محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,088
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
الله تعالی نے یہودی اور عیسائیوں کا ذبح کیا ہوا جانور حلال قرار دیا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
اليوم أحل لكم الطيبات وطعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم (المائدة: 5)
’’آج تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور ان لوگوں کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے جنہیں کتاب دی گئی اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے۔‘‘
ليكن علماء كرام نے قرآن وسنت کی دیگر نصوص کو مد نظر رکھتے ہوئے یہودی اور عیسائی کے ذبح کیے ہوئے جانور کو دو شرطوں كے ساتھ حلال قرار ديا ہے:
1- وه ذبح كرنے کے اسلامی طریقہ کو اپنائے یعنی جانورکے حلق اور رگيں كاٹے اور خون بہائے۔ اگر وہ گلا گھونٹ كر يا اليكٹرك شاك لگا كر يا پانى ميں ڈبو كر جانور كو قتل كردے تو وه حلال نہيں ہو گا۔ اگر كوئی مسلمان شخص بھى كسی جانور کو ایسے قتل کرے گا تو وہ بھی حلال نہیں ہو گا۔
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ)) (صحيح البخاري، الذبائح والصيد: 5509، صحيح مسلم، الأضاحي: 1968)
’’جو چیز خون بہادے اور جس (جانور) پر اللہ کا نام لیا گیا ہواسے کھاسکتے ہو۔‘‘
2- وہ یہودی یا عیسائی ذبح کرتے وقت اس جانور پر غير اللہ كا نام ذكر نہ كرے، یعنی عیسی علیہ السلام يا كسى اور كا نام نہ لے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ (الأنعام: 121)
’’اور اس میں سے مت کھاؤجس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا۔‘‘
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ (البقرة: 173 )
’’اس نے تو تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز حرام کی ہے جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے۔‘‘
((سَمُّوا اللَّهَ عَلَيْهِ وَكُلُوهُ (((صحيح البخاري، البيوع: 2057)
’’تم بسم اللہ پڑھ كا كھا لو‘‘۔
ارشاد باری تعالی ہے:
اليوم أحل لكم الطيبات وطعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم (المائدة: 5)
’’آج تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور ان لوگوں کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے جنہیں کتاب دی گئی اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے۔‘‘
ليكن علماء كرام نے قرآن وسنت کی دیگر نصوص کو مد نظر رکھتے ہوئے یہودی اور عیسائی کے ذبح کیے ہوئے جانور کو دو شرطوں كے ساتھ حلال قرار ديا ہے:
1- وه ذبح كرنے کے اسلامی طریقہ کو اپنائے یعنی جانورکے حلق اور رگيں كاٹے اور خون بہائے۔ اگر وہ گلا گھونٹ كر يا اليكٹرك شاك لگا كر يا پانى ميں ڈبو كر جانور كو قتل كردے تو وه حلال نہيں ہو گا۔ اگر كوئی مسلمان شخص بھى كسی جانور کو ایسے قتل کرے گا تو وہ بھی حلال نہیں ہو گا۔
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ)) (صحيح البخاري، الذبائح والصيد: 5509، صحيح مسلم، الأضاحي: 1968)
’’جو چیز خون بہادے اور جس (جانور) پر اللہ کا نام لیا گیا ہواسے کھاسکتے ہو۔‘‘
2- وہ یہودی یا عیسائی ذبح کرتے وقت اس جانور پر غير اللہ كا نام ذكر نہ كرے، یعنی عیسی علیہ السلام يا كسى اور كا نام نہ لے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ (الأنعام: 121)
’’اور اس میں سے مت کھاؤجس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا۔‘‘
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ (البقرة: 173 )
’’اس نے تو تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز حرام کی ہے جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے۔‘‘
- اگر کوئی مسلمان ،كوئی عیسائی یا یہودی جانور ذبح كرے اور اس بات کا علم نہ ہو سكے كہ آيا اس نے بسم اللہ پڑھى ہے يا نہيں تو اسے كھانا جائز ہے، ليكن كھانے والا بسم اللہ پڑھ لے۔
((سَمُّوا اللَّهَ عَلَيْهِ وَكُلُوهُ (((صحيح البخاري، البيوع: 2057)
’’تم بسم اللہ پڑھ كا كھا لو‘‘۔
- مندرجہ بالا کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر کوئی یہودی یا عیسائی مذکورہ شرطوں کا لحاظ کرتے ہوئے جانور ذبح کرتا ہے تو وہ حلال ہےاور اسے کھاناجائز ہے۔