ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 896
- ری ایکشن اسکور
- 231
- پوائنٹ
- 111
شرک سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑی دشمنی کی بنیاد
از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
ایک مسلمان کو سب سے زیادہ غصہ شرک پر آتا ہے شرک دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھتا ہے اس کو اپنی زندگی پر شرم آنے لگتی ہے اس کا دماغ گھوم جاتا ہے۔
اور یہ ہے بھی ایسی بات کہ جس میں ذراہ بھر ایمان ہو وہ اس کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا یہ برداشت سے باہر کی بات ہے کیسے کوئی ہمارے خالق و مالک ہمارے رب زمین و آسمان کے آقا وہ مولا اور عظیم ملائک کا رب انس و جان کا رب اول و آخر ظاہر و باطن سب سے بلند سب سے برتر سب پر غالب قہار و جبار رحمن و رحیم کے ساتھ کسی مخلوق کو یا کسی بشر کو کسی پیر فقیر کو کسی عبد القادر جیلانی کو یا حسین رض کو یا علی رض یا فاطمہ رض کو یا عیسی یا مریم یا محمد علیھم الصلوة والسلام کو یا جبرائیل و ملائک علیھم السلام کو برابر ٹھرا سکتا ہے بلکہ کیسے کوئی اس کے ساتھ کسی قبر کو شجر کو حجر کو کسی گھوڑے کو کسی بت کو کسی مورتی کو کسی نشان کو کسی نام نہاد دیو کو برابر کر سکتا ہے۔
یہ سب سے بڑی ناانصافی ہے عظیم ظلم ہے کمینے پن کی انتہاء ہے خباثت کی آخری حد ہے جہالت کا ننگا ناچ ہے اور گھٹیا پن کی تمام لکیریں عبور کرنا ہے۔
اہل ایمان چونکہ اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں اور اس کے ادب و ھیبت سے ان کے دل لرزتے رہتے ہیں اس لئے وہ جب اس چیز کو دیکھتے ہیں تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے کہ کسی کی یہ جرات کیسے ہوئی کہ وہ ہمارے رب ہمارے اللہ کے ساتھ کسی کو برابر کرے۔
پھر وہ جہاد کے آتش فشاں بھڑکاتے ہیں اور موت کی طرف ایسے لپکتے ہیں جیسے کوئی پیاسا ٹھنڈے پانی کے چشمے کی طرف دوڑ پڑتا ہے پھر وہ اہل شرک کی چمڑیاں ادھیڑ دیتے ہیں ان کے ممالک کو روند ڈالتے ان کے مزارات و آستانوں اور نشانات کو ملیامیٹ کر دیتے ہیں یہاں تک کہ فتنہ ( شرک) ختم ہوجائے اور دین سارے کا سارا اللہ کےلئے ہوجائے اور کسی کی جرات نہ رہے کہ اللہ تعالی کی زمین پر اس کے ساتھ کسی کو برابر ٹھرائے۔
تو اس چیز کو ہمیشہ مقدم رکھو کہ شرک ہی تمھارے غصے کی اولین بنیاد ہونی چاہئے، لوگ کہتے ہیں روافض سے ہم کیسے دوستی کر سکتے جبکہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے دشمن ہیں یا ابو بکر رضی اللی عنہ کے دشمن ہیں یا ام المومنین طیبہ طاہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گستاخ ہیں بھائی اس سب سے پہلے وہ اللہ تبارک و تعالی کے دشمن ہیں وہ ابوبکر عمر اور عائشہ رضی اللہ عنھم کو پیدا کرنے والے خالق و مالک و رازق کے گستاخ ہیں وہ صحابہ سے پہلے اللہ تبارک و تعالی کی بے ادبی کے مرتکب ہیں اس چیز کو اولیت دو اور کہو کہ ہم ان نجس روافض سے کیسے دوستی کر سکتے جب وہ مشرک ہیں جب وہ ہمارے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں اور اگر چاہو تو شرک کے بعد ان کی دیگر گستاخیوں اور نجاستوں کو بیشک بیان کرو لیکن اولین نجاست کے طور پر ہمیشہ شرک کو رکھو تاکہ سننے والے پڑھنے والے ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ ہماری دشمنی کی اصل بنیاد کیا ہے اور یوں لوگوں کی نظر میں شرک کے ہی سب سے عظیم جرم ہونے کا تصور ماند نہ پڑے اور یہ تصور اور پختہ ہو اور تاکہ تمھاری اولاد تک یہ منتقل ہو کہ اس آسمان و زمین کے مابین سب سے بڑا ظلم سب سے بڑا جرم سب سے بڑی خباثت سب سے بڑی غلاظت شرک ہے۔
وما علینا الا البلاغ