• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بے نمازی کا ذبیحہ حرام ہونے پر شیخ ابن عثیمین کا فیصلہ کن فتویٰ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
927
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
بے نمازی کا ذبیحہ حرام ہونے پر شیخ ابن عثیمین کا فیصلہ کن فتویٰ
​

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ ابن عثيمين فرماتے ہیں :

أن هذا الرجل الذي لا يصلي إذا ذبح لا تؤكل ذبيحته، لماذا؟ لأنها حرام، ولو ذبح يهودي أو نصراني فذبيحته يحل لنا أن نأكلها، فيكون – والعياذ بالله – ذبحه أخبث من من ذبح اليهود والنصارى.

بے شک وہ شخص جو نماز نہیں پڑھتا، اگر وہ ذبح کرے تو اس کا ذبیحہ کھایا نہیں جا سکتا، کیوں؟ اس لیے کہ وہ حرام ہے۔ اور اگر کوئی یہودی یا نصرانی ذبح کرے تو اس کا ذبیحہ ہمارے لیے حلال ہے۔ -اللہ کی پناہ- اس کا ذبح یہودیوں اور نصرانیوں کے ذبح سے بھی زیادہ ناپاک ہوتا ہے!


[مجموع فتاوى ورسائل فضيلة الشيخ محمد بن صالح العثيمين، ج : ١٢، ص : ٤٩]

IMG_20250603_081223.jpg

IMG_20250603_082753_576.jpg

​
شیخ ابن عثیمین کا یہ جملہ "الرجل الذي لا يصلي إذا ذبح لا تؤكل ذبيحته" بذاتِ خود تکفیر کی ایک قطعی علامت ہے۔ جب شریعت نے کسی کا ذبیحہ حرام قرار دیا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ذبیحہ صرف مسلمان اور اہلِ کتاب یعنی یہودی و نصرانی کا ہی جائز ہوتا ہے۔ شیخ ابن عثیمین نے بے نمازی کا ذبیحہ ناجائز قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ ترکِ صلاۃ محض گناہ نہیں بلکہ ایسا کفر ہے جو ملتِ اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔

امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

قَدْ صَحَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ تَارِكَ الصَّلَاةِ كَافِرٌ، وَكَذَلِكَ كَانَ رَأْيُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ لَدُنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا أَنَّ تَارِكَ الصَّلَاةِ عَمْدًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ حَتَّى يَذْهَبَ وَقْتُهَا كَافِرٌ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر یہ ثابت ہے کہ نماز چھوڑنے والا کافر ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر آج تک کے اہلِ علم کی یہی رائے ہے، کہ جو شخص بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کا وقت نکل جائے، تو وہ کافر ہے۔

[تعظيم قدر الصلاة للمروزي، ج : ٢، ص : ٩٢٩]

امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کا یہ فرمان اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ ترکِ نماز عمداً (جان بوجھ کر) کرنا، اسلام سے خروج یعنی کفر ہے، اور یہ سلف کا متواتر فہم ہے، نہ کہ محض کسی ایک امام کی رائے۔

بے نمازی کا ذبیحہ حرام ہے جیسا کہ شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں "أنها حرام" ۔ ترکِ نماز کرنے والا شخص ان مشرکینِ اہلِ کتاب سے بھی بدتر اور زیادہ ناپاک ہو جاتا ہے، جنہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کی، اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا، اور توحید کا انکار کیا۔

بے نمازی کا ذبیحہ یہودیوں اور نصرانیوں کے ذبیحہ سے بھی زیادہ خبیث ہے! کیونکہ جس شخص نے اذان سنی، قرآن پڑھا، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا، اس کے باوجود اس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی تو اس کی خباثت کا درجہ یہود اور نصاریٰ سے بھی بڑھ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں کہ "ذبحه أخبث من من ذبح اليهود والنصارى."

پس جو لوگ بے نمازی کو صرف "فاسق" یا "کمزور مسلمان" کہتے ہیں، وہ کفر کے سہولت کار ہیں۔ ایسے لوگوں کا نرم رویہ نہ صرف شرعی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اسلام کے ستونوں کو منہدم کرنے والا نظریہ ہے۔
 
Top