ابن انور
رکن
- شمولیت
- نومبر 01، 2022
- پیغامات
- 20
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 35
بسم الله الرحمن الرحيم
وطن پرستی کے فتنۂ اکبر میں جمعیت اہلِ حدیث کا سقوطِ باطن
وطن پرستی کے فتنۂ اکبر میں جمعیت اہلِ حدیث کا سقوطِ باطن
جو سخنِ نازک مزاجاں فہمِ عوام سے بعید تر ہو، وہی اس فقیرِ کم آہ کے قلم سے رواں ہو، سو سُن! اگرچہ گوشِ عوام اسے افسانہ سمجھیں اور عقلِ معیوب اسے افواہ جان کے ٹھکرا دے، مگر یہ سخنِ جاں سوز ازلی صداقت کی وہ ضربِ کاری ہے جس کی تردید اہلِ دل پر وبال، اور انکار اہلِ حق کے لیے زوال کا پیغام ہے۔
جس طرح جمہوریت کہلانے والا بت، سراپا کفرِ صریح اور طاغوتی اساس پر ایستادہ ایک فرعونی مجسمہ ہے، ویسے ہی وطن پرستی، قومی عصبیت اور نیشنلزم بھی شرکِ اکبر کی وہ ستم ظریف شاخیں ہیں، جو توحیدِ خالص کے تناور شجر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہیں۔
یہ وہ دجال صفت فتنہ ہے، جو ملتِ ابراہیمی کی موروثی شمعِ توحید کو بجھانے کے درپے ہے، اور اپنے خبیث خدوخال میں ایسا باطل تصور رکھتا ہے جو آیاتِ ربانی اور احادیثِ نبویہ کی ہر ہر تعبیر و تفسیر سے ٹکراتا، متصادم ہوتا اور بالآخر، حق کی گردن پر باطل کی شمشیر بن کر گرتا ہے۔
واہ صد افسوس! صد ہزار حیف! کہ اس دَورِ تیرہ و تار میں جبکہ شرکِ جلی کا آفتاب اپنی تمام تر تمازت کے ساتھ افقِ ملت پر چمک رہا ہے، اُس میں صفِ اوّل کے سالار وہی طلسمِ دجل کے اسیر، اور زُہد و ورع کے مدعی اہلِ نام و نمود دکھائی دیتے ہیں، جنہوں نے "جمعیت اہلِ حدیث" کی سِنّاری تختی کو اپنی دکانداری کا عنوانِ فریب بنا رکھا ہے۔
یہ وہ اصحابِ مکر و ریا ہیں، جن کی زبانیں اگرچہ توحیدِ ربانی کے زمزمہ سنج دعوے کرتی ہیں، مگر جب قوم، وطن، اور حدودِ وطنی کے اساطیری اسمار سے تعصب کا گردباد اٹھتا ہے، تو یکایک وہی زبانیں، جو کبھی "لا إله إلا الله" کی گواہی دیا کرتی تھیں، وطنی پرچموں کی چاپلوسی، قومی ترانوں کی ستائش، اور خاکِ وطن کی پرستش میں مستغرق ہو جاتی ہیں۔
حیرت صد حیرت! کہ یہ نام نہاد علمبردارانِ کتاب و سنت، جن کی پیشانیوں پر ظاہراً آثارِ عبادت رقم ہیں، جب فتنۂ تمییز و آزمائش کی ساعت آتی ہے، تو ان کے چہروں سے تقویٰ کا نقاب اُتر جاتا ہے، اور باطن کا کفر، ظاہر کی سادہ لوحی کا مذاق اڑاتا ہوا، بےنقاب برآمد ہوتا ہے۔
یہ ہیں وہ مدعیانِ اہلِ حدیث، جن کے دعوے کبھی قرآن و حدیث کی تلاوت سے مہکتے تھے، مگر اب دلوں میں وطن پرستی کا خناس، اور زبانوں پر جمہوریت و قومیت کا زہر جاری ہے۔
آہ! زمانے کی گردشِ بےمہری پر غمزدہ دل کو کیا قرار، جب حالیہ ایّامِ فتن و آشوب میں، سرحدی افق پر ہند و پاک کی عسکری تموجات نے بادلِ جنگ کی گرجدار زباں کھولی، تب ہم نے عبرت کے خونچکاں منظر میں اُن چہروں کی بےنقابی دیکھی، جنہوں نے طِوالِ دَورانِ دجل، اہلِ حدیث کے مقدّس نام پر تقویٰ و توحید کی ملمّع کاری کی تھی۔
وہی نامی گرامی اصحابِ ریش و دستار، جو منہجِ سلف کی طاقِ بلند پر فانوسِ علم بنے بیٹھے تھے، جب وطنیت و قومیت کی پکار نے ان کے دل کے نہاں خانے میں دبی ہوئی وطنی تعصب کی چنگاری کو شعلہ بنایا، تو ان کے زعمِ تقدّس کے پردے چاک ہو گئے، اور وہی اہلِ حدیث ہونے کے مدعی، لسانِ قال سے "لبیک یا وطن" کے نعرے بلند کرنے لگے۔
سبحان اللہ! کجا وہ دعویٰ توحید، کجا وہ آیاتِ ربانیہ کا ورد، اور کجا وہ رسولِ امین کی سنت کا دم بھرنا؟ سب کچھ مثلِ برگِ خزاں بکھر گیا۔ قرآن کے معانی ان کی یادداشت سے محو ہو گئے، اسمِ جلالت، اور اسمِ رسالت ان کی زبانوں پر مفقود ہوا۔ اگر کچھ باقی رہ گیا تو فقط "میرا وطن"، "میرے وطن کی سرحد"، "میرا وطنی پرچم"۔
افسوس! کہ وہی رنگین پارچہ ان کے لیے معبود بن گیا، وہی سرحدِ جغرافیائی ان کی شریعت ٹھہری، اور وہی سپاہِ وطنی ان کے لیے شارع و شارعہ بن بیٹھی۔ گویا لا إله إلا الله کے علمبردار، خود ساختہ "لا وطن إلا وطني" کے منکرِ خفیہ بن گئے۔ ان کی قبلہ گاہ اب بیتُ الوطن تھا، اور ان کا اذان دینے والا، سپاہیِ وطن کا ترجمان۔
حاشا و کلا کہ ہمارا مکتوبِ درد محض طعن و تشنیع کی تفریح گاہ ہو! ہرگز نہیں! بلکہ یہ وہ آتشیں نالہ ہے جو دلِ حق طلب کو بیدار کرے، اور آنکھوں پر پڑی غفلت کی دبیز پرت کو چاک کر ڈالے۔ ہم نے جو تحریر رقم کی ہے، وہ طنز کا نشتر نہیں بلکہ صداقت کا وہ خنجر ہے جو تعصّب کے بت کو چیر کر دلِ مؤمن کے گوشت پوست تک رسائی چاہتا ہے۔
اے صاحب! وطن پرستی، جسے زمانے کے فریب خوردہ اذہان، حُسنِ نیت کے پردے میں ملفوف کر کے پیش کرتے ہیں، درحقیقت شرکِ اکبر کی وہ نہایت ستم شعار صورت ہے، جس پر تاویلاتِ باطلہ اور حیلہ ہائے فقیہانہ کے ہزار پردے بھی ڈال دیے جائیں، تب بھی اس کے شرکیہ تعفن کو دبایا نہیں جا سکتا۔
لیکن اس سے بڑھ کر رقت و حیرت کا مقام یہ ہے کہ آج کے یہ مسمّیٰ بہ اہلِ حدیث، جن کی پیشانی پر توحید کا زعم چمکتا ہے، وہ ابو جہل و ابو لہب کے مشرکانہ مسلک سے بھی آگے نکل گئے۔ اُن کے قِبلہ و کعبہ اب نہ مکہ کی وادیوں میں جلوہ گر ہیں، نہ مدینہ کی پاک گلیوں میں موجزن، بلکہ ان کا سجدہ اب اُس مقام پر ادا ہوتا ہے جہاں ان کے وطن کا پُرزرق جھنڈا لہراتا ہو۔
گویا ان کی نمازِ عقیدہ وطن کے حریم میں قائم، اور ان کا اذانِ ایمان ترانے کے طبل و علم کے زیرِ سایہ بجایا جاتا ہے۔ یہ ہیں وہ کج فہم داعیانِ توحید، جنہوں نے حق کی قندیل کو مٹی کے ڈھیر میں دفن کر دیا، اور سرزمینِ شرک کو مسندِ عشق و عقیدت بنا لیا۔
عجب ماجرا ہے کہ جس ذاتِ ذو الجلال کے آگے ملائکہ صف بستہ ہیں، اُس کی ربوبیت کے مقابل ایک زمینی خیال جس کو "وطنیت" کے نام سے موسوم کیا گیا ان خرقۂ تقدس میں ملفوف مدعیانِ توحید کے لیے اس درجہ مقدّس ٹھہرا کہ وہ اُسے مقامِ الوہیت پر فائز کر بیٹھے۔
ہاں! یہی وطن ان کا معشوقِ لایموت ہے، یہی ان کا معبودِ مجازی، یہی ان کا محبوبِ بےمثال، اور ہاں! یہی ان کا معیوبِ مستور، جس کی قبائے فریب میں لپٹی ہوئی عقیدت، ہر روز شریعت کے جنازے کو کندھا دیتی ہے۔
یہ ہے وہ نوخیز بُت، جس کے حضور یہ اربابِ منہج و مکتب سجدہ شوق میں زمین بوس ہوتے ہیں۔ اور تعجب خیز امر یہ ہے کہ اس فتنۂ وطن پرستی کی راہ میں، نہ انہیں دین کا ضیاع کھٹکتا ہے، نہ جماعت کی ساکھ کی پروا ہوتی ہے، نہ مسلک کی بنیادیں عزیز رہتی ہیں، بلکہ اگر کچھ قربان ہوتا ہے تو وہی توحیدِ خالص، جس کے دم سے ان کے بزرگ کہلاتے تھے۔
آہ! کیسا بےحس تصوف ہے، کیسا سنگ دل اخلاص ہے، جو زمین کے ٹکڑے پر الوہیت کی چادر تان کر سجدہ گزار ہو گیا، اور پھر فخر سے کہتا ہے یہی ہے میرا وطن، یہی میرا رب!
پس، ہوش کا دامن تھام اور عقل کے چراغ میں فہم کی لو بلند کر کہ نیشنلزم فقط ایک فکری فریب یا ذہنی لغزش کا نام نہیں، بلکہ وہ داغِ کفر ہے جسے شرکِ اکبر کی سیہ کاریوں میں شمار کرنا، نہ صرف بجا، بلکہ از حد واجب ہے۔ یہ محض نظریاتی زہر نہیں، بلکہ عقیدے کی بنیادوں پر پڑا وہ دھماکہ ہے جو توحید کی عمارت کو زمین بوس کر دیتا ہے۔
اور وہ اشخاص، جو اس فتنۂ وطن پرستی کی ترویج و تبلیغ میں تنِ فربہ و جبینِ عیار کے ساتھ مصروف ہیں، چاہے وہ "اہلِ حدیث" کے جامہ میں ملبوس ہوں یا کسی اور لبادہءِ زُہد و تَقى میں مستور، وہ سب کے سب نہ صرف خود مسلکِ شرک کے اسیر ہیں، بلکہ دیگرانِ امت کو بھی اس لَجَنِ کفر میں گھسیٹنے والے ہیں۔
یہی ہیں وہ مدعیانِ ہدایت، جو درحقیقت طاغوت کے آستانے کے مجاور، ملتِ ابراہیمی کے نہاں دشمن، اور امتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے در پردہ خائن ہیں۔ ان کے دلوں پر وطن پرستی کا پردۂ غفلت اس درجہ دبیز ہو چکا ہے کہ انہیں کعبہ کی اذان سنائی نہیں دیتی، اور ان کی زبان پر لا إله إلا الوطن کا خناس جاری و ساری ہے۔
لعنت ہو اس تعصب پر، جو لباسِ علم و تقویٰ میں چھپ کر شریعت کو پامال کرتا ہے، اور صد آفریں اس نگاہِ حق بین پر جو اس پردہ دری کے بعد بھی حق کو پہچان لے۔