• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قومیت کا فریب

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
801
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
قومیت کا فریب

بسم الله الرحمن الرحيم

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو طاقتور اور غالب ہے ، ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں، اس سے مغفرت مانگتے ہیں اور اپنے نفس کے شر اور اپنے برے اعمال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اور رحمتیں اور سلامتی ہو اس ہستی پر جسے تلوار کے ساتھ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ جسے اللہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

اما بعد

اللہ تعالی فرماتے ہیں: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا [سوره آل عمران : ۱۰۳]

ترجمہ: "اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقہ نہ ڈالو۔"

امت مسلمہ کبھی ایک زندہ قوم تھی۔ اگر مشرق میں کسی مسلمان پر ظلم ہوتا تو مغرب کا کوئی دوسرا مسلمان اس کے درد کو محسوس کرتا اور اپنے مسلمان بھائی کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوتا۔ وہ مسلمان جس کے لیے اس کا مسلمان بھائی خود سے بھی زیادہ عزیز تھا، وہ مسلمان جو تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ دنیا کے کسی کونے میں اس کی پاک دامن بہن کی بے حرمتی ہو اور اگر ایسا کبھی ہوا، تو وہ انتقام لینے کے لیے بے چین ہو جاتا۔ لیکن اللہ کی قسم، یہ اوصاف اب مسلمانوں میں نہیں رہے، اب وہ ایک مردہ قوم بن چکے ہیں، بلکہ ایک ایسا جسم جو ایک بیرونی طفیلئے کے زیر اثر ہے، نہ مردہ نہ زندہ، بس ایک طفیلئیے کی طرح کنٹرول میں ہے۔ اب انہیں مسلم اُمت کی کوئی پرواہ نہیں رہی۔ انہیں یہ احساس نہیں کہ کافروں کا قانون اللہ کی زمین پر نافذ ہے۔ ان کا ضمیر مر چکا ہے۔

اس حالت کے پیچھے ایک اہم وجہ یہ ہے کہ مسلمان ایک امام کی اطاعت پر متحد نہیں ہیں۔ وہ مختلف قوموں، جماعتوں، تنظیموں اور گروپوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ جہاں ہر فرقہ خود کو حق پر سمجھتا ہے اور ساتھ ساتھ تقسیم کی طرف بلاتا ہے۔ مسلم اُمت کی تمام قوت اس تقسیم کی وجہ سے ضائع ہو چکی ہے اور ہمارے قیمتی وسائل آپس کی لڑائی میں برباد ہو رہے ہیں۔

اسلام کے مکمل ہونے سے لے کر اب تک امت مسلمہ پر بہت سے فتنے اور اللہ کے دشموں کی طرف سے بہت سی سازشیں ہوئیں ہیں۔ مگر ان سب فتنوں میں قومیت کا فتنہ سب سے خطرناک ہے۔ قومیت ایک ایسا فتنہ ہے جس نے امت مسلمہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اسلام ہمیں وحدت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے، لیکن قوم پرستی نے مسلمانوں کے درمیان خلیج پیدا کر دی ہے۔ مختلف قوموں اور علاقوں کی بنیاد پر مسلمانوں کو تقسیم کر دیا گیا ہے، جس سے اسلامی اتحاد بکھر گیا ہے۔ قومیت نے امت کے مشترکہ مقصد کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفادات کو فروغ دیا ہے، جس کے نتیجے میں دشمنان اسلام کو ہماری صفوں میں دراڑیں ڈالنے کا موقع ملا۔ یہ انتشار ہمیں کمزور اور فرقہ واریت میں مبتلا کر چکا ہے۔

کتنے مسلمان ہیں جو اپنے بھائیوں اور بہنوں کے دور دراز ملکوں میں ہونے والے ظلم و ستم کی آواز پر لبیک کہتے ہیں؟ کتنی نام نہاد مسلمان قومیں ہیں جو مظلوموں کی مدد نہ کرنے کے لیے اپنے "قومی مفاد " کو بہانہ بناتی ہیں اور دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے ہاتھ کفار کی مقرر کردہ سرحدوں کی وجہ سے بندھے ہوئے ہیں؟ اور کتنے مسلمان ہیں جو " قوم پرستی" اور "علاقائیت " کی چادر میں چھپے ہوئے شرک سے بے خبر ہیں؟ استغفر اللہ ! اللہ ہمیں ہر قسم کے شرک سے محفوظ رکھے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور اللہ ہی عبادت کے لائق ہے۔

یہ لکھنے کا مقصد اس پوشیدہ شرک کے بارے میں آگاہی پھیلانا ہے، جس نے مسلمانوں کی عزت کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور انہیں ذلت و استحصال میں دھکیل دیا ہے۔ جہاں نام نہاد "مسلم رہنما" کفار کے سامنے بزدل اور کتے بن چکے ہیں جو انہیں کنڑول کر رہے ہیں۔
،
اللہ تعالی فرماتا ہے: وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّىٰ يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا [سوره البقره: ۲۱۷]

ترجمہ: "اور وہ تم سے لڑتے رہیں گے جب تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر نہ دیں، اگر ان کے لیے ممکن ہو۔"

اس آیت میں اللہ ہمیں کافروں کے شر کے منصوبوں سے واضح طور پر آگاہ کرتا ہے، چاہے وہ عیسائی ہوں، یہودی ہوں یا ملحد۔ یہ سب ہمیشہ کسی نہ کسی طرح دیندار مسلمانوں کو ان کے دین سے دور کرنے کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔ کبھی وہ فحاشی اور بے ہودگی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو زنا میں مشغول کر سکیں، تاکہ وہ اپنے فرائض سے غافل ہو جائیں، اور کبھی وہ مسلمانوں کو موسیقی یا دیگر وقت ضائع کرنے والی تفریحی سرگرمیوں اور قوانین میں مشغول کر دیتے ہیں جو انہیں ان کے رب کے احکام سے دور کر دیتے ہیں۔ اللہ ان سب کو ہدایت عطا فرمائے۔ جو ان منصوبوں کا شکار ہو گئے ہیں۔

جب یہ تمام کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں، تو وہ مسلمانوں میں اندرونی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ مسلمان متحد ہو کر مضبوط ہو جائیں گے اور یہی بات انہیں فکر میں مبتلا کرتی ہے۔ چنانچہ، وہ مسلمانوں کے دلوں میں قوم پرستی کا زہر ڈالنے لگتے ہیں، جس سے وہ ایک دوسرے کے خلاف ہو جاتے ہیں، جہاں یہ بد قسمت مسلمان اپنے بھائیوں کے ساتھ رنگ، نسل اور زبان کی بنیاد پر نسل پرستی کرتے ہیں۔ استغفر اللہ !

آج مسلمانوں میں جو ہم تقسیم دیکھ رہے ہیں، جو نسل اور قوم پرستی کی بنیاد پر ہیں، یہ دراصل کافروں اور منافقوں کی جانب سے بچھایا گیا جال ہے۔ کیونکہ وہ امت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کو نسلی یا قومی شناخت کے گرد جمع ہونے کی ترغیب دے کر، وہ ہمیں اس جاہلانہ قبائلی نظام میں واپس لے جاتے ہیں جس کا شکار اسلام سے پہلے کی قومیں ہوئیں تھیں۔ وہی قومیں جو اللہ کے غضب کا شکار ہوئیں اور نئی اور بہتر قوموں سے بدل دی گئیں۔ البتہ اسلام نے ایسے رسوم و رواج کا خاتمہ کیا اور اس کی بجائے ایک ایسا نظام متعارف کروایا جو لوگوں کو صرف اللہ پر ایمان کی بنیاد پر متحد کرتا ہے۔ اس الہی نظام میں نسل، قومیت یا نژاد کی بنیاد پر تفریق غیر اہم تھی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا کہ نہ تو کسی عرب کو غیر عرب پر فوقیت حاصل ہے، اور نہ ہی کسی سفید کو سیاہ پر، سوائے تقویٰ اور نیکی کے۔ اسلام نے انسانیت کو صرف دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ ایمان والے اور کافر جس سے نسل پرستی اور قوم پرستی پیدا کرنے والی سوچوں کا خاتمہ ہوا۔

افسوس، آج کی دنیا، جو اسلام کے دشمنوں کے زیر اثر ہے، اس تقسیم پرستی کی ذہنیت کو دوبارہ اپناتی نظر آرہی ہے، جس سے امت مسلمہ کی طاقت کمزور ہو رہی ہے۔ ایمان کی بجائے، بہت سے مسلمان دنیاوی آسائشوں پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ خود کو پاکستانی، افغان، سعودی، یا عراقی و غیره کے طور پر شناخت کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کا عقیدہ مشترک ہے، پھر بھی وہ ایک دوسرے کے خلاف عداوت ظاہر کرتے ہیں، "قومی مفادات " کو اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کے دکھوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ جب ہمارے بھائی اور بہنیں ظلم کا شکار ہوتے ہیں تو عذر پیش کیے جاتے ہیں جیسے "یہ ان کا مسئلہ ہے" یا "وہ دوسرے ملک کے ہیں"۔ ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور اللہ کے احکام کو بھلا دیا ہو۔

ان کے دل سخت ہو چکے ہیں، قومیت کے اندھیروں میں دھندلا گئے ہیں۔ یہ ایک ایسا شرک ہے جسے اتنا معمولی سمجھا جانے لگا ہے کہ اب وہ اس کی شدت کو پہچان بھی نہیں پاتے۔ ہم انہیں یاد دلاتے ہیں کہ ان کا فرض ہے کہ وہ ایمان کے ایک ہی پرچم تلے متحد ہوں اور فتنہ پھیلانے والوں کی تقسیم کی سازشوں کے خلاف مزاحمت کریں۔ یہ صرف الگ الگ گروہوں یا چند افراد کا معاملہ نہیں ہے؛ یہ ایک وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی صورت حال ہے، اگر ہم ان سب کا الگ الگ جائزہ لیں تو ہزاروں صفحات بھر جائیں گے اور پھر بھی یہ کافی نہیں ہوگا۔ ۔

اس لیے ہم ان نام نہاد "قوم پرستی کے داعیوں" کو بے نقاب کریں گے خاص طور پر پاکستان میں، جہاں قومیت کو پہلے ہی کمزور مسلمانوں کو توڑنے کے لیے ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہم نے اس خطے میں ایک گہرائی سے پریشان کن رجحان دیکھا ہے، جہاں نہ صرف مرتدین کے غلام "افغان" اور " پاکستانی" مسلمانوں کے درمیان امتیاز کرتے ہیں، بلکہ اب کچھ جاہل مسلمان بھی نسل کی بنیاد پر الگ الگ زمینوں کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔ چاہے وہ پشتون ہوں، پنجابی ہوں یا بلوچ۔ وہ اپنے اسلامی بندھن کو بھول رہے ہیں اور قبائلی شناخت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات اور اللہ کی نگاہ میں صحیح کون ہے، اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ تمام اعمال قومی تحریکوں کے پیدا کردہ ہیں جو ابھی بھی جہالت کا ڈھول پیٹ رہے ہیں، خاص طور پر بلوچ علیحدگی پسند گروہ، پشتون تحریکیں، اور اس علاقے کی طاغوتی حکومتیں، جو مزید تقسیم اور اختلاف کو بڑھا رہی ہیں۔

لہذا، یہ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس جال کو پہچانیں اور اللہ کی طرف لوٹیں قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے۔ ان قومی تحریکوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے، ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ وہ دنیاوی تقسیم سے بڑھ کر ایمان کے بندھن کو مضبوط کریں اور امت کی طاقت کو بحال کریں، لیکن پہلے ہمیں اپنے دشمن کو سمجھنا ہوگا تاکہ ہم ان کا کا صحیح سے سامنا کر سکیں۔
 
Top