• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا نواسہ وارث ہو گا؟

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,058
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
111
قرآن و حدیث میں میت کے ورثاء کو تین طرح سے تقسیم کیا گیا ہے:

اصحاب الفروض:
اس سے مراد میت کے وہ قریبی رشتے دار ہیں جن کا حصہ قرآن یا حدیث میں مقرر كر ديا گیا ہے۔ جیسے: ماں، بیٹی، پوتی،خاوند، بیوی وغیرہ۔

عصبہ: میت کے وہ وارثین جن کا حصہ قرآن و حدیث میں مقرر نہیں کیا گیا، بلکہ یہ اصحاب الفروض میں مال کی تقسیم کے بعد باقی ماندہ مال کے وارث ہوتے ہیں۔ جیسے: بیٹا، پوتا ، باپ، دادا، سگا بھائی، باپ شریک بھائی وغیرہ عصبہ کہلاتے ہیں۔

اولو الارحام: اولو الارحام سے مراد میت کے وہ رشتے دار ہیں جو نہ اصحاب الفروض میں سے ہوں اورنہ ہی عصبہ میں سے ہوں۔ جیسے: نواسے ، نواسیاں، ماموں ، خالہ وغیرہ اولو الارحام میں شمار ہوتے ہیں۔

قرآن و حديث كے احکامات کے مطابق میت کی جائیداد کے سب سے پہلے حقدار اصحاب الفروض ہیں۔ ان سے بچا ہوا ترکہ عصبہ کو ملتا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی الله عنهما بيان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَر)) (صحيح البخاري، الفرائض: 6732).

’’ تم فرض حصے یعنی مقرر حصے ان کے حقداروں تک پہنچا دو اور جو باقی بچ جائے وہ میت کے قریب ترین مرد کے لیے ہے‘‘۔
  • نواسہ نہ اصحاب الفروض میں سے ہیں او رنہ ہی عصبات میں اس کا شمار ہوتا ہے، بلکہ وہ اولوالارحام میں شامل ہے، جو اصحاب الفروض اور عصبات کی عدم موجودگی میں وارث ہوتے ہیں۔

والله أعلم بالصواب.
 
Top