ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 896
- ری ایکشن اسکور
- 231
- پوائنٹ
- 111
روافض سے دشمنی کی اصل بنیاد
از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
یہ بات یاد رکھو کہ روافض سے ہماری دشمنی کی اصل بنیاد شرک ہے اور اسی شرک کی وجہ سے ہی ان کی تکفیر کی جاتی ہے اور وہ ملت سے خارج ہیں؛ صحابہ کو برا بھلا کہنا یا دیگر اختلافی مسائل اس کے بعد کی چیزیں ہیں۔
پاکستان کے مولویوں نے اس گروہ کے شرک کو چھپاتے ہوئے صحابہ کے دشمن، صحابہ کو گالیاں، متعے والے جیسے الفاظ سے ان کو متعارف کروایا جس کے پیچھے اصل وجہ یہ تھی کہ اگر ان کے شرک کو اجاگر کرتے تو اس میں خود ان کے اپنے اتحادی بریلوی بھی آتے اور وہ روافض سے زیادہ شرک کرنے والے کافر ہیں۔
اس لئے روافض کی تکفیر اور ان سے بعض کا اظہار کرتے ہوئے سب سے پہلے شرک کو ذکر کریں یہی ہماری تمام مشرکین سے دشمنی کی بنیاد ہے، شرک کو نظر انداز کر کے ان کے دیگر جرائم پر بات کرنا ایسا ہے جیسے ایک شخص تمھارے سارے خاندان کو قتل کرے اور تمھاری بھینس بھی لے جائے پھر تم اگلے دن ایف آئی ار کراو کہ اس نے میری بھینس چوری کی ہے اور خاندان کے قتل کو فراموش کر دو۔
میں نے روافض سے مناظرے دو بدو دیکھے ہوئے ہیں اگر آپ شرک کو درمیان سے نکال لو گے تو باقی مسائل میں یہ ایسی تاویل کرتے ہیں کہ آپ کے مولویوں کا باپ بھی ان کی تکفیر ثابت نہیں کر سکتا البتہ ان کا شرک ایسا واضح مسئلہ ہے جس کو نہ یہ چھپا سکتے ہیں نہ انکار کر سکتے ہیں۔
اور شرک ہی سب سے عظیم ظلم ہے تمام صحابہ کو گالیاں دینے سے بلکہ تمام انبیاء کو گالیاں دینے سے بھی بہت بہت بہت عظیم مسئلہ اور جرم ہے اور کسی گروہ کے کافر اور ملعون ہونے کےلئے یہی کافی ہے کہ وہ شرک کرتا ہو۔
اس کو خوب سمجھو یہ عقیدے کا مسئلہ ہے۔ روافض کے شرکيہ عقايد، اقوال اور اعمال درج ذیل ہیں : علی حسین اور فاطمہ کو مدد کےلئے پکارنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ مشکل کشا ہیں، قبروں کی عبادت کرنا، قبروں پر سجدے کرنا ان سے مانگنا، یا حسین یا علی یا زہرا کے نعرے بلند کرنا حتی کے ذوالجناح کے گھوڑوں تک کو حاجت روا سمجھنا وغیرہ۔