محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,058
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
حق مہر عورت کا حق ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِيئًا (النساء: 4).
’’ اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دو، پھر اگر وہ اس میں سے کوئی چیز تمھارے لیے چھوڑنے پر دل سے خوش ہو جائیں تو اسے کھالو، اس حال میں کہ مزے دار خوشگوار ہے‘‘۔
اگر عورت حق مہر میں نقدی یا زیور وغیرہ لینے کی بجائے حج یا عمرہ کروانا بطور حق مہر کے مطالبہ کرے تو جائز ہے، سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی کے پاس بطور حق مہر دینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے قرآن کتنا یاد ہے؟ اس نے کہا : کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ)). (صحيح البخاري، النكاح: 5132).
’’میں نے اس قرآن کے بدلے جو تجھے یاد ہے اس کا نکاح تجھ سے کر دیا ہے‘‘۔(یعنی جو تجھے سورتیں یاد ہیں تو اسے سکھا دینا، یہی تیرا حق مہر ہے)
والله أعلم بالصواب.
ارشاد باری تعالی ہے:
وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِيئًا (النساء: 4).
’’ اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دو، پھر اگر وہ اس میں سے کوئی چیز تمھارے لیے چھوڑنے پر دل سے خوش ہو جائیں تو اسے کھالو، اس حال میں کہ مزے دار خوشگوار ہے‘‘۔
اگر عورت حق مہر میں نقدی یا زیور وغیرہ لینے کی بجائے حج یا عمرہ کروانا بطور حق مہر کے مطالبہ کرے تو جائز ہے، سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی کے پاس بطور حق مہر دینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے قرآن کتنا یاد ہے؟ اس نے کہا : کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ)). (صحيح البخاري، النكاح: 5132).
’’میں نے اس قرآن کے بدلے جو تجھے یاد ہے اس کا نکاح تجھ سے کر دیا ہے‘‘۔(یعنی جو تجھے سورتیں یاد ہیں تو اسے سکھا دینا، یہی تیرا حق مہر ہے)
والله أعلم بالصواب.