• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رب کی پسند وناپسند

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
82
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
56
بسم اللہ الرحمن الرحیم

رب کی پسند وناپسند​



ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی


الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:

محترم سامعین:

اللہ رب العزت کی ایک صفت خوش ہونا اور ناراض ہونا بھی ہے ،اس کی شان یہ ہے کہ وہ اچھے اچھے کاموں سے خوش ہوتاہے اور برے برے حرکات وسکنات اور گناہوں سے ناراض ہوتاہے،اب جو مسلمان بھی اچھے اچھے خیروبھلائی والے کاموں کو انجام دے گا وہ رب کی رضاوخوشنودی کو حاصل کرکےدنیا وآخرت میں سرخرو ہوگا اور جوانسان بھی گناہوں اور برے برے کاموں کو انجام دے گا تووہ رب کی ناراضگی کا شکارہوکردنیا وآخرت میں ذلیل ورسوا ہوگاتو آپ کو اسی دنیوی واخروی ذلت ورسوائی سے بچانے اوردنیاوآخرت میں رب کی رضاوخوشنودی حاصل کرانے کے لئےآج کے خطبۂ جمعہ کے لئے جس موضوع کا ہم نے انتخاب کیا ہےوہ ہے ’’ رب کی پسند وناپسند ‘‘ اورآج کے خطبۂ جمعہ کے اندر میں آپ کو کچھ ایسے اعمال بتاؤں گا جن کو اختیار کرنارب العزت کو بہت پسند ہےاورساتھ میں کچھ ایسے اعمال بھی بتاؤں گا جس کو انجام دینا رب کو بالکل بھی پسند نہیں ہے،اس لئے میرے بھائیو اور بہنو! آج کا یہ خطبۂ جمعہ آپ اول تا آخر پوری دلجمعی کے ساتھ بغور سنیں اور اپنے دل میں اتار کریہاں سے اٹھیں ،کوشش یہ کریں کہ ہمیشہ ہر اس عمل کو اپنائیں جس کو رب پسند کرتاہے اور اپنے آپ کو ہراس عمل وحرکت سے دور رکھیں جو رب کو بالکل بھی پسند نہیں ہے، آئیے سب سے پہلے ہم اللہ رب العزت سے یہ دعاکرلیتے ہیں کہ اے اللہ! تو ہم سب کو ہمیشہ ان عملوں کو بجالانے کی توفیق عطافرما جس سے تو راضی ہوتاہے۔آمین اور اے بارالہ !تو ہم سب کو ہراس عمل وحرکت سے دور رکھ جس سے توناراض ہوتاہے۔آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

1۔رب کو شکرگزاری پسند اور ناشکری ناپسند ہے:

محترم سامعین:جن کاموں کو اللہ پسندکرتاہے اس میں سے ایک قیمتی عمل شکر گزاری ہے اور جس کام کو رب العزت ناپسند کرتاہے وہ اس کی ضد یعنی کہ ناشکری ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کےاندررب العزت نے جگہ جگہ پر ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہم اللہ کا شکر بجالاتے رہیں اور ناشکری سے بچیں جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ ‘‘ اس لئے تم میرا ذکرکرو،میں بھی تمہیں یاد کروں گااورمیری شکرگزاری کرو اور ناشکری سے بچو۔(البقرۃ:152)کہیں اللہ نے فرمایا کہ ’’ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ‘‘اے ایمان والو!جوپاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ،پیو اور اللہ کا شکرکرو،اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو۔(البقرۃ:172) کہیں اللہ نے فرمایا کہ ’’ فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ‘‘جوکچھ حلال اور پاکیزہ روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکرکرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔(النحل:114)کہیں اللہ نےفرمایا کہ ’’ وَمِنْ رَحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ‘‘ اسی اللہ نے تو تمہارے لئے اپنے فضل وکرم سے دن رات مقرر کردئے ہیں کہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں اس کی بھیجی ہوئی روزی تلاش کرو،یہ اس لئے کہ تم شکرادا کرو۔(القصص:73)سنا آپ نے کہ رب العزت نے اپنے کلام پاک کے اندر جگہ جگہ پر اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ کا شکربجالاتے رہیں مگر افسوس صد افسوس دیکھا یہ جاتاہے کہ اکثر لوگ اللہ کی ناشکری کرتے رہتے ہیں جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ ‘‘بے شک اللہ لوگوں پر بڑے فضل والا ہے لیکن اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔(البقرۃ:243) اور اس بات کا ذکر رب العزت نے اپنے کلام پاک کے اندر کئی جگہ پر کیا ہے کہ اس کائنات میں اکثر لوگ ناشکرے ہیں ،آپ قرآن مجید کھولئے سورة بقره كے اندر،سورہ یوسف کے اندر سورہ غافر وغیرہ کے اندر آپ کو یہ الفاظ ملیں گے کہ ’’ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ ‘‘ اکثر لوگ ناشکرے ہیں،کہیں آپ کو یہ الفاظ نظر آئیں گے کہ ’’ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ ‘‘ تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو،قرآن مجید کے اندر رب العزت نے تو یہاں تک اعلان کردیا ہے کہ اللہ رب العزت نے لوگوں کے اوپر بے شمار احسانات کئے ،لوگوں کے لئے کائنات بنائی،لوگوں کے لئے رات ودن اور سورج وچاند کو بنایا،لوگوں کو اللہ رب العزت نے آنکھ وکان اور دل جیسی قیمتی نعمتوں سے نوازا مگر یہ انسان ان نعمتوں پریا تو اللہ کا شکر ہی ادا نہیں کرتاہے یا پھر بہت ہی کم شکر بجا لاتا ہے جیسا کہ قرآن گواہی دے رہاہے ،فرمان باری تعالی ہے ’’ وَقَلِيلٌ مِنْ عِبادِيَ الشَّكُورُ ‘‘ميرےبندوں میں سے شکرگزار بندے کم ہی ہوتے ہیں ۔(سبا:13)یقیناً اس کائنات میں اکثر لوگ اچھا سے اچھا کھاتے و پیتے اور پہنتے ہیں مگر اللہ کی ناشکری کرتے رہتے ہیں اورہروقت گلے وشکوے کرتے نظر آتے رہتے ہیں تو جولوگ بھی ناشکری کرتے ہیں ایسے لوگ یہ سن لیں اور جان لیں کہ ناشکری رب العزت کو بالکل بھی پسندنہیں ہے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ ‘‘ اگر تم ناشکری کرو تو (یادرکھو کہ) اللہ تم سب سے بے نیاز ہے،اور وہ اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکرکرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرے گا۔(الزمر:7)سنا آپ نے کہ اللہ رب العزت کو شکر پسند اور ناشکری ناپسند ہے یہی وجہ ہے کہ شکرگزاری سے اللہ رب العزت خوب نوازتاہے اور ناشکری سے عذاب سے دوچار کرتاہے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ ‘‘ اور جب تمہارے پروردگار نے نے تمہیں آگاہ کردیا کہ اگر تم شکرگزاری کروگے تو بے شک میں تمہیں زیادہ دوں گا اور ناشکری کروگے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔(ابراہیم:7)اور ایسا ہوچکا ہے کہ رب العزت نے اسی ناشکری کی وجہ سے ہی ایک بستی والوں سے نعمتیں چھین لیں اورانہیں ڈر وخوف اور غریبی سے دوچارکردیا تھا جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ ‘‘ اللہ اس بستی کی مثال بیان فرماتاہے جو پورے امن واطمینان سے تھی،اس کی روزی اس کے پاس بافراغت،ہرجگہ سے چلی آ رہی تھی۔پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزہ چکھایا جو ان کے کرتوتوں کا بدلہ تھا۔(النحل:112)پتہ یہ چلا کہ جب لوگ ناشکری کرتے ہیں تو اللہ رب العزت لوگوں کی زندگی سے امن وسلامتی کو چھین کر ڈر وخوف کے اندر مبتلاکردیتا ہے اور ان کی امیری وبادشاہی اور معیشت وزندگی کو تباہ وبربادکرکے ان کو غریبی وفقیری میں مبتلا کردیتاہے!اس لئے میرے بھائیو اور بہنو !اگر تمہیں اللہ کی نعمتیں خوب چاہئے اوراگران نعتموں سے خوب لطف اندوز ہونا ہےتوہمیشہ اللہ کا شکر بجالاتے رہو ،اوریہ بات اچھی طرح سے یاد رکھ لو کہ جب بھی کچھ کھاؤ اورپیو تو اللہ کاشکر بجالاؤ کیونکہ اس ادا کو اللہ رب العزت پسند فرماتاہے اور ایسے انسان سے راضی و خوش بھی ہوجاتاہے جو رب العزت کا شکر بجالاتا ہےجیسا کہ حبیب کائنات ومحبوب خداﷺ نے فرمایا ’’ إِنَّ اللهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا ‘‘ بے شک اللہ تعالی اپنے بندے سے راضی ہوجاتاہے کہ اس کا بندہ جب کھانا کھائے یا پانی کا گھونٹ پئے تو اس کا شکرادا کرے۔(مسلم:2734،ترمذی:1816)

میرے دوستو!جیسا کہ ابھی آپ نے یہ سنا کہ رب کو شکرپسند ہے اور ناشکری ناپسند ہےتو آئیے اسی سلسلے میں آپ کو ایک قیمتی بات بتادیتاہوں کہ ہم اپنے اندر شکرکا مادہ اور شکر الٰہی کا جذبہ کیسے پیداکرسکتے ہیں؟ اور ہم ناشکری سے اپنے آپ کو کیسے بچاسکتے ہیں؟ تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ اللہ کا شکرگزاربندہ بن کر رہیں تو پھر ہم اپنی زندگی کےتمام دنیوی امورومعاملات کے اندر ہم ہمیشہ اپنے سے کمتر لوگوں کو دیکھیں!یعنی کہ اگر ہم کم کمارہے ہیں تو ان لوگوں کی طرف دیکھیں جو بے روزگار ہیں!اگر ہم مالدار ہیں تو ان لوگوں کی طرف دیکھیں جو غربت وافلاس کی چکی میں پس رہے ہیں!اگرہم صحت مند ہیں تو ان لوگوں کی طرف دیکھیں جو دائمی مریض ہیں!اگرہم ایسا کرتے ہیں تو آپ یقین مانئے کہ ہم کبھی بھی اپنے زبان پر ناشکری کے الفاظ نہیں لائیں گے اور اسی بات کا حکم دیتے ہوئے سیدالکونین ومحبوب خداﷺ نے دیا کہ ’’ إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي المَالِ وَالخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ ‘‘ جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو مال اور شکل وصورت میں اس سے بڑھ کر ہے تو اسے ایسے شخص کویادکرنی چاہئے جو اس سے کم درجہ کا ہے۔(بخاری:6490)یقیناً جو انسان ایسے شخص کی طرف نظر دوڑائے گا جو مال ودولت اور شکل وصورت میں اس سے بڑھ کرہوگا تو وہ کئی طرح کی اخلاقی بیماریوں میں ملوث ہوجائے گا،مثلاً وہ حسد وجلن،بغض وعداوت یا پھر حرص وطمع کا شکارہوگا یاپھر اپنے زبان پر گلے وشکوے لائے گا اور پھر اپنے رب سے شاکی وبدگمان ہوگا اسی کے برعکس اگر کوئی انسان اپنے سے کمتر درجے والے انسان کو دیکھے گا تو ضرور اس کے دل میں شکرالٰہی کا جذبہ پیدا ہوگا اور ہرطرح کی اخلاقی بیماریوں سے محفوظ رہے گا اور اسی بات کا تذکرہ کرتے ہوئے حبیب کائنات ومحبوب خداﷺ نے فرمایا کہ ’’ انْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ ‘‘ اس شخص کی طرف دیکھو جو تم سے نیچے ہو اور اس شخص کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہے یہ زیادہ لائق ومناسب ہے کہ تم اللہ کی اس نعمت کو حقیر نہ جانوجو تم پر ہے۔(مسلم:2963،ابن ماجہ:4142،ترمذی:2513)یاد رکھ لیجئے دنیاوی امور ومعاملات میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھنا ہے مگردینی امورومعاملات میں ہمیشہ اپنے سے اوپر والے انسان کو دیکھنا ہے،سماج ومعاشرے کے اندر دیکھا یہ جاتاہے کہ لوگ دنیاوی امورومعاملات میں تو اپنے سے اوپر والے لوگوں کو دیکھتے ہیں اور دینی امورومعاملات میں اپنے سے کمتر لوگوں کو دیکھتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے وہ اپنی دین ودنیا دونوں خراب کرلیتے ہیں اور ساتھ میں اپنی زندگی کا ہرچین وسکون کو بھی جہنم بنالیتے ہیں ،اس لئے میرے بھائیواوربہنو! اگر آپ اپنے رب کا شاکربندہ وبندی بننا چاہتے ہیں ،اگر آپ اپنی زندگی کا چین وسکون چاہتے ہیں اور اگر آپ اپنے آپ کو ہرطرح کی اخلاقی وروحانی بیماریوں سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیشہ اپنے سے کمترلوگوں کی طرف دیکھاکریں ،حضرت عون بن عبداللہؒ کیا خوب فرماتے ہیں کہ ’’ میں نے اہل دولت کی محفل کو اپنائے رکھا(مگر مجھے سوائے ذہنی کوفت کے اور کچھ بھی دستیاب نہ ہوسکا) کیونکہ میں نے دیکھا کہ ان کی سواریاں میری سواری سے عمدہ اور ان کے لباس میرے لباس سے شاہانہ ہیں،اس کے بعد میں نے فقیروں کی مجلس میں قدم رکھا تو وہاں جاکرمجھے (قلبی) استراحت میسر ہوئی ‘‘ ۔(شرح السنۃ:14/295 بحوالہ شرح صحیفہ ہمام بن منبہ:ص:35)

2۔رب کو اظہارنعمت پسند اور کتمان نعمت ناپسند ہے:

میرے بھائیو اوربہنو!جن چیزوں کو اللہ پسند کرتاہے اس میں سے ایک پسندیدہ چیز یہ ہے بھی ہے کہ اگر اللہ نے نعمتوں سے نوازا ہے تو بندہ فخروغرور اور دوسروں کو حقیر جانے بغیر اس کا اظہار کرے اوررب کے نزدیک ناپسندیدہ حرکت یہ ہے کہ انسان کوتو اللہ نعمتوں سے نوازے مگر وہ اس کو چھپاتا پھرے ،سماج ومعاشرے میں دیکھا یہ جاتاہے کہ لوگوں کے پاس اللہ کی نعمتیں وافر مقدار میں ہوتی ہیں مگر وہ ان نعمتوں سے نہ تو خود فائدہ اٹھاتاہے اور نہ ہی دوسروں کو فائدہ اٹھانے دیتاہے،کچھ لوگوں کو دیکھا یہ جاتاہے کہ ان پاس مال ودولت کی کمی نہیں ہوتی ہے مگر وہ اپنے اوپر غریبی ومحتاجگی مسلط کئے پھرتے رہتے ہیں اور یہ باورکرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو جو لوگ بھی ایسی حرکت کرتے ہیں وہ یہ جان لیں کہ رب العزت کو یہ چیز بالکل بھی پسند نہیں ہے جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ کا یہ فرمان ہے کہ ’’ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَنْعَمَ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ النِّعْمَةِ عَلَيْهِ ‘‘جب اللہ رب العزت اپنے بندوں کو نعمتوں سے نوازتاہے تو وہ اس بات کو پسند کرتاہے کہ بندے پر اس نعمت کا اثر دیکھے ،’’ وَيَكْرَهُ الْبُؤْسَ وَالتَّبَاؤُسَ ‘‘اور اللہ رب العزت غربت وبدحالی،فقیری وتنگ دستی ظاہرکرنے کو ناپسند کرتاہے، اور’’ وَيُبْغِضُ السَّائِلَ الْمُلْحِفَ ‘‘اللہ رب العزت کو یہ بات بھی ناپسند ہے کہ کوئی انسان لوگوں سے چمٹ چمٹ کرسوال کرے اور’’ وَيُحِبُّ الْحَيِيَّ الْعَفِيفَ الْمُتَعَفِّفَ ‘‘ اللہ رب العزت باحیا وپاکدامن اورپاکباز لوگوں کو بہت پسند کرتاہے۔ (الصحیحۃ:1320،1290، بیہقی:5791، ترمذی:2819) میرے دوستو!سناآپ نے کہ اللہ رب العزت کو یہ بات پسند ہے کہ بندہ اللہ کی عطاکردہ نعمتوں کا اظہار کرے،اگراللہ نے نعمتوں سے نوازا ہے تو انسان اس کا اظہارکرے،اچھا کپڑا پہنے،اچھاکھائےاور عمدہ سے عمدہ سواری پر سوارہومگر انسان کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ نعمتوں کے اظہارمیں کبروغروراورتکبر سے کام لےکیونکہ ان چیزوں سےاللہ رب العزت کو نفرت ہے،یعنی کہ اگراللہ نے آپ کو مال ودولت سے نوازا ہے تو اچھا سے اچھا کھائیے اور پیجئے اور اچھاسے اچھا لباس پہنئے مگر کسی کو حقیروذلیل نہ سمجھئے،اسی بات کا حکم دیتے ہوئے جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ ’’ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَتَصَدَّقُوا فِي غَيْرِ مَخِيلَةٍ وَلَا سَرَفٍ فَإِنَّ اللهَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ ‘‘اسراف وفضول خرچی اور کبروغرور اور اترائے بغیرخوب کھاؤ اور پیو اور ساتھ میں خوب صدقہ وخیرات بھی کرتے رہاکرو کیونکہ اللہ کو یہ بات پسند ہے بندے پر اس کی عطاکردہ نعمتوں کا اثرہو۔(بیہقی:5786) پتہ یہ چلا کہ ہم رب کی نعمتوں کا اظہارتوکریں مگرنہ تو ہم اترائیں اور نہ ہی کبروغرورکو اپنائیں اور نہ ہی کسی کو حقیروذلیل سمجھیں ورنہ عذاب الٰہی سے دوچاربھی ہوسکتے ہیں جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے بنی اسرائیل کایہ واقعہ سنایا کہ’’ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ تُعْجِبُهُ نَفْسُهُ مُرَجِّلٌ جُمَّتَهُ إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ ‘‘ ایک آدمی عمدہ لباس پہن کر گھمنڈ وغرور سے چوراتراتے ہوئے،بالوں میں کنگھی کئے ہوئے اکڑاکڑ کرچل رہاتھا کہ رب العزت نے اسے زمین میں دھنسادیا،اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی جائے گا۔(بخاری:5789،مسلم:2088،الصحیحۃ:1507)اس لئے میرے بھائیو اور بہنو!بغیرکبروغرور کے اللہ کی نعمتوں کا اظہار بھی کیاکروکیونکہ یہ ادا رب کو پسند ہےاوراللہ کی نعمتوں کو چھپاکرلوگوں کے سامنے میں اپنے آپ کو فقیرومسکین نہ ظاہرکیاکرو،ورنہ ہمیشہ کے لئے فقیرومسکین بن جاؤگے کیونکہ یہ چیز رب کو بالکل بھی پسند نہیں ہے کہ کوئی اللہ کی تمام نعمتوں کو پاکرکے بھی لوگوں کے سامنے میں اپنے آپ کو غریب وفقیر ظاہرکرے،سماج ومعاشرے کے اندر دیکھا یہ جاتاہے کہ لوگ اللہ کی نعمتوں کو چھپائے پھرتے ہیں،اپنے پاس سب کچھ مال ودولت،بینک وبیلنس وغیرہ رہنے کے باوجود بھی لوگوں کے سامنے میں اپنی غریبی کا رونا روتے ہوئے یہ کہتے رہتے ہیں کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے،تو جولوگ بھی یہ حرکت کرتے ہیں وہ لوگ یہ بات اچھی طرح سے جان لیں کہ ایساکرنا رب العزت کو بالکل بھی پسند نہیں ہے بلکہ ایسے لوگوں سے تو اللہ رب العزت کو نفرت ہےجو ایک تو اللہ کی نعمتوں کو چھپاتے ہیں اوردوسری بری حرکت تو یہ کرتے رہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے میں اپنے آپ کو غریب وفقیر ظاہرکرتے رہتے ہیں ۔

3۔ رب کو اچھے اخلاق پسند اور برے اخلاق ناپسند ہیں:

میرے دوستو!اسلام کی تمام خوبیوں میں سے ایک عظیم خوبی یہ ہے کہ مذہب اسلام لوگوں کو اخلاق حسنہ کی تعلیم دیتاہے او رآپﷺ کی بعثت بھی اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لئے ہوئی تھی جیسا کہ خودآپ ﷺ نے یہ کہا کہ ’’ إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الأخلاق ‘‘بے شک کہ مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل لے لئے بھیجاگیا ہے۔(الادب المفرد:273،الصحیحہ:45،صحیح الجامع للألبانیؒ:2349)مگرمجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہاہے کہ جس مذہب کی تعلیم ہی اخلاق حسنہ ہے آج اسی مذہب کے ماننے والے افراد ہی سب سے زیادہ برے اخلاق وکردار کے حامل ہیں ،عیاری ومکاری،جھوٹ ودغابازی،مکروفریب، بغض وعداوت،کبروغرور،حسدوجلن،ظلم وزیادتی،لڑائی وجھگڑے،فتنے وفساد،قتل وغارت گری غرض کہ کون سی ایسی خرابی وبداخلاقی ہے جو آج مسلمانوں کے اندر نہیں ہے اورجس کا نتیجہ یہ ہورہاہے کہ اسلام کو بدنام کیاجارہاہے،ایک دور ایسا تھا کہ لوگ مسلمانوں کے اخلاق وکردار کو دیکھ کرمسلمان بن جایا کرتے تھے اور آج ایک ایسا دور ہے کہ ہم مسلمانوں کے اخلاق وکردار کی وجہ سے اسلام کو مشق ستم بنایا جارہاہے اور لوگ علی الاعلان یہ کہہ رہے ہیں جب مسلمان ایسے ہیں تو اسلام مذہب بھی ایسا ہی ہوگا۔نعوذ باللہ۔اس بارے میں کوئی شک وشبہ ہی نہیں ہے کہ آج ہمارے اخلاق وکردار ہی نے ہمارے برادران وطن کے دلوں میں ہمارے خلاف بغض وعداوت کو ہوا دی ہے،آج یہ پیغام ونصیحت لے کر جائیں کہ اگر ہم اپنے برادران وطن کے دلوں سے اپنے خلاف بغض وعداوت کو ختم کرکے اپنے لئے ان کے دلوں میں محبت کی جوت جگانا چاہتے ہیں اور انہیں رام کرنا چاہتے ہیں تواس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم سب اپنے آپ کو بدلیں اوراپنےاپنے اخلاق وکردار کو اچھا بنائیں،قرآن ہمیں یہ تسلی دے رہاہے کہ اگر تم اچھے اخلاق وکردار کے حامل بنوگے تو تمہارے جانی دشمن بھی تمہارےدلی دوست بن جائیں گے،سنئے قرآن کا پیغام فرمان باری تعالی ہے’’ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ‘‘نيكي اور بدي برابر نهيں ہوتی،برائی کو بھلائی سے دفع کرو،پھروہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہوجائے گا جیسے دلی دوست۔(حم السجدہ:34)ذرا غورکیجئے کہ اللہ کا پیغام کیا ہے اور ہم کیا کرتے ہیں!اللہ نے یہ کہاکہ تم برائی کا بدلہ احسان ونیکی سے دو مگر ہم یہ کہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ جیسے کو تیسا ،جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ہمارے دوست بھی دشمن بن جاتے ہیں ،اس لئے میرے بھائیواور بہنو! اچھے اخلاق وکردار کو اپناؤ اور برے اخلاق وکردار سے دور رہو کیونکہ اچھا اخلاق تو رب کو پسند ہے مگر بداخلاقی وبدکرداری رب کو بالکل بھی پسند نہیں ہے بلکہ رب العزت کو تو بدکردار وبداخلاق لوگوں سے سخت نفرت ہے جیسا کہ حبیب کائنات ومحبوب خداﷺ نے فرمایا کہ ’’ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ وَيُحِبُّ مَعَالِيَ الْأَخْلَاقِ وَ يُبْغِضُ سَفْسَافَهَا ‘‘ بے شک اللہ تعالی رحیم وکریم ہے،مہربانی اور بلند اخلاق کو پسند کرتاہے اور برے اخلاق وکردار سے نفرت کرتاہے۔(الصحیحۃ:1378،صحیح الجامع للألبانیؒ:1801)اورایک دوسری روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایاکہ ’’ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ مَعَالِيَ الْأُمُورِ وأَشْرَافَهَا وَيَكْرَهُ سَفَاسِفَهَا ‘‘بے شک اللہ تعالی ہراچھےاچھے کاموں کو پسند کرتاہے اور رذیل وگھٹیا کاموں کو ناپسند کرتاہے۔(الصحیحۃ:1627)اس لئےمیرے دوستو!ہراچھے اخلاق وکردار کو اپناؤ اورہربرے اخلاق وکردار سے اپنے آپ کو دور رکھو،اگر اچھے اخلاق وکردار کو اپناؤگے توجہاں ایک طرف تم محبوب خدا بن جاؤگے،وہیں دوسری طرف تمہیں بروزقیامت اپنے نبیﷺ کی محبت وصحبت بھی ملے گی جیسا کہ سیدنا جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا ‘‘ بے شک تم میں سے مجھے سب زیادہ پیارے اور قیامت کے دن میرے قریب بیٹھنے والے وہ ہیں جو تم میں سے اچھے اخلاق والے ہیں ’’ وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ الثَّرْثَارُونَ وَالمُتَشَدِّقُونَ وَالمُتَفَيْهِقُونَ ‘‘اور تم میں سے مجھے سب سے زیادہ نفرت والے اورقیامت کے دن مجھ سے دور بیٹھنے والے وہ لوگ ہوں گے جو ہروقت بک بک کرتے رہتے ہیں اور بدزبانی کرتے ہیں اور تکبر کرتے ہیں۔(الصحیحۃ:791،ترمذی:2018)اس لئے میرے بھائیو اور بہنو! اس بداخلاقی وبدکرداری سے ہمیشہ دور رہوورنہ تمہارے سارے اعمال حسنہ بھی ضائع وبرباد ہوجائیں گے جیسا کہ فرمان نبویﷺ ہے كه’’ إِنَّ سُوءَ الْخُلُقِ يُفْسِدُ الْعَمَلَ كَمَا يُفْسِدُ الْخَلُّ الْعَسَلَ ‘‘ بے شک بداخلاقی وبدکرداری نیک اعمال کو ایسے ہی ضائع وبرباد کردیتی ہے جس طرح سرکہ شہد میں بگاڑ پیداکردیتاہے۔(الصحیحۃ:906)بداخلاقی وبدکرداری کی انہیں خرابیوں کی وجہ سے ہی آپﷺ ہمیشہ برے اخلاق سے اللہ کی پناہ پکڑا کرتے تھے جیسا کہ سیدنا قُطْبَہ بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ یہ دعاکیا کرتے تھے کہ ’’ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الأَخْلَاقِ وَالأَعْمَالِ وَالأَهْوَاءِ وَالْأَدْوَاءِ ‘‘اے اللہ! میں برے اخلاق،برے اعمال اور بری خواہشات اور ہرچھوٹی بڑی بیماریوں سے تیری پناہ پکڑتا ہوں۔(ترمذی:3591،صحیح الجامع للألبانیؒ:1298) یہ تو برے اخلاق وکردار سے اللہ کی پناہ پکڑنے کی دعا ہے،اب ذرا اچھے اخلاق کی وہ دعا بھی سن لیں جو آپﷺ مانگا کرتے تھے، جیسا کہ سیدناابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ اخلاق حسنہ کے لئے اپنے رب سےیہ دعامانگاکرتے تھے ’’ اللَّهُمَّ كَمَا حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي ‘‘ اے اللہ تونے میری شکل وصورت بہت اچھی بنائی ہے پس اب تو میرے اخلاق وکردار کو بھی بہت اچھا کردے۔(صحیح الجامع للألبانیؒ:1307،طبرانی:404)یہ دعا تو اللہ رب العزت سے اچھے اخلاق وکردارمانگنے کی ہے مگر لوگ یہ سمجھتے ہیں یہ آئینہ دیکھنے کی دعا ہے مگر یہ دعاآئینہ دیکھنے کی نہیں ہے،اس بارے میں جوروایت آئی ہے وہ سخت ضعیف ہے،علامہ البانیؒ نے کہا کہ ’’ هذا إسناد ضعيف جدا ‘‘ اس کی سند بہت سخت ضعیف ہے۔(ارواء الغلیل:74)

4۔رب کو ایک جگہ پسند اور ایک جگہ ناپسند ہے:

میرے دوستو!اب آئیے میں آپ کو ایک ایسی حدیث سنانے والا ہوں جس کے اندر اس بات کا تذکرہ ہے کہ اللہ رب العزت کو ایک جگہ پسند اور ایک جگہ ناپسند ہے،مجھے بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہاہے کہ زیادہ تر لوگ اسی جگہ کو پسند کرتے ہیں جو رب کو ناپسند ہے اور جورب کو پسند ہے اس جگہ آنے سے جی چراتے ہیں!اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسی کون سی جگہ ہے جورب کو تو پسند ہے مگر مسلمانوں کو پسند نہیں اور جومسلمانوں کو پسند ہے وہ رب کو پسند نہیں تو سن لیجئے حدیث ،سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدالاولین والآخرین جناب محمدعربیﷺ نے یہ بیان فرمایا کہ ’’ أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ مَسَاجِدُهَا وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ أَسْوَاقُهَا ‘‘ اللہ کے نزدیک روئے زمین پر سب سے محبوب جگہ مساجد ہیں اور اللہ کے نزدیک سب سے مبغوض جگہ یہ بازار ہیں۔(مسلم:671)جی ہاں میرے دوستوں!آپ نے بالکل ہی صحیح سنا کہ اللہ رب العزت کے نزدیک سب سے محبوب جگہ یہ مسجدیں ہیں مگر افسوس صد افسوس آج مسلمانوں کی حالت اور عادت یہ ہے کہ جب انہیں کوئی غم وٹینشن ہوتاہے یا پھر کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو وہ سیدھا بازار کا رخ کرتاہے اور اپنے غم وپریشانی کو ہلکا کرنے کے لئے جگہ جگہ کا چکر لگاتاہے مگر خدا کے گھر میں آنا مناسب نہیں سمجھتاہے،بازار میں روپئے پیسے خرچ کرکے قلبی سکون حاصل کرنا چاہتاہے مگر مسجد میں جہاں اس کا ایک روپیہ بھی خرچ نہ ہوگا اسے وہاں سکون نظر نہیں آتاہے،اے لوگوں سن لو!غم وپریشانی کے وقت میں بازار میں جانے سے تمہیں سکون کبھی نہیں ملے گا کیونکہ وہ جگہ رب کی نظر میں بہت ہی بری جگہ ہے ،اگر تمہیں دلوں کا سکون واطمینان چاہئے تو پھر مسجدوں کا رخ کیا کرو کیونکہ یہ مسجدیں رب کی سب سے محبوب جگہیں ہیں ،جہاں رب کی رحمتیں وبرکتیں نازل ہوتی ہیں،جہاں فرشتوں کا آنا جانا لگا رہتاہے،جہاں آنے والا رب کا مہمان ہوتاہے،ذرا سوچئے کہ جس مہمان کا میزبان رب ہو کیا اس کی پریشانی ختم نہیں ہوگی،ضروربالضرور ہوگی اس لئےجب کبھی بھی پریشانی آئےتو سیدھے مسجدوں میں آجاؤ،بیٹھو،ذکرواذکار کرو،تلاوت قرآن کرو،دعائیں کرو،نمازیں پڑھوتمہیں دلی سکون واطمینان حاصل ہوگا اورتمہاری ہرپریشانی ضرور بالضروردورہوجائے گی،کیا آپ نے اپنے نبیﷺ کا یہ عمل نہیں سنا کہ جب کبھی بھی آپﷺ کوکوئی پریشانی آتی تو سیدھا نماز کے لئے کھڑے ہوجایا کرتے تھےجیسا کہ سیدنا حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ صَلَّى ‘‘ نبیﷺ کو جب کوئی غم لاحق ہوتا تو نماز پڑھنے لگتے تھے۔(ابوداؤد:1319 وقال الألبانیؒ اسنادہ حسن)یہ ہے ہمارے نبیﷺ کا طرز عمل اور ایک ہم اور آپ ہیں کہ ہمیں کوئی غم لاحق ہوتاہے تو بازاروں کا رخ کرتے ہیں ۔بھلاآپ ہی بتلائیے کہ جوانسان رب کی ناپسندیدہ جگہوں پر جائے گا توکیا اس کی پریشانی ختم ہوگی؟جی نہیں !ہرگز نہیں !بلکہ ایسی جگہوں پر جانے سے پریشانی مزید اور بڑھے گی،تواگر آپ اپنی پریشانیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو پھر اللہ کی محبوب جگہ مسجد کا رخ کیا کریں،آج میڈیکل سائنس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جب کوئی انسان نماز کے لئے کھڑا ہوتاہے تو اس کے جسم اوراس کے اعضاء وجوارح سے خوشی کے ہارمونس پیداہوتے ہیں ۔اللہ اکبرکبیرا۔۔آج سائنس کی یہ تحقیق اورریسرچ ہے جب کہ اسی چیز کی تعلیم تو اللہ کے حبیب جناب محمدعربیﷺ نے برسوں پہلے دی تھی کہ جب بھی زندگی میں کوئی غم وپریشانی آئے تو نماز پڑھنا شروع کردو،اس لئے میرے بھائیو اوربہنو!اگرتمہیں اپنے غم والم،دکھ وتکلیف سے نجات چاہئے تو پھرخداکے گھروں کا رخ کیا کرو اور نمازوں کا اہتمام کیاکرو ۔

میرے دوستو!ابھی آپ نے یہ حدیث سنی کہ یہ مسجدیں اللہ کی سب سے محبوب جگہیں ہوتی ہیں اس لئےیہاں پربڑے ادب واحترام سے آیا کرو،اوریہ بات اچھی طرح سے یاد رکھ لو کہ یہاں پرآنے والا ہرانسان رب کا مہمان ہوتاہے اس لئے یہاں آکر رب کے کسی مہمان کے لئے تکلیف کا باعث نہ بنو ،ورنہ ہلاک وبرباد ہوجاؤگے،بہت افسوس کا مقام ہے کہ آج ہم مسلمانوں کی نظر میں اس خدا کی محبوب جگہ کی کوئی عزت واحترام نہیں ہے،دیکھا یہ جاتاہے کہ لوگ مسجد میں بیٹھ کر غیبت وچغلخوری کرتے رہتے ہیں،آج لوگوں نے مسجدوں کو سیاست کا اڈہ سمجھ لیا ہے،ہرکوئی مسجد میں آکر شرارت کرنا اپنا حق سمجھتاہے،دیکھا اور سنا یہ گیا ہے کہ اکثر رمضان جیسے عظیم مہینے کے اندربھی کئی مسجدوں میں لوگ ہاتھا پائی اور گالی گلوچ کرنے سے بھی باز نہیں آتے ہیں،میں بذات خود اورآپ لوگ بھی ایسے دو یا تین مساجد کوضرورجانتے ہوں گے جہاں مسلمانوں نے مسجدوں میں اتنی شدت سےہاتھا پائی ، لڑائی جھگڑےاورگالی گلوچ کئےکہ پولس تک بات گئی اورپھر پولس کو مسجد میں گھس کر اس معاملے کو نپٹانا پڑا،اللہ اکبر کبیرا۔کتنی شرم وعار کی بات ہے اورچلوبھرپانی میں ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان اوراہل حق کہنے والے لوگوں کی مسجدیں بھی اب سیاست بازی اور ان جیسی بری بری حرکات وسکنات سے پاک نہیں ہے،بلکہ آج کل دیکھا یہ جارہاہے کہ ہم اہل حدیث لوگوں کی مساجد ہی میں سب سے زیادہ فتنے وفساد ہوتےنظر آرہے ہیں۔اللہ کی پناہ!ایک مرتبہ تومیں نے خود اپنے کانوں سے سنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک انسان جو خود بے نمازی ہے ایک بچے کی شرارت پر بعدنماز جمعہ مسجد ہی میں اس بچے کو ماں بہن کی بے تکی گالی دینے لگا ۔نعوذ باللہ ۔آپ کیا سمجھتے ہیں کیا ایسے لوگوں کو رب العزت ایسے ہی چھوڑ دے گا ؟ہرگز نہیں !دیکھا اور سنا یہ گیا ہے کہ لوگ مسجد کے امام ومؤذن کو بلاوجہ میں بہت تکلیف دیتے ہیں ،جن کو سورہ فاتحہ بھی یاد نہیں ہوتاہے وہ بھی دوچار امام کوسنا کر چلا جاتاہے،جس کو نماز پڑھنے کا طریقہ نہیں آتا ہے وہ کہتاپھرتاہے کہ اس مسجد کے امام صاحب کو نمازہی پڑھانی نہیں آتی ہے ،جومسجد میں کبھی کبھی آتاہے یا پھر رمضان ٹو رمضان آتاہے وہ بھی امام صاحب کے کچھ سیکنڈ یا پھر کچھ منٹ لیٹ آنے پر واویلا مچانا شروع کردیتاہے بلکہ کچھ لوگ توایسے بھی پائے گئے ہیں کہ ان کو اپنی گھر کی فکر نہیں ہے،ان کو اپنی بیوی وبیٹی کی فکر نہیں ہے کہ ان کی بیوی وبیٹی کہاں جارہی ہے اور کہاں سے آرہی ہےمگر امام صاحب پر بڑی کڑی نظر رکھتے ہیں کہ وہ کیا کررہے ہیں اور کس کس سے ملاقات کررہے ہیں،ہمارے ملک عزیز کے اندر کچھ ایسی مسجدیں ہیں جہاں کے لوگ اتنے زیادہ شریف ہیں کہ وہاں امام ایک دومہینے یا پھر چھ مہینے سے زیادہ ٹک نہیں پاتے ہیں ،اور تو اور ہے کچھ ایسی مسجدیں بھی ہیں جہاں کے لوگ اپنی کمینگی میں اتنے مشہور ہیں کہ وہاں کی مسجد ہمیشہ امام سے خالی رہتی ہے،تو جولوگ بھی اس طرح کی اوچھی اور نیچ حرکتیں کرتے ہیں تو ایسے لوگ یہ سن لیں اورجان لیں کہ جب یہ مسجد رب کی سب سے محبوب جگہ ہے اور یہاں پر آنے والا ہرانسان رب کا مہمان ہے توجوانسان بھی رب کے مہمانوں کو تکلیف دے گا اور رب کی محبوب جگہوں پر شرارت کرے گا تواللہ رب العزت اسے چھوڑے گا نہیں بلکہ ایسے لوگوں کو رب العزت دنیا وآخرت میں ضرور بالضرور ذلیل ورسوا کرکے سخت سے سخت عذاب سے دوچارکرے گا ،اگر آپ کو میری باتوں پر یقین نہ ہورہاہوتو آئیے میں آپ کو ایک سچا واقعہ سنادیتاہوں تا کہ آپ کو میری باتوں پر کامل یقین ہوجائے ،ہمارے ایک جماعتی بھائی نے یہ کہا کہ مولانا میری بہن کے سسر صاحب ایک مسجد کے متولی تھے اور ان کی عادت یہ تھی کہ وہ مسجد ہی میں بلاوجہ میں یا پھر کسی وجہ سے مصلیوں کو گالیاں دیا کرتے تھے،پھر کیا ہوا ؟ذرا دل تھام کر سنئے اور اپنی اصلاح کرلیجئے ،انہوں نے کہا کہ ان کے اوپر فالج کا ایسا اٹیک ہوا کہ وہ بسترمرگ ومرض پر کم وبیش دس سال تک اس حالت میں پڑے تھے کہ زبان سے ایک لفظ نہ بول پاتے تھے۔یہ ہوتاہے رب کے محبوب جگہوں پر شرارت کرنے کا انجام!اورایک سچا واقعہ سنئے صوبہ اڑیسہ کےاندر ایک شخص نے ایک امام صاحب کے اوپر ہاتھ اٹھایاتھا !اللہ کا انتقام دیکھئے کہ ایک یادوسال کے اندر ہی وہ انسان مرگیا،اس کے بچے یتیم اور اس کی بیوی بیوہ ہوگئی،زمین وجائداد سب بک گئے غرضیکہ اس کا پورا گھرانہ تباہ وبربادہوگیا،یہ ہوتاہے رب کی محبوب جگہوں سے جڑے ہوئے لوگوں کے ساتھ شرارت کرنے کا انجام! اس لئے میرے بھائیو! اللہ کے گھرکا ہمیشہ پاس ولحاظ رکھا کرواورکبھی بھی اللہ کے گھرمیں اونچی آواز سےباتیں نہ کیا کرو،دیکھا یہ جاتاہے کہ جس کی گھرمیں نہیں چلتی،جس کی بیوی اور اولاد بات نہیں مانتی وہ انسان مسجد میں آکر چیختااورچلاتا اورلوگوں پرحکم چلانے کی کوشش کرتارہتاہے،آپ مسکرائیے مت!یہ حقیقت ہے اورمیں سچ کہہ رہاہوں کہ جوانسان مسجد میں لوگوں کو تکلیف دے رہاہے تو سمجھ جائیے کہ وہ انسان اپنی بیوی بچوں سے بہت پریشان ہے،اس لئے وہ یہاں پر آکر اپنے دل کا بھڑاس نکال لیتاہے،مگرایسے لوگ یہ بات اچھی طرح سے جان لیں کہ یہ کوئی مے خانہ نہیں ہے کہ یہاں پر جس کی مرضی میں جوآئے وہ کرے،یہ تو خداکی سب سے محبوب جگہ ہے،یہاں دن رات اللہ کی عبادتیں کی جاتی ہیں،یہاں پر ہرآن اورہرلمحہ فرشتوں کی حاضری ہوتی رہتی ہے غرضیکہ مسجد ایک ایسی جگہ ہے جہاں پرہروقت اورہرآن وہرلمحہ نوربرستا رہتاہے،اب ذرا سوچئے اورخود فیصلہ کیجئے کہ وہ جگہ جورب العزت کی نگاہ میں محبوب ہے اب اگرکوئی اس جگہ پر شرارت کرے گا تو کیا وہ اللہ کی سزا اوراللہ کی پکڑ سے بچ سکے گا؟ہرگز نہیں !جواللہ کی پسندیدہ جگہوں پر شرارت کرتے تواللہ اسے ہرگزہرگز چھوڑے گا نہیں بلکہ اسے اس دنیا میں ہی سزاسے دوچارکرے گا،اس لئے میرے بھائیو اوربہنو! ہم اورآپ اپنے اپنے مساجد کا ادب واحترام کیاکریں کیونکہ یہ خداکی محبوب جگہ ہے،اس جگہ کے مصلیان،امام ومؤذن،یہاں کے خدمت گذار سب کے سب اس بات کے حقدار ہیں کہ ان کاہرطرح سےپاس ولحاظ اور خیال رکھا جائے،اوریادرکھ لیں!جو خداکی محبوب جگہ اوراس کے لواحقین کاپاس ولحاظ اورخیال رکھے گا خدا خود اس کا اوراس کے گھروالوں کامحافظ ونگراں ہوگا۔

5۔رب کو چھینک پسند اور جمائی ناپسند ہے:

میرے بھائیو اور بہنو!جن چیزوں کو اللہ رب العزت پسند کرتاہے اس میں سے ایک چیز چھینک ہے اور جس چیز کو اللہ رب العزت ناپسند کرتاہے اس میں سے ایک چیز جمائی ہے،جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ العُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ ‘‘بے شک کہ اللہ رب العزت کو چھینک پسند اور جمائی ناپسند ہے ،’’ فَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَحَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يُشَمِّتَهُ ‘‘ پس جب تم میں سے کوئی چھینکے تو وہ الحمدللہ ضرور کہے اور جومسلمان بھی چھینکنے والے کو الحمدللہ کہتاسنے تو اس کے اوپر یہ واجب ہے کہ وہ اس کا جواب دے اور وہ یرحمک اللہ کہے، ’’ وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ ‘‘اب رہا جمائی کا مسئلہ تو یہ جمائی رب کو اس لئے ناپسند ہے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتاہے،اس لئے ’’ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ ‘‘ جہاں تک ہوسکے تم جمائی کو روکو،اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ کوئی جمائی کے وقت ’’ وَلَا يَقُلْ هَاهْ هَاهْ ‘‘ ھا ھا نہ کرے۔(ابوداؤد:5028،اسنادہ صحیح)کیونکہ’’ فَإِذَا قَالَ هَا ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ ‘‘ جب کوئی انسان جمائی کے وقت ھا ھا کرتاہے تو شیطان اس کی اس حرکت پر ہنستا ہے ۔(بخاری:6223)اور ترمذی شریف کے اندر یہ فرمان نبویﷺ موجود ہے کہ ’’ العُطَاسُ مِنَ اللَّهِ وَالتَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ ‘‘چھینک اللہ کی جانب سے اور جمائی شیطان کی جانب سے آتی ہے اس لئے ’’ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ ‘‘ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اپنے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لے،اور اگر کوئی انسان ’’ وَإِذَا قَالَ آهْ آهْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْ جَوْفِهِ ‘‘جمائی کے وقت میں آہ آہ کرتاہے تو شیطان اس کے اندر سے ہنستا ہے۔(ترمذی:2746،اسنادہ صحیح)میرے دوستو!جمائی آنے پر شیطان صرف ہنستاہی نہیں ہے بلکہ اس میں داخل بھی ہوجاتاہے جیسا کہ فرمان مصطفیﷺ ہے ’’ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ عَلَى فِيهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ ‘‘جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنا منہ بند رکھے،کیونکہ بلاشک وشبہ اس میں شیطان داخل ہوجاتاہے۔(ابوداؤد:5026،اسنادہ صحیح)پتہ یہ چلا کہ جب کبھی بھی جمائی آئے تو ہرحال میں اس کو روکنی چاہئے،کبھی کبھار دیکھا یہ جاتاہے کہ لوگ دوران نماز بھی ہا ہا کرتے رہتے ہیں اور شیطان کو ہنسنے کا موقع دیتے رہتے ہیں اس لئے میرےبھائیو اور بہنو! اگر دوران نماز کسی کو جمائی آئے تو اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ جہاں تک ہوسکے وہ اپنی طاقت بھر اس کوروکے جیسا کہ فرمان مصطفیﷺ ہے ’’ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ ‘‘اگردوران نماز کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہوسکےوہ منہ بند رکھنے کی کوشش کرے۔(ابوداؤد:5027 ،اسنادہ صحیح)اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ جمائی کے وقت شیطان کیوں ہنستا ہے تو اس کا جواب بھی سن لیجئے،حافظ عبدالستار الحماد حفظہ اللہ صحیح بخاری حدیث نمبر6226 کے تحت لکھتے ہیں کہ شیطان کے ہنسنے کی دو وجہیں ہیں،نمبر ایک ’’ جماہی آنے سے چہرہ بگڑتا ہے اور انسان ہا ہا کی آواز نکالتاہے،شیطان اس صورت میں انسان کا مذاق اڑاتاہے کہ کائنات کے چودھری کی شکل وصورت کیسی ہے اور یہ کس طرح حیوانات کی آواز نکال رہاہے‘‘ ،اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ’’وہ یعنی کہ شیطان خوشی سے ہنستاہے کیونکہ جماہی سستی اورکاہلی کی علامت ہے جو شیطان کو پسند ہے،اس لئے کہ کاہلی کی وجہ سے انسان بہت سی نیکیوں سے محروم ہوجاتاہے۔(ھدایۃ القاری شرح صحیح بخاری،اردو حدیث نمبر:6226)سنا آپ نے کہ شیطان ہماری جمائی سے کتنا خوش وخرم ہوتاہے اورہمارا مذاق اڑاتاہے اس لئے میرے بھائیو اوربہنو!ہم اورآپ ہروقت جمائی کو حتی المقدور روکیں،اوراگرروک نہ سکیں تو اپنے منہ پر اپنا ہاتھ اچھی طرح سے رکھ لیں اورجانورکی طرح ہا ہا کی آواز کسی بھی حال میں نہ نکالیں اور نہ ہی چٹکی بجائیں ،سماج ومعاشرے کے اندر دیکھا یہ جاتاہے کہ لوگ جمائی آنے پر اپنے منہ کے سامنے میں چٹکی بجاتے ہیں جب کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہےاور میں تو یہ کہوں گا کہ یہ بھی ایک شیطانی حرکت ہی ہےکیونکہ سیٹی وغیرہ تو شیطان کوپسند ہے اور چٹکی بجانے سے سیٹی ہی کی طرح آواز بھی آتی ہے۔ العیاذ باللہ۔

6۔ رب العزت کو تین کام پسند اور تین کام ناپسند ہیں:

میرے دوستو!اب میں آپ کو ایک ایسی حدیث سنانے جارہاہوں جس کے اندر کچھ ایسی باتوں کا تذکرہ ہے جو رب کو بہت پسند ہیں مگر ہم وہ اپناتے نہیں ہیں اورکچھ ایسی باتیں ہیں جو رب کو بالکل بھی پسند نہیں ہیں مگر ہم اسے بڑے ہی ذوق وشوق سے اپناتے ہیں،آئیے سب سے پہلے وہ حدیث سنتے ہیں،سیدناقتادہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور سوال کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ !’’ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ‘‘ آپ مجھے یہ بتائیں کہ اللہ کے نزدیک محبوب اعمال کون سے ہیں ؟توآپﷺ نے فرمایا کہ ’’ إِيمَانٌ بِاللَّهِ ‘‘اللہ پر ایمان لانا ‘‘ پھر اس نے پوچھا کہ اس کے بعد اللہ کے نزدیک محبوب اعمال کیا ہیں ؟توآپﷺ نے فرمایا کہ ’’ ثُمَّ صِلَةُ الرَّحِمِ ‘‘ صلہ رحمی کرنا،(اور ایک دوسری روایت کے اندر ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ ثُمَّ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ ‘‘ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا یہ بھی اللہ کو بہت پسند ہے)پھر اس نے پوچھا کہ ’’ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَبْغَضُ إِلَى اللَّهِ ‘‘ اے اللہ کے نبیﷺ اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ اللہ کے نزدیک قابل نفرت عمل کیاکیا ہیں ؟توآپﷺ نے فرمایا کہ ’’ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ‘‘ اللہ کے ساتھ شرک کرنا،پھر اس نے پوچھا کہ اس کے بعد اللہ کے نزدیک قابل نفرت عمل کیا ہے؟توآپﷺ نے فرمایاکہ ’’ ثُمَّ قَطِيعَةُ الرَّحِمِ ‘‘ رشتے ناطے کوتوڑنا،پھر اس نے یہ پوچھا کہ اس کے بعد اللہ کے نزدیک قابل نفرت حرکت کون سی ہے؟توآپﷺ نے فرمایا کہ ’’ ثُمَّ الْأَمْرُ بِالْمُنْكَرِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمَعْرُوفِ ‘‘ برائی کا حکم دینا اور نیکی سے روکنا۔(مسندابویعلی:6893،صحیح الجامع للألبانیؒ:95،صحیح الترغیب والترھیب:2522)میرے دوستو!سناآپ نے کہ اللہ کو کیا کیا پسند ہیں اور کیا ناپسند ہیں مگرآپ دیکھیں گے اکثر مسلمان آج کل جو اللہ کو پسند ہے وہ کام تو ہرگز نہیں کرتے ہیں مگر جو کام رب کو ناپسند ہے اور جس حرکت سے رب کو نفرت ہے ،آج کا مسلمان اسی کام میں پیش پیش رہتاہے،اب دیکھئے رب کوتوحید پسند اور شرک ناپسند ہے تو آج کل کے مسلمانوں کو توحید سے نفرت اور شرک سے محبت ہے،رب کو صلہ رحمی پسند اور قطع رحمی ناپسند ہے تو آج کل کے مسلمانوں کوآپ دیکھیں گے کہ معمولی معمولی باتوں پررشتے داروں سے قطع تعلق کر کے منہ پھیرلیتے ہیں اورپھر برسوں برسوں تک ایک دوسرے سے سلام وکلام بھی نہیں کرتے ہیں ۔العیاذ باللہ۔اسی طرح سے آپ دیکھیں گے کہ لوگ ایک دوسرے کو نماز وروزہ اوردیگرنیکیوں اور اچھائیوں کی دعوت نہیں دیں گے مگر وہ ایک دوسرے کو گناہ اور حرام کاریوں اور حرام بازیوں کی طرف ضرور بلائیں گے، ایک دوست اپنے دوست کوحرام کاری اوردیگرگناہوں کے کاموں کی دعوت توضرور دے گامگر وہی دوست اپنے دوست کو نیکیوں کی طرف بلانے میں شرم وعارمحسوس کرتاہے اورتواور ہے آج کل سماج ومعاشرے میں ایک گناہ تو لوگ نیکی سمجھ کر انجام دیتے ہیں،آپ نے دیکھا ہوگا کہ لوگ ہماری مسجدوں سے لوگوں کو دوررکھنے کی بہت کوشش کرتے رہتے ہیں ،اگرکوئی شخص شراب کی نشے میں دھت سڑکوں پر بے ہوش پڑاہو تو اس کی ان کوذرہ برابر بھی فکر نہ ہوگی مگر جیسے ہی کوئی بدعت کا راستہ چھوڑ کر سنت کے راستے پر آنے لگ جاتاہے تو ان کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں،آپ نے سنا بھی ہوگا اوردیکھا بھی ہوگا کہ اگر کوئی ہماری اہل حدیث مساجد کا رخ کرنا شروع کردے تو لوگ ان کاجینا محال کردیتے ہیں،طرح طرح کی اذیتوں سے انہیں دوچار کرتے ہیں،پولس کی طرح ان کے گھروں پر چھاپا مارتے ہیں اوران کو ڈرا دھمکاکر مسجدسے ہی دور کردیتے ہیں،ایک بھائی نے کہا کہ ایک شخص جو شراب ونشہ وغیرہ سے توبہ کرکے ہماری مسجد میں آنے لگا تھا مگر کچھ لوگوں نے اسے اپنے جیب سے دوچارسوروپئے نکال کردئے اورکہنے لگے کہ یہ لو پیسہ اورجاکر شراب پیو، اوراگر یہ کم ہے تو ہم تجھے اوردیں گے مگر وہابی کی مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے مت جاؤ۔اللہ کی پناہ۔دیکھا اورسنا آپ نے کہ لوگوں کو توحید وسنت سے کتنی بغض وعداوت ہے کہ کسی کا انہیں شرابی وکبابی بننااوربنانا تو انہیں منظور ومحبوب ہے مگر کسی کا مؤحد ونیک بننا انہیں قطعی منظور نہیں ہے،بھلا اب آپ ہی مجھے بتائیں کہ جو کام رب کو ناپسند ہوں اگر مسلمان وہی کرنے لگے توکیا مسلمان دین ودنیا میں کامیاب وکامران ہوسکتے ہیں؟ہرگز نہیں!بلکہ انہیں سب حرکتوں کی وجہ سے ہی تو مسلمانوں کے اوپر خود ان کے ملک اور ان کی سرزمین پر ان کے عرصۂ حیات کو تنگ کیا جارہاہے مگر پھر بھی مسلمانوں اپنی بری حرکتوں سے باز نہیں آرہاہے ،اے مسلمانوں !سن لو!اب بھی وقت ہے،جاگو اوربیدارہوجاؤ،اوراپنے آپ کو ہراس کام اورہراس حرکت سے دورکرلو جو رب کو پسند نہیں ہے ورنہ تمہاری ہلاکت وبربادی بالکل ہی یقینی ہے۔



اب آخر میں اللہ رب العزت سے دعاگو ہوں کہ اے بارالہ تو ہم سب کو ہمیشہ ان کاموں سے دور رکھ جو تجھے پسند نہیں ہے اورتو ہم سب کو ان تمام کاموں کو اپنانے کی توفیق عطافرما جن جن کو تو پسند کرتاہے۔آمین ثم آمین یارب العالمین۔





کتبہ

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی​
 

اٹیچمنٹس

Top