیتے۔ (صحیح مسلم، الصلاة: 498)
جس نماز میں دوتشہد ہوں اس میں پہلے تشہد میں افتراش کیا جائے گا ، اور دوسرے تشہد میں بیٹھنے کے طریقہ کو احادیث مبارکہ میں "تَوَرُّك" کہا گیا ہے۔
سیدنا ابوحمید ساعدی رضي الله عنہ فرماتے ہیں كہ: رسول اللہ ﷺ جب دو رکعتوں میں بیٹھتے تو بایاں پاؤں بچھا کر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے، اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے تو بایاں پاؤں آگے کرتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے، پھر اپنی نشست گاہ کے بل بیٹھ جاتے۔ (صحيح البخاري، الأذان: 828)
اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : رسول اللہﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں اپنی ران اور اپنی پنڈلی کے درمیان کر لیتے اور اپنا دایاں پاؤ ں بچھا لیتے۔ (صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة: 579)
- مختصرا یہ کہ جس نماز ميں ایک تشہد ہو اس میں انسان دایاں قدم انگلیوں کے بل کھڑا کر لے گا اور بائیں قدم کو بچھا کر اس پر بیٹھ جائے گا۔
- جس میں دو تشہد ہوں، پہلے تشہد میں دایاں قدم انگلیوں کے بل کھڑا کر لے گا اور بائیں قدم کو بچھا کر اس پر بیٹھ جائے گا۔ دوسرے تشہد میں "تورك" كرے گا ۔
- مندرجہ بالا احادیث مبارکہ میں "تورك" کی دو کیفیتیں بیان ہوئی ہیں:
2- بایاں پاؤں ران اور اپنی پنڈلی کے درمیان کر لے اور دایاں پاؤ ں بچھا لے۔
والله أعلم بالصواب.