ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 823
- ری ایکشن اسکور
- 225
- پوائنٹ
- 111
کیا امام احمد رحمہ اللہ(المتوفى241)نے بھینس کی قربانی پر اجماع نقل کیا ہے؟
از قلم : کفایت اللہ سنابلی
امام احمد رحمہ اللہ سے سات لوگوں کی جانب سے بھینس کی قربانی سے متعلق یہ سوال ہوا کہ:
« الجواميس تجزئ عن سبعة؟»
کیا بھینس کی قربانی سات لوگوں کی طرف سے ہوسکتی ؟[مسائل أحمد وإبن راهويه : 8/ 4027]
تو انہوں نے جواب دیا:
”لا أعرف خلاف هذا“ ، ”مجھے اس کے خلاف کوئی قول معلوم نہیں“ [مسائل أحمد وإبن راهويه : 8/ 4027]
امام احمد رحمہ اللہ کا یہ جواب پیش کرکے بعض لوگ یہ دعوی کرتے ہیں امام احمد رحمہ اللہ نے بھی بھینس کی قربانی پر اجماع کا ذکر کیا ہے۔
عرض ہے کہ:
✿ اولا : یہاں امام احمد رحمہ اللہ نے ”مطلق بھینس کی قربانی سے متعلق“ اختلاف پر لاعلمی ذکر نہیں کی ہے بلکہ ”بھینس کی قربانی میں سات افراد کی شراکت سے متعلق“ اختلاف پر اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے ، اور دونوں میں بڑا فرق ہے۔
مثال کے طورپر میت کی طرف سے قربانی کے قائل کسی عالم سے سوال کیا جائے کہ : «میت کی طرف سے قربانی کردہ جانور کا گوشت خود کھاسکتے ہیں یا نہیں ؟»
تو وہ جواب دے کہ : «اس کے جواز کے خلاف مجھے کوئی بات معلوم نہیں»
تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ وہ تمام اہل علم کی نظر میں میت کی طرف سے قربانی میں اختلاف کی نفی کررہا ہے بلکہ مطلب صرف یہ ہوگا کہ صرف قائلین قربانی عن المیت کے مابین اس مسئلہ میں اختلاف کی نفی مقصود ہے۔
لہٰذا امام احمد رحمہ اللہ کے مذکورہ قول میں جس اختلاف سے لاعلمی کا اظہار ہے وہ مطلق بھینس کی قربانی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ بھینس کی طرف سے سات افراد کی شراکت سے متعلق ہے، اور اس کا تعلق صرف اس گروہ سے ہے جو بھینس کی قربانی کو جائز سمجھتاہے، لہٰذا بھینس کی قربانی سے متعلق یہ حوالہ بے جوڑ اور غیر متعلق ہے۔
✿ ثانیا : امام احمد رحمہ اللہ نے یہاں ”عدم خلاف“ کا دعوی نہیں کیا ہے بلکہ ”عدم العلم بالخلاف“ کا اظہار کیا ہے۔
اور دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے ، ”عدم خلاف“ کے دعوے میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی پوری تحقیق اور کامل معرفت کے ساتھ یہ دعوی کرتا ہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف کا وجود نہیں ہے ۔
لیکن ”عدم العلم بالخلاف“ کے اظہار میں سرے سے کوئی دعوی ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ اختلاف سے فقط اپنی لاعلمی کا محض اظہار ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسے الفاظ کی بناپر اجماع کا دعوی کرنا بے بنیاد ہے۔
● امام ابن حزم رحمه الله (المتوفى456) فرماتے ہیں:
« وقد أدخل قوم في الاجماع ما ليس فيه وقوم عدوا قول الاكثر اجماعا وقوم عدوا ما لا يعرفون فيه خلافا اجماعا وان لم يقطعوا على أنه لا خلاف فيه »
”بعض لوگوں نے اجماع میں ایسی چیزیں داخل کردیں جن کا اجماع سے کوئی تعلق نہیں ہے، چنانچہ بعض نے اکثریت کے قول کو ہی اجماع شمار کرلیا اور بعض نے جس مسئلہ پر اختلاف سے آگاہ نہ ہوسکے اسے اجماع سمجھ لیا گرچہ یہ قطعیت کے ساتھ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ اس میں اختلاف موجود نہیں ہے۔“ [مراتب الإجماع لابن حزم ص: 3]
● امام نووي رحمه الله (المتوفى676) فرماتے ہیں:
«فإنه قد قال ”لا أعرف فيه خلافا“ ولا يلزم من عدم معرفته عدم الخلاف»
”انہوں نے یہ کہا ہے کہ : ”میں اس میں خلاف نہیں جانتا“ اور ان کے خلاف نہ جاننے سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ خلاف موجود ہی نہیں ہے“ [المجموع شرح المهذب 2/ 377]
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد امام ابن القیم رحمہ اللہ نے بھی متعدد مقامات پر اس کی وضاحت فرمائی ہے۔ [مجموع الفتاوى، ت حسنين: 6/ 282 ، إعلام الموقعين ت مشهور: 3/ 558]
● ابن نجيم الحنفي (ت 1005هـ) لکھتے ہیں:
«قول المجتهد ”لا أعلم مخالفا“ ليس حكاية الإجماع»
”مجتہد کا یہ کہنا کہ ”میں اس کا مخالف نہیں جانتا“ یہ اجماع کا بیان نہیں ہے“ [النهر الفائق شرح كنز الدقائق 1/ 29 ]
✿ ثالثا : بالخصوص جہاں خلاف سے عدم علم کا اظہار امام احمد رحمہ اللہ کی طرف سے ہو تب تو وہاں دعوائے اجماع کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں کیونکہ امام احمد رحمہ اللہ اس طرح کی تعبیر وہیں استعمال کرتے ہیں جہاں اجماع کا ثبوت متحقق نہ ہو نیز امام احمد رحمہ اللہ اس بات کے سخت خلاف تھے کوئی شخص محض خلاف سے لاعلم ہونے پر اجماع کا دعوی کر بیٹھے چنانچہ :
امام احمد رحمه الله (المتوفى 241) نے فرمایا:
”من ادعى الاجماع فهو كذب لعل الناس قد اختلفوا هذا دعوى بشر المريسي والاصم ولكن لا يعلم الناس يختلفون اولم يبلغه ذلك ولم ينته اليه فيقول لا يعلم الناس اختلفوا“
”جو اجماع کا دعوی کرے اس کی بات جھوٹ ہے ممکن ہے لوگوں نے اختلاف کیا ہو، ایسا دعوی تو بشر بن غیاث المریسی جہمی اور ابوبکر الاصم معتزلی کیا کرتے تھے ، لیکن آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ لوگوں کے اختلاف سے اسے واقفیت نہیں ہے ، یا اس تک کسی اختلاف کی خبر نہیں پہنچی ، یعنی اسے یوں کہنا چائے کہ وہ نہیں جانتا کہ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے“ [مسائل أحمد، رواية عبد الله، ت زهير: ص: 439]
اب غور کریں یہ کتنا بڑا ستم ہے جو امام ”خلاف سے عدم علم“ کی بناپر اجماع کا دعوی کرنے کو ”جھوٹ“ قرار دے اسی امام کی طرف سے خلاف پر عدم علم کے اظہار کو بنیاد بناکر اجماع کا دعوی کردیا جائے !
کیا یہ خود امام احمد رحمہ اللہ کی تصریحات سے انحراف اور مسلمہ اصول ”تفسير القول بما لا يرضى به القائل“ کا النگھن نہیں ہے؟
الغرض یہ کہ اس ضمن میں امام احمد رحمہ اللہ سے نقل کیا جانے والا قول نفس مسئلہ سے غیر متعلق ہے نیز اس طرح کے صیغہ پر اجماع کا دعوی کرنا امام احمد رحمہ اللہ کی مراد اور ضوابط اجماع کے بھی خلاف ہے۔