ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 927
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
بے نمازی کا ذبیحہ حرام ہونے پر شیخ ابن عثیمین کا فیصلہ کن فتویٰ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شیخ ابن عثيمين فرماتے ہیں :
أن هذا الرجل الذي لا يصلي إذا ذبح لا تؤكل ذبيحته، لماذا؟ لأنها حرام، ولو ذبح يهودي أو نصراني فذبيحته يحل لنا أن نأكلها، فيكون – والعياذ بالله – ذبحه أخبث من من ذبح اليهود والنصارى.
بے شک وہ شخص جو نماز نہیں پڑھتا، اگر وہ ذبح کرے تو اس کا ذبیحہ کھایا نہیں جا سکتا، کیوں؟ اس لیے کہ وہ حرام ہے۔ اور اگر کوئی یہودی یا نصرانی ذبح کرے تو اس کا ذبیحہ ہمارے لیے حلال ہے۔ -اللہ کی پناہ- اس کا ذبح یہودیوں اور نصرانیوں کے ذبح سے بھی زیادہ ناپاک ہوتا ہے!
[مجموع فتاوى ورسائل فضيلة الشيخ محمد بن صالح العثيمين، ج : ١٢، ص : ٤٩]
امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
قَدْ صَحَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ تَارِكَ الصَّلَاةِ كَافِرٌ، وَكَذَلِكَ كَانَ رَأْيُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ لَدُنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا أَنَّ تَارِكَ الصَّلَاةِ عَمْدًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ حَتَّى يَذْهَبَ وَقْتُهَا كَافِرٌ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر یہ ثابت ہے کہ نماز چھوڑنے والا کافر ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر آج تک کے اہلِ علم کی یہی رائے ہے، کہ جو شخص بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کا وقت نکل جائے، تو وہ کافر ہے۔
[تعظيم قدر الصلاة للمروزي، ج : ٢، ص : ٩٢٩]
امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کا یہ فرمان اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ ترکِ نماز عمداً (جان بوجھ کر) کرنا، اسلام سے خروج یعنی کفر ہے، اور یہ سلف کا متواتر فہم ہے، نہ کہ محض کسی ایک امام کی رائے۔
بے نمازی کا ذبیحہ حرام ہے جیسا کہ شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں "أنها حرام" ۔ ترکِ نماز کرنے والا شخص ان مشرکینِ اہلِ کتاب سے بھی بدتر اور زیادہ ناپاک ہو جاتا ہے، جنہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کی، اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا، اور توحید کا انکار کیا۔
بے نمازی کا ذبیحہ یہودیوں اور نصرانیوں کے ذبیحہ سے بھی زیادہ خبیث ہے! کیونکہ جس شخص نے اذان سنی، قرآن پڑھا، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا، اس کے باوجود اس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی تو اس کی خباثت کا درجہ یہود اور نصاریٰ سے بھی بڑھ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں کہ "ذبحه أخبث من من ذبح اليهود والنصارى."
پس جو لوگ بے نمازی کو صرف "فاسق" یا "کمزور مسلمان" کہتے ہیں، وہ کفر کے سہولت کار ہیں۔ ایسے لوگوں کا نرم رویہ نہ صرف شرعی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اسلام کے ستونوں کو منہدم کرنے والا نظریہ ہے۔