ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 927
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
عشرۂ ذو الحجہ افضل ہے یا عشرۂ رمضان؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
وَسُئِلَ: عَنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ وَالْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ. أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ عشرہ ذو الحجہ اَفضل ہے یا رمضان المبارک کا آخری عشرہ؟
فَأَجَابَ: أَيَّامُ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ أَفْضَلُ مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ مِنْ رَمَضَانَ وَاللَّيَالِي الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ مِنْ رَمَضَانَ أَفْضَلُ مِنْ لَيَالِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ.
تو انہوں نے فرمایا : ذو الحجہ کے پہلے عشرے کے دن رمضان کے آخری عشرے سے اَفضل ہیں اور راتیں رمضان کے عشرے کی اَفضل ہیں۔
قَالَ ابْنُ الْقَيِّمُ: وَإِذَا تَأَمَّلَ الْفَاضِلُ اللَّبِيبُ هَذَا الْجَوَابَ. وَجَدَهُ شَافِيًا كَافِيًا فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ فِيهَا أَحَبُّ إلَى اللَّهِ مِنْ أَيَّامِ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ وَفِيهَا: يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَيَوْمُ التَّرْوِيَةِ. وَأَمَّا لَيَالِي عَشْرِ رَمَضَانَ فَهِيَ لَيَالِي الْإِحْيَاءِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْيِيهَا كُلَّهَا وَفِيهَا لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ.
اس پر حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اگر کوئی سمجھدار فاضل اس جواب پر غور کرے گا تو اسے کافی وشافی پائے گا کیونکہ جتنا کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں میں پسند ہے، اتنا کسی دن میں پسند نہیں۔ پھر انہیں اَیام میں یومِ عرفہ، یومِ نحر اور یومِ ترویہ ہے۔ جبکہ عشرۂ رمضان کی راتیں وہ ہیں کہ جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار رہا کرتے اور ان میں ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
[مجموع الفتاوى، ج : ٢٥، ص : ٢٨٧]
قال الشيخ ناصر بن حمد الفهد (ص ٢٠٣): هذا السؤال، والجواب، والتعليق، ذكره ابن القيم رحمه الله في (بدائع الفوائد) ٣/ ١٦٢.
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے رات اور دن کی افضلیت کو علیحدہ پیمانے پر پرکھ کر یہ فرمایا: "أَيَّامُ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ أَفْضَلُ مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ مِنْ رَمَضَانَ وَاللَّيَالِي الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ مِنْ رَمَضَانَ أَفْضَلُ مِنْ لَيَالِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ."
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کلام اس بنیاد پر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دنوں کی فضیلت اور راتوں کی فضیلت کو جداگانہ حیثیت حاصل ہے۔
ذو الحجہ کے دن: اِن میں عرفہ، نحر اور ترویہ جیسے دن شامل ہیں جن میں حج، قربانی، تلبیہ، دعا، ذکر، روزہ، جہاد، صدقہ، اور دیگر بڑے اعمال شامل ہیں۔
رمضان کی راتیں: بالخصوص آخری عشرہ کی راتیں، جن میں لیلۃ القدر جیسی عظیم رات آتی ہے، جس کا عمل ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ان راتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود کو عبادت میں مشغول کر لیتے، اہلِ خانہ کو جگاتے اور پوری رات جاگتے۔