ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 810
- ری ایکشن اسکور
- 224
- پوائنٹ
- 111
جنسی معاملات سے متعلق عوامی غلط فہمیاں
از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ
❁ بعض کم علم معاشروں میں یہ مشہور ہے کہ عورت کی پہلی رات ہمبستری کے بعد خون ضرور نکلنا چاہئے ورنہ وہ باکرہ نہیں اور اس نے پہلے بھی کسی کے ساتھ ہمبستری کی ہوئی ہے۔
یہ ایک احمقانہ نظریہ ہے جس کی نہ صرف شریعت میں اصل نہیں بلکہ سائنسی طور پر بھی مکمل غلط ہے، عورتوں کی شرم گاہ کا وہ پردہ جس کے ٹوٹنے پر خون نکلنے کا نظریہ پایا جاتا ہے کچھ عورتوں میں بچپن سے انتہائی نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، ان کا خون نہیں نکلتا، کچھ عورتوں میں لچک دار ہونے کی وجہ سے خون نہیں نکلتا، کچھ عورتوں کا پہلے سے سائیکل چلاتے، کوئی کھیل کھیلتے، کسی اچھل کود کرتے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ ایسی عورتوں کا بھی خون نہیں نکلتا۔
اس لئے اس جاہلانہ معاشرتی نظریے کی کوئی حیثیت نہیں۔
❁ بعض معاشروں میں یہ مشہور ہے کہ فعلِ قومِ لوط کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور بعض کے مطابق اس کا غسل نہیں ہوتا اور زندگی بھر جنبی رہتا ہے وغیرہ۔
یہ تمام بے اصل باتیں ہیں، فعلِ قومِ لوط کرنے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور غسل کرنے سے غسل بھی ہو جاتا ہے، البتہ یہ انتہائی سخت گناہ ہے یہاں تک کہ اس گناہ والی قوم کو اللہ تعالیٰ نے انتہائی سخت سزا دی اور ان کو قرآن میں انتہائی گھٹیا اور بدترین قوم کہا ہے۔
❁ کنڈوم استعمال کرنا جائز ہے کیونکہ یہ عزل کی ایک صورت ہے، البتہ حمل ٹھہرنے کے بعد اس کو ضائع کرنا جائز نہیں۔
❁ بیوی کا تمام جسم اور اس سے لطف اٹھانا اس کے شوہر کے لئے حلال ہے، سوائے دُبر میں جماع کرنے کے کیونکہ اکثر کے نزدیک یہ حرام ہے۔
❁ اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح جائز ہے جس میں یہودی اور عیسائی (تینوں فرقے: کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور آرتھوڈکس) شامل ہیں۔