• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غزوات النبی ﷺ

اُمِ حیا

مبتدی
شمولیت
جون 14، 2025
پیغامات
9
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
2
عنوان:سیریز ، غزوات النبی ﷺ

قسط نمبر 1 غزوۂ وُدّان / غزوۂ ابواء

✦رسول اللّٰہ ﷺ کا پہلا عسکری سفر…

✍ تمہید:

✦جب دینِ اسلام ایک ریاست کی شکل میں ابھرا ، تو دشمنی کی آنکھیں اور خنجر دونوں تیز ہو گئے۔
✦نبیِ کریم ﷺ نے فقط مسجد و منبر پر نہیں ، بلکہ میدانِ جنگ میں بھی قیادت فرمائی۔
✦آپ ﷺ نے ستائیس غزوات میں شرکت فرمائی ، جن میں نو میں بنفسِ نفیس شریک ہوئے۔
✦یہ معرکے فقط لڑائیاں نہیں ، بلکہ صبر ، حکمت ، اور فہم و فراست کے روشن مینار ہیں۔

✦غزوۂ وُدّان… وہ پہلا سفر ، جہاں خون نہیں ، مگر تدبیر کی روشنائی سے تاریخ لکھی گئی!

✍ تحریر:

جب مدینہ میں اسلامی ریاست کا قیام ہوا ، تو کفارِ مکہ کی دشمنی نئی شدت کے ساتھ سامنے آنے لگی۔ قریش کے تجارتی قافلے مدینہ کے قریب سے گزرتے تھے ، اور خطرہ تھا کہ وہ مدینہ پر حملہ کر سکتے ہیں۔ ایسے میں نبی کریم ﷺ نے نہ صرف دفاعی حکمتِ عملی اپنائی ، بلکہ دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے عملی اقدامات بھی فرمائے۔

✍ تاریخ اور مقام:

یہ پہلا غزوہ صفر 2 ہجری میں پیش آیا (مطابق اگست/ستمبر 623ء)۔
اس کا مرکز وُدّان اور ابواء کا علاقہ تھا ، جو مدینہ سے تقریباً 23 میل جنوب مغرب میں واقع ہے۔
(البدایہ والنہایہ ، الرحیق المختوم)

✍ لشکر اور قیادت:
تقریباً 70 مہاجرین پر مشتمل اس لشکر کی قیادت خود رسول اللّٰہ ﷺ فرما رہے تھے ، اور عَلم سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا۔
(سیرت ابن ہشام ، البدایہ والنہایہ)

✍ واقعہ اور معاہدہ:
جنگ کی نوبت تو نہ آئی ، لیکن اس سفر کے دوران نبی کریم ﷺ کی ملاقات قبیلہ بنی ضمرہ کے سردار مخشی بن عمرو ضمری سے ہوئی۔ اس موقع پر ایک تاریخی معاہدہ طے پایا ۔
(البدایہ والنہایہ)

اسلامی ریاست کا پہلا باقاعدہ امن و سیاسی معاہدہ۔

✍معاہدے کی اہم شرائط:
❶ بنی ضمرہ مسلمانوں سے جنگ نہیں کریں گے۔
❷ کسی دشمن کی حمایت نہیں کریں گے۔
❸ مسلمانوں پر حملہ ہوا تو وہ ان کی مدد کریں گے۔

✍ نتائج و اثرات:

یہ غزوہ بظاہر ایک عسکری کارروائی نہ تھا ، مگر اس کے اثرات نہایت گہرے تھے:

❶ مدینہ کے گرد و نواح میں اسلامی اثر و رسوخ قائم ہوا۔
❷ قریش کو پیغام ملا کہ مسلمان دفاع کے لیے تیار ہیں۔
❸ دیگر قبائل نے بھی مسلمانوں سے صلح کی راہ اپنانی شروع کی۔
(زاد المعاد ، الرحیق المختوم)

✍ آخری پیغام:

یہ محض ایک سفر نہ تھا ، یہ اسلام کے سیاسی شعور ، امن پسندی اور دفاعی بصیرت کا پہلا عملی مظاہرہ تھا۔ نبی کریم ﷺ نے جنگ کیے بغیر وہ حکمت عملی اپنائی جس نے آنے والے معرکوں کی بنیاد رکھی۔

صلی اللّٰہ علی عبدہ و رسولہ الصادق الامین
و علی آلہ و صحبہ و اتباعہ الی یوم الدین


 
Top