ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 871
- ری ایکشن اسکور
- 229
- پوائنٹ
- 111
كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ
از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ
جب اللہ تعالی نے حکم دیا ہے کہ "تمھارے لئے ابراہیم کی سیرت میں اچھا نمونہ ہے (پیروی کرنے کو) تو اس جملے میں معنی کا سمندر سمیٹ دیا ہے
ابراہیم علیہ السلام نے صرف بت نہیں توڑے تھے بلکہ اس کے کارنامے بہت بلند ہیں اور وہ عظمت ہمت اور اطاعت کے وہ پہاڑ ہیں جس کی چوٹیاں آسمانوں تک بلند ہے
ابراہیم کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ جو بھی حکم آیا اس نے کہا " لبیک میرے رب قبول ہے جیسے آپ کہو گے وہسے ہی کروں گا " اس نے کسی حکم میں حکمتیں و مصلحتیں تلاش نہیں کی نہ اس سے بچنے کےلئے کوئی عذر تراشے نہ کچھ وقت مانگا نہ فقہ کو الٹ پلٹ کر کر کے کوئی بچنے کی راہ ڈھونڈی نہ کمزوری دکھائی نہ کم ہمتی دکھائی۔
یہاں حکم آیا وہاں ابراہیم نے کر ڈالا یہاں حکم آیا وہاں ابراہیم نے عمل کیا ، فرمایا بیٹے کو ذبح کرو بیٹے کو لٹا کر خنجر نکال لیا ، حکم ہوا ختنہ کرو 80 سال کی عمر میں اپنا ختنہ کر ڈالا ، حکم ہوا بیٹے بیوی کو بے آب و گیا میدان میں چھوڑ دو فوری چھوڑ کر چلا گیا ، باپ کو چھوڑا قوم کو چھوڑا وطن چھوڑا ساری قوم کے بت تہس نہس کر دئے اور کہیں بھی سستی یا کم ہمتی نہیں دکھائی۔
یہ ابراہیم کا اسوہ ہے اس پر چلنے کےلئے جگر چاہئے یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے اگر ابراہیم کی ملت پر ہونے کا دعوی ہے تو سر جھکا کر کہنا پڑے گا اللہ تعالی سے کہ "میرے رب جیسے آپ کہو گے ویسا ہی کروں گا۔"
پھر مصلحتیں چھوڑنی پڑیں گی حکمتیں توڑنی پڑیں گی اور احکامات کو مروڑ مروڑ کر اپنے لئے آسان کرنے کی روش ترک کرنی پڑے گی ابراہیم کی طرح بت توڑنے پڑیں گے ظاہری بت ہی نہیں بلکہ سینوں میں موجود بت بھی تہس نہس کرنے ہوں گے مسلک کے بت شیخ صاب کا بت مولانا صاب کا بت حضرت کا بت ، سب کو توڑنا ہوگا ، دل کا گھر ایسے ہی اللہ کےلئے خالص اور صاف کرنا ہوگا جیسے ابراہیم نے کعبہ کو اس کےلئے خالص اور صاف کیا تھا
یہاں احکامات میں حکمتیں ڈھونڈی جاتی ہیں اور حکمتوں کے تحت احکامات معطل کئے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم مسلم ہیں یہاں سینوں میں بت بنا کر پوجے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم موحد ہیں کسی کا کوئی شیخ پسندیدہ ہے تو اس کے خلاف کچھ نہیں سنے گا اس کے باطل کاموں کی تاویلات ڈھونڈے گا اس کے کفر بواح کےلئے شلواریں سی کر چھپانے کی کوشش کرے گا۔
کسی کی کوئی جماعت پسندیدہ ہے تو ہر جماعت کے خلاف ہنس ہنس کر فتوے ٹھوکے گا لیکن اپنی پسندیدہ جماعت پر بات آئے گی تو "ہولا ہاتھا رکھو گذارہ کرو " کی صدائیں بلند کرے گا۔
کسی کو کوئی شخصیت پسند ہے تو اس کے کفریات کو اسلام میں بدلنے کےلئے اوٹ پٹانگ مضحکہ خیز دلائل ڈھونڈے گا کیونکہ دل میں اس شخصیت کا بت نصب ہوچکا ہوتا ہے اور احترام اور محبت بڑھتے بڑھتے عبادت میں تبدیل ہوگئی ہوتی ہے لیکن اس کو احساس نہیں ہوتا۔
ایسے ہی تو بت بنتے ہیں کہ احساس نہیں ہوتا اور بندے کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ میں بت کا پجاری ہوں وہ بیچارہ سمجھتا ہے کہ میں موحد ہوں ، نوح کی قوم کے ساتھ بھی تو یہی ہوا تھا بزرگوں سے محبت ان کا احترام بڑھتے بڑھتے بتوں میں تبدیل ہوگیا تھا اور ان کو احساس تک نہیں ہوسکا تھا۔
سو ایسے ہی دلوں کے بت بنتے ہیں پہلے متاثر ہونا پھر محبت پھر محبت میں غلو پھر اس کو معصوم ماننا اور آخر میں اس کا بت دل میں نصب کر کے پوجنا اور یہ سمجھنا کہ میں شاید کسی عالم دین یا کسی حضرت سے محض محبت ہی تو کرتا ہوں یہ تو اچھی بات ہے اور اس کے خلاف بولنے والے تو بس جذباتی ہیں یہ تو ویسے بھی کسی کو نہیں بخشتے۔
ہاں نوح کی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ "یہ تو چند جذباتی نوجوان ہیں" دیکھو سورہ ھود میں بالکل یہی تو کہا تھا لکن ان کو علم نہیں ہوسکا تھا کہ ہم بت پرست بن چکے ہیں اور یہ جذباتی نوجوان نہیں بلکہ موحد نوجوان ہیں۔
ہاں سالوں سے دلوں میں پیوست بتوں کو توڑنا مشکل ہوتا ہے اور بچپن سے ذہن میں پختہ نظریات سے بغاوت کرنا تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن یہ تو کرنا پڑے گا ، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیونکہ دونوں میں سے ایک ہی بچے گا یا دل میں نصب بت بچے گا یا تم بچو گے سو اگر بت کو توڑ دیا تو تم بچ سکتے ہو اور باقی رکھا تو اس کو دل میں لے کر ہی جھنم کا ایندھن بنو گے۔
جی ہاں ابراہیم جیسا جگر پیدا کرنا ہوگا وہ پڑی ہے کلہاڑی ! اس کو اٹھاو اور اپنے دل کو بتوں سے صاف کردو تب تم محسوس کرو گے کہ اس پر علم اور ایمان کی لذت کی بارش کیسے نرمی سے برس رہی ہے اور کیسے تمھارا دل اس کا بابرکت شفاف ہانی جذب کرتا جارہا ہے پھر تم ایمان کی لذت بھی پاو گے اور علم کی گہرائی بھی حاصل کر سکو گے لیکن وہی بات کہ اس کےلئے ابراہیم کا جگر چاہئے اور یہی قرآن تم سے کہہ رہا ہے " قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ "۔