• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728) نے بھینس کی قربانی پر اجماع نقل کیا ہے؟

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
927
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
کیا شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728) نے بھینس کی قربانی پر اجماع نقل کیا ہے؟
​

از قلم : کفایت اللہ سنابلی

بعض لوگوں نے شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله کی طرف بھی دعوائے اجماع کو منسوب کیا ہے اور ان کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں:
”و الجواميس بمنزلة البقر حكى ابن المنذر فيه الإجماع“
”اور بھینس گائے کے قائم مقام ہے ، ابن المنذر رحمہ اللہ نے اس میں اجماع نقل کیا ہے“ [مجموع الفتاوى، ت ابن قاسم: 25/ 37]

عرض ہے کہ :
ابن المنذر رحمہ اللہ کے حوالے پر پہلے بات ہوچکی ہے انہوں نے یہ بات بھینس کی زکاۃ سے متعلق نقل کی ہے نہ کہ بھینس کی قربانی سے متعلق ۔

اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی یہ بات بھینس کی زکاۃ سے متعلق ہی نقل کی ہے ۔ ملاحظہ ہو ابن تیمہ رحمہ اللہ کے مکمل الفاظ :

«و الجواميس : بمنزلة البقر حكى ابن المنذر فيه الإجماع. وأما بقر الوحش فلا زكاة فيها عند الجمهور وقال بعضهم: فيها الزكاة فإن تولد من الوحشي والأهلي فقال الشافعي: لا زكاة وقال أحمد تزكى...»

”بھینس گے کے قائم مقام ہے ابن المنذر رحمہ اللہ نے اس میں اجماع نقل کیا ہے ، اور رہی جنگلی گائے تو جمہور کے نزدیک اس میں زکاۃ نہیں ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس میں بھی زکاۃ ہے ۔ اور اگر جنگلی اور گھریلو کے ملاپ سے پیدا ہو تو امام شافعی کہتے ہیں اس میں زکاۃ نہیں ہے جبکہ امام احمد کہتے ہیں اس پر زکاۃ دی جائے گی“

[مجموع الفتاوى، ت ابن قاسم: 25/ 37]

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی مکمل عبارت دیکھنے سے یہاں بھی یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ سب کچھ بھینس کی زکاۃ کے بارے میں کہا گیا ہے نہ کہ بھینس کی قربانی سے متعلق لہٰذا یہ حوالہ غیر متعلق ہے۔

نیز امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کی مکمل عبارت پڑھنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے زکاۃ کے بارے میں جانوروں کی شمولیت میں وسعت زیادہ ہے۔

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ایک اور اقتباس پیش کیا جاتا ہے جو یہ ہے :

”ولا خلاف بين الفقهاء أن الضأن والمعز يجمعان في الزكاة وكذلك الإبل على اختلاف أصنافها وكذلك البقر والجواميس“

”فقہاء میں اس بابت کوئی اختلاف نہیں ہے کہ بھیڑ اور بکری کو زکاۃ میں جمع کیا جائے گا اور اس طرح اونٹ کے تمام اقسام کو جمع کیا جائے گا اور اسی طرح گائے اور بھینس کو بھی جمع کیا جائے گا“

[مجموع الفتاوى، ت ابن قاسم: 25/ 35]

یہاں پوری صراحت موجود ہے کہ زکاۃ سے متعلق ان امور میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اجماع کا ذکر کیا ہے نہ کی قربانی سے متعلق، لہٰذا یہ حوالہ بھی غیر متعلق ہے۔
 
Top