• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دعوتِ دین اور معذرت خواہانہ رویّہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
842
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
دعوتِ دین اور معذرت خواہانہ رویّہ

از قلم: مفتی اعظم حفظہ اللہ


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حق کی طرف دعوت دینے کا یہ مقصد نہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑ جاو اور ان کے پاوں پکڑ کر کہو کہ خدا کےلئے حق کہ طرف آجاو اور نہ ہی اس کا مطلب معذرت خواہانہ انداز ہے کہ ہر چوک پر لوگوں کو صفائیاں دیتے رہو۔

اسی طرح کفار یا مرتدین کے ایمان نہ لانے پر زیادہ خود کو ہلکان کرنے یا رنجیدہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے اس پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رب سبحانہ و تعالی نے قرآن میں تنبیہ کی اور حکم دیا کہ آپ کو جو احکام آتے ہیں وہ پہنچا دیا کریں اور ان کے پیچھے خود کو زیادہ ہلکان نہ کریں۔

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ

"اور اگر آپ پر ان کا حق سے اعراض بھاری پڑ رہا ہے تو پھر اگر آپ کر سکتے ہو تو زمین میں کوئی سراخ کر کے یا آسمان میں سیڑھی لگا کر ان کےلئے کوئی نشانی لے آو، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا سو آپ نادان نہ بنئے۔"

اللہ تعالی اپنے نبی کو کہہ رہے ہیں کہ آپ پر ان کا حق سے منہ موڑنا کیوں اتنا بھاری ہو رہا ہے یہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے نہ ہی آپ کچھ کر سکتے ہیں کیونکہ ہدایت تو میرے ہاتھ میں ہے پھر آپ کیوں اتنا رنجیدہ ہورہے ہیں ان کے پیچھے۔

ایک اور جگہ فرمایا کہ لگتا ہے آپ اپنے آپ کو ہلاک ہی کر دیں گے کہ یہ ایمان کیوں نہیں لا رہے۔

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ
لگتا ہے آپ اپنی جان ہی ہلاک کردیں گے اس بات پر کہ یہ ایمان کیوں نہیں لاتے۔

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا
تو شاید آپ افسوس سے اپنی جان ہی دے دیں گے اس پر کہ یہ اس بات پر ایمان کیوں نہیں لا رہے۔


اللہ تعالی نے نبی کےلئے بھی اصول وضع کیا کہ آپ کا کام پہنچانا ہے ہدایت دینا نہ دینا میرا کام ہے آپ نتائج کے مکلف نہیں کہ کون ایمان لایا کون نہیں لایا آپ کی دعوت کتنی کامیاب ہوئی کتنی ناکام ہوئی اس سب کے نہ آپ مکلف ہیں نہ میں نے آپ کو اس کا ذمہ دار بنایا ہے نہ یہ آپ کے اختیار میں ہے بلکہ آپ کو جو میں حکم دیتا ہوں وہ اسی طرح پہنچا دیا کریں۔

یہی اصول تمام لوگوں پر بھی لاگو ہے کہ آپ کا کام دین کی صحیح صورت پہنچانی ہے نہ کے لوگوں کے پاوں پکڑ کر گڑگڑا کر ان کی منت زاری کرنی ہے کہ خدا کےلئے بھائی حق پر آجاو اور مسلمان ہوجاو ، یہ بہت خطرناک راستہ ہے اور اس پر چل کر بہت سارے گروہ گمراہی میں پڑ گئے ، اخوان المسلمین سے لے کر القاعدہ تک تمام گروہ اسی بات پر گمراہ ہوئے کہ وہ عوام کو اپنے حق میں کرنے کےلئے دعوت میں انتہائی چاپلوسی کی حد تک چلے گئے اور عوام کو مسلسل صفائیاں دیتے دیتے آخر کا اپنے موقف و عقیدے سے ہی دستبردار ہوگئے کیونکہ عوام کے اعتراضات تو کبھی ختم نہیں ہوتے اس لئے ان کو ختم کرنے کےلئے انہوں نے ہر اس چیز سے انکار کرنا شروع کیا جس پر اعتراض کیا جاتا تھا یہاں تک کے اپنا سب کچھ گنوا بیٹھے لکن اعتراضات پھر بھی ختم نہیں ہوئے۔

اس سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے اور احتیاط کرنی چاہئے جو باقی دعوت چھوڑ کر صبح و شام یہ دہائیاں دیتے ہیں کہ بھائی خدا کی قسم لے لو ہم خوارج نہیں ہیں ہم ایجنٹ نہیں ہیں ہم فسادی نہیں ہیں۔

تمہاری ان قسموں اور منت زاری سے اعتراضات تو ختم نہیں ہوں گے لیکن تمہارا اپنا وقار ضرور ختم ہوجائے گا اس لئے دعوت میں زیادہ چاپلوسی سے پرہیز کیا کرو اور چاپلوسی کو حکمت کے نام پر دعوت کا حصہ مت بناو۔

اللہ کی توحید اس کی شریعت، باطل کا رد اور اپنا منہج بیان کرو بغیر کسی معذرت خواہانہ روائے اور چاپلوسی کے، پھر جس کی قسمت میں ہدایت ہوگی اس کو اللہ ہدایت دے دے گا جس کی قسمت میں نہیں ہوگی اس کو آپ تو کیا آپ کا باپ بھی ہدایت پر نہیں لا سکتا نہ ہی آپ کو کسی نے اس کا ٹھیکیدار بنایا ہے۔

وما علینا الا البلاغ
 
Top