ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 847
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
سیاہ لباس زیادہ پہنا کرو
از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سیاہ لباس زیادہ پہنا کرو، یہ سب سے خوبصورت بھی ہے سنت بھی ہے ، اور غلاف کعبہ اور اسلام کا پرچم بھی سیاہ ہے۔
❁ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیاہ لباس پہننا
عن عائشۃ رضی اللہ عنہا، قالت: "صنعت لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بُردۃ سوداء فلبسہا"
(ابو داود، احمد)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سیاہ چادر بنائی تو آپ نے اس کو پہنا۔
"بردہ ایسی چادر ہوتی ہے جو سارے جسم کو آ جاتی ہے، شلوار قمیض کی طرح۔"
جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ، "دخلَ النَّبیُّ صلی اللہ علیہ وسلم مَکَّۃَ یومَ الفتحِ وعلیہِ عمامۃٌ سوداء"
(مسلم)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے اور آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا۔
عمرو بن حریث، عن أبیہ، قال: "رأیتُ النبی صلی اللہ علیہ وسلم یخطب علی المنبر وعلیہ عمامۃٌ سوداء"
(مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی)
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
❁ صحابہ و اہل بیت کا سیاہ لباس پہننا
عاصم عن أبی رزین، قال: "خطبنا الحسن بن علی، وعلیہ ثیاب سود وعمامۃ سوداء"
(سیر اعلام النبلاء)
عاصم، ابی رزین سے روایت کرتے ہیں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور آپ نے سیاہ کپڑے پہنے تھے اور سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا۔
اور سیاہ لباس پہننے والوں میں کئی لوگ شامل تھے، جیسے علی رضی اللہ عنہ جس دن عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، انہوں نے سیاہ لباس پہنا ہوا تھا۔
اسی طرح حسن رضی اللہ عنہ خطبہ دیتے وقت سیاہ کپڑے اور سیاہ عمامہ باندھتے تھے۔
ابن زبیر رضی اللہ عنہ بھی سیاہ عمامہ میں خطبہ دیتے تھے۔
معاویہ نے بھی سیاہ عمامہ، سیاہ جبہ پہنا کرتے تھے۔
انس، عبداللہ بن حذاء، اور عمار ہر جمعہ کو کوفہ میں خطبہ دیتے تھے جب امیر تھے، اور ان کے سر پر سیاہ عمامہ ہوتا تھا۔
ابن مسیب بھی دونوں عیدوں میں سیاہ لباس پہنا کرتے تھے۔
(جمع الوسائل فی شرح الشمائل)
❁ صحابیات کا سیاہ لباس پہننا
قالت: "لما نزلت {یدنین علیھن من جلابیبھن} خرج نساء الأنصار کأن علی رؤوسھن الغربان من الأکسیۃ"
(ابو داود)
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت کریمہ "یدنین علیھن من جلابیبھن" نازل ہوئی تو انصار کی عورتیں نکلتیں تو سیاہ چادروں کی وجہ سے ایسا لگتا گویا ان کے سروں پر کوے بیٹھے ہوئے ہیں۔
❁ تابعین کا سیاہ لباس پہننا
ابو عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے عطاء بن یزید لیثی رحمہ اللہ کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہیں، انہوں نے سیاہ رنگ کا عمامہ باندھا ہوا تھا اور اس کا ایک کنارہ پیچھے لٹکا ہوا تھا اور ان کی ڈاڑھی زرد ہو رہی تھی۔
(احمد)
ابن مسیب رحمہ اللہ دونوں عیدوں میں سیاہ لباس پہنا کرتے تھے۔
(جمع الوسائل فی شرح الشمائل)
❁ موجودہ دور کے علماء و مجتہدین اور مجاہدین کا سیاہ لباس پہننا اور سیاہ عمامے باندھنا
اس دور کے مجتہد عالم دین الشیخ أحمد فضیل نزال الخلالیلۃ ایک تاریخی موقع پر جب امریکی کو ذبح کرنے کے لیے نمودار ہوئے تو اس نے اور اس کے تمام ساتھیوں نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا۔
اسی طرح شیخ جب اپنے اہم ترین بیان "ھٰذا بیان للناس" کے لیے ویڈیو میں نمودار ہوئے تو بھی اس نے سیاہ لباس اور سیاہ عمامہ پہن رکھا تھا۔
اسی طرح جب وہ الانبار کے صحراء میں نمودار ہوئے تو بھی اس نے اور تمام محافظین اور ساتھیوں نے سیاہ لباس پہنا ہوا تھا۔
ایک اور تصویر جس میں وہ عمر حدید کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، وہاں بھی انہوں نے سیاہ لباس پہنا ہوا ہے۔
ایک اور تصویر جس میں وہ ایک شہید کو بوسہ دے رہے ہیں، اس میں بھی انہوں نے سیاہ لباس پہنا ہوا ہے۔
ابراہیم بن عواد البدری الحسینی الہاشمی القریشی جو سامراء کے سادات علماء و فضلائے خاندان سے عالم دین اور فقہ و قرأت میں ماہر اور سند یافتہ تھے، اور متعدد مسائل کی تجدید کی وجہ سے اس دور کے مجدد اور مجتہد بھی کہلائے جاتے ہیں، بعد ازاں مشرق و مغرب میں معروف ہوئے اور ان کے خطبات کے درجنوں زبانوں میں تراجم ہوئے۔ شیخ ابراہیم جب موصل میں تاریخی خطبے کے لیے منبر پر نمودار ہوئے تو آپ نے سیاہ لباس اور سیاہ عمامہ پہنا ہوا تھا۔
بعد میں جب وہ ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے تو وہاں بھی انہوں نے ہلکے سیاہ رنگ کا لباس اور گہرے سیاہ رنگ کا عمامہ سر پر ڈالا ہوا تھا۔
شام کے چوٹی کے عالم دین، حافظ، فقیہ، ماہر لغت، فصاحت و بلاغت کے لیے معروف اور اس دور کے سرکردہ علماء میں شمار ہونے والے صبحی فلاحہ الشامی جب تاریخی موقع پر شام و عراق کے مابین قائم سرحد مٹانے کے لیے نمودار ہوئے تو آپ نے سیاہ لباس اور سیاہ ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔
اس سے قبل وہ ایک اور ویڈیو میں خطاب کرتے ہوئے نمودار ہوئے ہیں تو بھی اس نے سیاہ لباس اور سیاہ عمامہ باندھا ہوا ہے۔
جبکہ ایک اور تصویر میں وہ سیاہ لباس اور سیاہ ٹوپی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔
سعودی عرب کے معروف عالم دین اور قائد، جنہوں نے جہاد اور اسلامی سرزمینوں کی حفاظت سے متعلق اپنے بیانات اور خطبات کے لیے شہرت حاصل کی، اور 1996 میں امریکی اتحاد کے خلاف تاریخی فتوے کے موجد تھے۔ بعد ازاں 11 ستمبر کے واقعے کے بعد عالمی طور پر معروف ہوئے۔ اسامہ بن محمد 11 ستمبر کے واقعے پر گفتگو کرنے کے لیے ہلکے سیاہ لباس میں نمودار ہوئے جب وہ ایک پہاڑی علاقے میں موجود تھے۔ بعد ازاں ایک اور تصویر میں اس نے ہلکا سیاہ لباس اور سفید ٹوپی پہنی ہوئی ہے جب وہ اپنے ساتھیوں سے خطاب کر رہے ہیں۔
وما علینا إلا البلاغ