• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دینی علم سیکھنے کا آسان طریقہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
801
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
دینی علم سیکھنے کا آسان طریقہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

علامہ صالح بن عبدالعزيز بن محمد آل الشيخ فرماتے ہیں :

ذكرت لكم عدة مرات، لو كل يوم تأخذ تفسير آية واحدة فقط وحديث وشرحه، ومسألة فقهية واحدة ، فقط ثلاث في اليوم، اجتمع عندك في السنة كم؟ تفسير ثلاثمائة وستين آية، وتفسير ثلاثمائة وستين حديثا في سنة، وثلاثمائة وستين مسألة فقهية.

میں نے آپ سے کئی بار ذکر کیا ہے کہ اگر آپ روزانہ صرف ایک آیت کا تفسیر کے ساتھ مطالعہ کریں، ایک حدیث اور اس کی شرح پڑھیں، اور ایک فقہی مسئلہ سیکھیں یعنی دن میں صرف تین چیزیں تو ایک سال میں آپ کے پاس کتنی معلومات جمع ہو جائیں گی؟ تین سو ساٹھ آیات کی تفسیر، تین سو ساٹھ احادیث کی شرح، اور تین سو ساٹھ فقہی مسائل۔

هذه ما تكلف مسألة آية حديث، لكن أين القلب الذي يقوى ؟ هي ما تكلف لو مسألة واحدة فقط تنمو، كيف؟ خمس سنين، عشر سنين، تصبح طالب علم ؛ فقد تكون المعلومات قليلة لكن تكون راسخا ؛ لأنك عرفت تفسير الآية بوضوحها وفهمت دلالاتها ، الحديث حفظت متنه أو كررت متنه حتى استظهرته ومعنى ما فيه ثم مسألة فقهية وكلام العلماء عليها ، تنمو مع الزمن .

یہ کوئی بڑا بوجھ نہیں، صرف ایک آیت، ایک حدیث، اور ایک مسئلہ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ دل کہاں ہے جو اس محنت کو برداشت کر سکے؟ اگر کوئی شخص روزانہ صرف ایک مسئلہ ہی سیکھے، تو بھی وہ ترقی کرتا ہے۔ کیسے؟ پانچ سال، دس سال، تو وہ ایک پختہ طالب علم بن جاتا ہے۔ معلومات اگرچہ تھوڑی ہوں، مگر مضبوط بنیاد پر ہوں، کیونکہ اُس نے آیت کی تفسیر کو اچھی طرح سمجھا، اس کے دلائل کو جانا، حدیث کو یاد کیا یا بار بار دہرا کر ذہن نشین کیا، اس کے مفہوم کو سمجھا، اور فقہی مسئلہ کو علما کے اقوال کے ساتھ پڑھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ ترقی کرتا جاتا ہے۔

لهذا إذا ما استطعت أن تكثر فألزم نفسك بالقليل، وأحب العمل إلى الله أدومه وإن قل . وإن قل لكن داوم على شيء معين لابد، لا يمر يوم ما بحثت فيه مسألة مهما كان عندك من العمل والشغل، مثل ورد القرآن الذي تقرؤه لا يمر يوم إلا بحثت مسألة تبحث مسألة وتتتبع كلام أهل العلم فيها ، خاصة في مسائل التوحيد والعقيدة والعلم بكتاب الله وسنة رسوله والفقه . هذه هي المسائل المهمة.

اسی لیے اگر آپ کثرت نہیں کر سکتے تو خود کو تھوڑی مقدار پر پابند کریں۔ اللہ کو سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔ تھوڑا ہی سہی، مگر کسی ایک چیز پر پابندی ضروری ہے۔ کوئی دن ایسا نہ گزرے جس میں آپ نے کوئی علمی مسئلہ تلاش نہ کیا ہو، چاہے آپ کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں۔ جیسے آپ روزانہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، ویسے ہی کوئی دن ایسا نہ ہو جس میں آپ نے کوئی مسئلہ نہ پڑھا ہو۔ کسی مسئلے کو تلاش کریں اور اہلِ علم کی آرا کو اس پر پڑھیں، خاص طور پر توحید، عقیدہ، قرآن و سنت کا علم، اور فقہ کے مسائل میں۔ یہی سب سے اہم مسائل ہیں۔


[ الأجوبة والبحوث والمدارسات المشتملة عليها الدروس العلمية، ج : ٥، ص : ٣٠٣-٣٠٤]

IMG_20250523_165934_120.jpg

IMG_20250523_165115.jpg

1. معمولی عمل کا تسلسل ایک عظیم علم کا ذخیرہ بن سکتا ہے : اگر کوئی شخص روزانہ صرف ایک آیت، ایک حدیث اور ایک فقہی مسئلہ سیکھنے کو معمول بنا لے تو اس کے پاس سال کے آخر میں ٣٦٠ آیات کی تفسیر، ٣٦٠ احادیث کا فہم، اور ٣٦٠ فقہی مسائل کا علم جمع ہو جائے گا۔ یہ بتاتا ہے کہ علم کا حصول کثرتِ مطالعہ پر نہیں بلکہ استقلال اور تدریج پر موقوف ہے۔ جیسے قطرہ قطرہ پانی ایک دریا بناتا ہے، ویسے ہی تھوڑا تھوڑا علم انسان کو عالمِ راسخ بناتا ہے۔

2. اصل رکاوٹ دل کی کمزوری ہے، وقت یا وسائل کی کمی نہیں : یہ کام نہ تو وقت طلب ہے، نہ ہی مالی وسائل کا محتاج، اصل سوال یہ ہے کہ کیا دل میں اتنی قوت، صدق، اور لگن ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سستی اور بے دلی ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جو شخص اخلاصِ نیت اور عزیمتِ قلبی سے طلبِ علم کا راستہ اپناتا ہے، اللہ اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے۔

3. قلیل علم بھی انسان کو راسخ اور گہرا عالم بنا سکتا ہے : علم کی زیادتی سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ علم راسخ ہو، دل و دماغ میں پیوست ہو، اور عمل میں جھلکے۔ اگرچہ معلومات کی مقدار کم ہو، مگر وہ واضح فہم، مضبوط حفظ، اور اہل علم کی آرا کے ساتھ مربوط ہو تو وہ انسان کو راسخ العلم بنا دیتی ہے۔ یہ اس بات کی طرف دعوت ہے کہ کیفیت کو اہمیت دو، نہ کہ صرف مقدار کو۔

4. علم وقت کے ساتھ نشوونما پاتا ہے، شرط یہ ہے کہ انسان ثابت قدم رہے : علم ایک درخت کی مانند ہے جسے وقت، محنت، اور صبر کے پانی سے سینچا جاتا ہے۔ وہ فوراً پھل نہیں دیتا، مگر جو شخص مستقل مزاجی کے ساتھ علم کا بیج بوتا ہے، وہ چند برسوں بعد اس کا سایہ دار اور بارآور درخت دیکھتا ہے۔

5. اگر کثرت ممکن نہ ہو تو قلت پر پابندی لازم ہے : علم میں ترقی کے لیے یہ ضروری نہیں کہ انسان روز کئی گھنٹے لگائے؛ اگر وہ تھوڑی مقدار ہی پر پابندی اختیار کر لے، تو وہی اسے بلندی تک پہنچا سکتی ہے۔ اصل مطلوب "دوام" ہے، نہ کہ "کثرت"۔

6. اللہ تعالیٰ کو وہ عمل پسند ہے جو مستقل ہو، چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو : یہ ایک عظیم قاعدہ ہے جس پر علم، عبادت، اور سلوک کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے: دائمی عمل، ولو قلیل۔ کیونکہ یہ دل کی زندگی، ارادے کی پختگی، اور نیت کی اخلاص کی علامت ہوتا ہے۔

7. علم کا روزمرہ ورد قائم رکھو، جیسے قرآن کا ورد ہوتا ہے : جس طرح ایک مومن روزانہ قرآن کی تلاوت کو ترک نہیں کرتا، اسی طرح وہ ہر روز کوئی علمی مسئلہ بھی تلاش کرے، اس پر غور کرے، علما کی آرا پڑھے۔ یہ علم کی طلب کو روزانہ کی عبادت کا درجہ دینے کی دعوت ہے۔

8. توحید، عقیدہ، کتاب اللہ اور سنت کے مسائل سب سے اہم ہیں : علم کی دنیا وسیع ہے، مگر اس میں اصل سرمائے توحید، ایمان، قرآن، سنت اور فقہ کے مسائل ہیں۔ انہی پر علم دین کی بنیاد کھڑی ہے۔ جو ان میں راسخ ہو گیا، وہ دین میں راسخ ہو گیا۔
 
Top