محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,058
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
چاشت (اشراق) کی نماز پڑھنا اور اس پر ہمیشگی کرنا فضیلت والا عمل ہے۔
اس کا وقت سورج نکلنے کے پندرہ منٹ بعد سے لے کرظہر کے وقت سے تقریبا دس منٹ پہلے تک ہے، اوراس کا افضل ترین وقت تب ہے جب گرمی خوب ہو جائے (یہ وقت زوال سے کچھ دیر پہلے ہوتا ہے)۔
چاشت کی نماز کی کم ازکم رکعتیں دو ہیں، زیادہ کی کوئی تحدید نہیں ہے۔
معاذہ رحمہا اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا :
كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى قَالَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین وقصرها: 719)
’’رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز کتنی (رکعتیں) پڑھتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا چار رکعتیں اور جس قدر زیادہ پڑھنا چاہتے (پڑھ لیتے)۔ ‘‘
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل قبا ء کے ہاں تشریف لے گے، وہ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ)) (صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 748)
’’اوابین کی نماز اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤ ں جلنے کے وقت (پر ہوتی) ہے۔‘‘
اشراق کی نماز کی فضیلت کے بارے میں چند احادیث ذیل میں درج کی جاتی ہیں:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا يُحَافِظُ عَلَى صَلَاةِ الضُّحَى إِلَّا أَوَّابٌ» قَالَ: وَهِيَ صَلَاةُ الْأَوَّابِين (صحيح الجامع: 7628)
’’چاشت کی نماز کی حفاظت صرف وہ کرتا ہے جو بہت زیادہ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنےوالا ہوتا ہے، اور یہی صلاۃ الاوابین ہے۔‘‘
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنْ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنْ الضُّحَى (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین وقصرها: 720)
’’صبح کو تم میں سے ہر ایک شخص کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ ہوتا ہے۔ پس ہر ایک تَسْبِیْح ایک دفعہ (سُبْحَا نَ اللهِ) کہنا صدقہ ہے۔ ہر ایک تَحْمِیْد (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ) کہنا صدقہ ہے، ہر ایک تَہْلِیْل (لَااِلٰهَ اِلَّا الله) کہنا صدقہ ہے ہر ایک تکبیر (اَللهُ اَكْبَر) کہنا بھی صدقہ ہے۔ (کسی کو) نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور (کسی کو) برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اور ان تمام امور کی جگہ دو رکعتیں جو انسان چاشت کے وقت پڑھتا ہے کفایت کرتی ہیں۔‘‘
سيدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلى الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
فِي الْإِنْسَانِ سِتُّونَ وَثَلَاثُ مِائَةِ مَفْصِلٍ فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهَا صَدَقَةً قَالُوا فَمَنْ الَّذِي يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا أَوْ الشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنْ الطَّرِيقِ فَإِنْ لَمْ تَقْدِرْ فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُ عَنْكَ (مسند أحمد: 22998) (صحیح)
’’ہر انسان کے تین سوساٹھ جوڑہیں اورا س پرہرجوڑکی طرف سے صدقہ کرناضروری ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کی طاقت کس میں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر مسجد میں تھوک نظر آئے تو اس پر مٹی ڈال دوراستے میں تکلیف دہ چیز کوہٹادو اگر یہ سب نہ کرسکو تو چاشت کے وقت دورکعیتں تمہاری طرف سے کفایت کر جائیں گی۔‘‘
مذکورہ بالا احادیث چاشت یعنی اشراق کی نماز کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ یہ دو رکعتیں تین سو ساٹھ صدقے سے کفایت کر جاتی ہیں۔ اس لیے انسان کو اشراق کی کم ازکم دو رکعتیں باقاعدگی سے پڑھنی چاہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَا ابْنَ آدَمَ اكْفِنِي أَوَّلَ النَّهَارِ بِأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ أَكْفِكَ بِهِنَّ آخِرَ يَوْمِكَ (مسند أحمد: 17390) (صحیح)
’’ اے ابن آدم! دن کے پہلے حصے میں تو چار رکعت پڑھ کر میری کفایت کر، میں ان کی برکت سے دن کے آخرت تک تیری کفایت کروں گا۔‘‘
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ روانہ فرمایا وہ مال غنیمت حاصل کرکے بہت جلدی واپس آگئے لوگ ان کے مقام جہاد کے قرب، کثرت غنیمت اور جلدواپسی کے متعلق باتیں کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے زیادہ قریب کی جگہ کثرت غنیمت اور جلدواپسی کے متعلق نہ بتاؤں ؟
مَنْ تَوَضَّأَ ثُمَّ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ لِسُبْحَةِ الضُّحَى فَهُوَ أَقْرَبُ مَغْزًى وَأَكْثَرُ غَنِيمَةً وَأَوْشَكُ رَجْعَةً (مسند أحمد: 6638)
’’جو شخص وضو کرکے چاشت کی نماز کے لئے مسجد کی طرف روانہ ہو وہ اس سے بھی زیادہ قریب کی جگہ، کثرت غنیمت اور جلدواپسی والی ہے۔‘‘
والله أعلم بالصواب.
چاشت (اشراق) کی نماز پڑھنا اور اس پر ہمیشگی کرنا فضیلت والا عمل ہے۔
اس کا وقت سورج نکلنے کے پندرہ منٹ بعد سے لے کرظہر کے وقت سے تقریبا دس منٹ پہلے تک ہے، اوراس کا افضل ترین وقت تب ہے جب گرمی خوب ہو جائے (یہ وقت زوال سے کچھ دیر پہلے ہوتا ہے)۔
چاشت کی نماز کی کم ازکم رکعتیں دو ہیں، زیادہ کی کوئی تحدید نہیں ہے۔
معاذہ رحمہا اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا :
كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى قَالَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین وقصرها: 719)
’’رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز کتنی (رکعتیں) پڑھتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا چار رکعتیں اور جس قدر زیادہ پڑھنا چاہتے (پڑھ لیتے)۔ ‘‘
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل قبا ء کے ہاں تشریف لے گے، وہ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ)) (صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 748)
’’اوابین کی نماز اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤ ں جلنے کے وقت (پر ہوتی) ہے۔‘‘
اشراق کی نماز کی فضیلت کے بارے میں چند احادیث ذیل میں درج کی جاتی ہیں:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا يُحَافِظُ عَلَى صَلَاةِ الضُّحَى إِلَّا أَوَّابٌ» قَالَ: وَهِيَ صَلَاةُ الْأَوَّابِين (صحيح الجامع: 7628)
’’چاشت کی نماز کی حفاظت صرف وہ کرتا ہے جو بہت زیادہ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنےوالا ہوتا ہے، اور یہی صلاۃ الاوابین ہے۔‘‘
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنْ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنْ الضُّحَى (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین وقصرها: 720)
’’صبح کو تم میں سے ہر ایک شخص کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ ہوتا ہے۔ پس ہر ایک تَسْبِیْح ایک دفعہ (سُبْحَا نَ اللهِ) کہنا صدقہ ہے۔ ہر ایک تَحْمِیْد (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ) کہنا صدقہ ہے، ہر ایک تَہْلِیْل (لَااِلٰهَ اِلَّا الله) کہنا صدقہ ہے ہر ایک تکبیر (اَللهُ اَكْبَر) کہنا بھی صدقہ ہے۔ (کسی کو) نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور (کسی کو) برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اور ان تمام امور کی جگہ دو رکعتیں جو انسان چاشت کے وقت پڑھتا ہے کفایت کرتی ہیں۔‘‘
سيدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلى الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
فِي الْإِنْسَانِ سِتُّونَ وَثَلَاثُ مِائَةِ مَفْصِلٍ فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهَا صَدَقَةً قَالُوا فَمَنْ الَّذِي يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا أَوْ الشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنْ الطَّرِيقِ فَإِنْ لَمْ تَقْدِرْ فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُ عَنْكَ (مسند أحمد: 22998) (صحیح)
’’ہر انسان کے تین سوساٹھ جوڑہیں اورا س پرہرجوڑکی طرف سے صدقہ کرناضروری ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کی طاقت کس میں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر مسجد میں تھوک نظر آئے تو اس پر مٹی ڈال دوراستے میں تکلیف دہ چیز کوہٹادو اگر یہ سب نہ کرسکو تو چاشت کے وقت دورکعیتں تمہاری طرف سے کفایت کر جائیں گی۔‘‘
مذکورہ بالا احادیث چاشت یعنی اشراق کی نماز کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ یہ دو رکعتیں تین سو ساٹھ صدقے سے کفایت کر جاتی ہیں۔ اس لیے انسان کو اشراق کی کم ازکم دو رکعتیں باقاعدگی سے پڑھنی چاہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَا ابْنَ آدَمَ اكْفِنِي أَوَّلَ النَّهَارِ بِأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ أَكْفِكَ بِهِنَّ آخِرَ يَوْمِكَ (مسند أحمد: 17390) (صحیح)
’’ اے ابن آدم! دن کے پہلے حصے میں تو چار رکعت پڑھ کر میری کفایت کر، میں ان کی برکت سے دن کے آخرت تک تیری کفایت کروں گا۔‘‘
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ روانہ فرمایا وہ مال غنیمت حاصل کرکے بہت جلدی واپس آگئے لوگ ان کے مقام جہاد کے قرب، کثرت غنیمت اور جلدواپسی کے متعلق باتیں کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے زیادہ قریب کی جگہ کثرت غنیمت اور جلدواپسی کے متعلق نہ بتاؤں ؟
مَنْ تَوَضَّأَ ثُمَّ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ لِسُبْحَةِ الضُّحَى فَهُوَ أَقْرَبُ مَغْزًى وَأَكْثَرُ غَنِيمَةً وَأَوْشَكُ رَجْعَةً (مسند أحمد: 6638)
’’جو شخص وضو کرکے چاشت کی نماز کے لئے مسجد کی طرف روانہ ہو وہ اس سے بھی زیادہ قریب کی جگہ، کثرت غنیمت اور جلدواپسی والی ہے۔‘‘
والله أعلم بالصواب.