عبداللہ کشمیری
مشہور رکن
- شمولیت
- جولائی 08، 2012
- پیغامات
- 579
- ری ایکشن اسکور
- 1,658
- پوائنٹ
- 186
ہر قرآنسٹ /پرویزی سے میرا یہ سوال ہے لیکن آج تک نہ کوئی سینئر جواب دے سکا نہ جونئیر
سجدے والی نماز یا اطاعت والی صلوٰۃ:
-----------
قرآنسٹ کہتے ہیں کہ قرآن تو اقامت صلوۃ کا حکم دیتا ہے اور اس سے مراد نماز پڑھنا نہیں بلکہ " نظام ربوبیت " قائم کرنا ہے۔
اب وہ کون سا نظام ربوبیت ہے جسے یا تو طلوع آفتاب سے پہلے قائم کیا جاسکتا ہے یا پھر زوال آفتاب کے بعد سے کچھ رات گزرنے تک؟
اور وہ کون سا نظام ربوبیت ہے جو خاص جمعہ کے دن قائم کیا جانا مطلوب ہے؟ اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ (الجمعہ، آیت 9)
اور نظام ربوبیت کی آخر وہ کون سی خاص قسم ہے کہ اسے قائم کرنے کے لیے جب آدمی کھڑا ہو تو پہلے منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں دھو لے اور سر پر مسح کرلے ورنہ وہ اسے قائم نہیں کرسکتا ؟
اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ (المائدہ، آیت 6)
اور نظام ربوبیت کے اندر آخر یہ کیا خصوصیت ہے کہ اگر آدمی حالت جناب میں ہو تو جب تک وہ غسل نہ کرلے اسے قائم نہیں کرسکتا ؟
وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا (النساء، آیت 43)
اور یہ کیا معاملہ ہے کہ اگر آدمی عورت کو چھو بیٹھا ہو اور پانی نہ ملے تو اس عجیب و غریب نظام ربوبیت کو قائم کرنے کے لیے اسے پاک مٹی پر ہاتھ مار کر اپنے چہرے اور منہ پر ملنا ہوگا ؟
اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ (المائدہ، آیت 6)
اور یہ کیسا عجیب نظام ربوبیت ہے کہ اگر سفر پیش آجائے تو آدمی اسے پورا قائم کرنے کے بجائے آدھا ہی قائم کرلے؟
وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ (النساء، آیت 101)
پھر یہ کیا لطیفہ ہے کہ اگر جنگ کی حالت ہو تو فوج کے آدھے سپاہی ہتھیار لیے ہوئے امام کے پیچھے " نظام ربوبیت" قائم کرتے رہیں اور آدھے دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہیں، اس کے بعد جب پہلا گروہ امام کے پیچھے " نظام ربوبیت" قائم کرتے ہوئے ایک سجدہ کر لے تو وہ اٹھ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے چلا جائے اور دوسرا گروہ اس کی جگہ آکر امام کے پیچھے اس "نظام ربوبیت " کو قائم کرنا شروع کردے وَاِذَا كُنْتَ فِيْهِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ مَّعَكَ وَلْيَاْخُذُوْٓا اَسْلِحَتَھُمْ ۣفَاِذَا سَجَدُوْا فَلْيَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَاۗىِٕكُمْ ۠ وَلْتَاْتِ طَاۗىِٕفَةٌ اُخْرٰى لَمْ يُصَلُّوْا فَلْيُصَلُّوْا مَعَكَ (النساء، آیت 102)
قرآن مجید کی یہ ساری آیات صاف بتا رہی ہیں کہ اقامت صلوۃ سے مراد وہی نماز قائم کرنا ہے جو مسلمان دنیا بھر میں پڑھ رہے ہیں
سجدے والی نماز یا اطاعت والی صلوٰۃ:
-----------
قرآنسٹ کہتے ہیں کہ قرآن تو اقامت صلوۃ کا حکم دیتا ہے اور اس سے مراد نماز پڑھنا نہیں بلکہ " نظام ربوبیت " قائم کرنا ہے۔
اب وہ کون سا نظام ربوبیت ہے جسے یا تو طلوع آفتاب سے پہلے قائم کیا جاسکتا ہے یا پھر زوال آفتاب کے بعد سے کچھ رات گزرنے تک؟
اور وہ کون سا نظام ربوبیت ہے جو خاص جمعہ کے دن قائم کیا جانا مطلوب ہے؟ اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ (الجمعہ، آیت 9)
اور نظام ربوبیت کی آخر وہ کون سی خاص قسم ہے کہ اسے قائم کرنے کے لیے جب آدمی کھڑا ہو تو پہلے منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں دھو لے اور سر پر مسح کرلے ورنہ وہ اسے قائم نہیں کرسکتا ؟
اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ (المائدہ، آیت 6)
اور نظام ربوبیت کے اندر آخر یہ کیا خصوصیت ہے کہ اگر آدمی حالت جناب میں ہو تو جب تک وہ غسل نہ کرلے اسے قائم نہیں کرسکتا ؟
وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا (النساء، آیت 43)
اور یہ کیا معاملہ ہے کہ اگر آدمی عورت کو چھو بیٹھا ہو اور پانی نہ ملے تو اس عجیب و غریب نظام ربوبیت کو قائم کرنے کے لیے اسے پاک مٹی پر ہاتھ مار کر اپنے چہرے اور منہ پر ملنا ہوگا ؟
اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ (المائدہ، آیت 6)
اور یہ کیسا عجیب نظام ربوبیت ہے کہ اگر سفر پیش آجائے تو آدمی اسے پورا قائم کرنے کے بجائے آدھا ہی قائم کرلے؟
وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ (النساء، آیت 101)
پھر یہ کیا لطیفہ ہے کہ اگر جنگ کی حالت ہو تو فوج کے آدھے سپاہی ہتھیار لیے ہوئے امام کے پیچھے " نظام ربوبیت" قائم کرتے رہیں اور آدھے دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہیں، اس کے بعد جب پہلا گروہ امام کے پیچھے " نظام ربوبیت" قائم کرتے ہوئے ایک سجدہ کر لے تو وہ اٹھ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے چلا جائے اور دوسرا گروہ اس کی جگہ آکر امام کے پیچھے اس "نظام ربوبیت " کو قائم کرنا شروع کردے وَاِذَا كُنْتَ فِيْهِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ مَّعَكَ وَلْيَاْخُذُوْٓا اَسْلِحَتَھُمْ ۣفَاِذَا سَجَدُوْا فَلْيَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَاۗىِٕكُمْ ۠ وَلْتَاْتِ طَاۗىِٕفَةٌ اُخْرٰى لَمْ يُصَلُّوْا فَلْيُصَلُّوْا مَعَكَ (النساء، آیت 102)
قرآن مجید کی یہ ساری آیات صاف بتا رہی ہیں کہ اقامت صلوۃ سے مراد وہی نماز قائم کرنا ہے جو مسلمان دنیا بھر میں پڑھ رہے ہیں