ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 846
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
ربیع المدخلی اور فکرِ اخوانی شيخ عبداللطيف بن محمد باشميل کی زبانی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ربیع مدخلی کے ہمعصر شيخ عبداللطيف بن محمد باشميل نے ربیع مدخلی کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے :
وهذا من كذب ربيع ومراوغاته المعهودة التي يعيش عليها منذ تدريب الإخوان المسلمين له على ذلك ، ومنذ تدريبهم إياه على الحزبية المقيتة التي لازمته منذ أن طرده الإخوان المسلمون من تنظيمهم ، وباعترافه بدخوله في تنظيمهم ، ثم انقلابه عليهم بعد محاولاته التنفذ عليهم لعشقه للزعامة والتصدر ، وأصبح حتى اللحظة يعيش في حيله و مراوغاته على مخلفات وزبالات إرث الفكر الإخواني ، الذي تشرب به وتربى عليه من المنظر الإخواني سعيد حوى ، أيام كان في المدينة النبوية يتلقى عنه المدخلي ورفيقه القادري الإخوانية أواخر القرن الهجري الماضي.
یہ ربیع مدخلی کا صریح جھوٹ ہے، اور وہی چالاکی، دجل، اور مکر ہے جس پر وہ سالہا سال سے جی رہا ہے، اور یہ وہی حربے ہیں جو اُس نے اخوان المسلمین کی تربیت سے سیکھے، اور جب سے اخوان المسلمون نے اسے نفرت انگیز حزبیت پر تربیت دی، وہ اس وقت سے ہی اس کے ساتھ چمٹ گیا ہے، جب اخوانیوں نے اُسے اپنی تنظیم سے نکال باہر کیا۔ خود اس کا اعتراف ہے کہ وہ اخوانی تنظیم میں شامل ہوا تھا، پھر جب اس نے ان پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کی تو ناکامی ملنے کے بعد ان کے خلاف ہی محاذ آرا ہو گیا۔ کیونکہ وہ قیادت اور نمایاں مقام حاصل کرنے کی ہوس میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی وہ اسی فریب، اسی جھوٹ، اور اسی گندے اخوانی ورثے پر زندہ ہے، جو اس نے اخوانی نظریہ دان "سعید حوّی" سے مدینہ منورہ میں سیکھا جہاں وہ اور اس کا رفیق "القادری" بیسویں صدی ہجری کے اواخر میں اُس کے شاگرد بنے ہوئے تھے۔
[اﻟﺮد ﻋﻠﻰ رﺑﻴﻊ اﻟﻤﺪﺧﻠﻲ اﻟﻤﺮﺟﻲء ﻓﻲ ﻛﺬﺑﻪ ﻋﻠﻰ اﻹﻣﺎم ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪاﻟﻮﻫﺎب اﻟﺴﻠﻔﻲ، ص : ٢]
شیخ عبداللطیف بن محمد باشمیل نے ربیع مدخلی کے فتنے کا پردہ چاک کیا ہے، مدخلی وہ شخص ہے جسے دینی غیرت، علمی دیانت، اور دعوتِ سلف کی وراثت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ شخص جھوٹ بول کر، دینی نصوص کو مروڑ کر، اور اس کی اخوانی حزبی تربیت سے سلفیت کی روح کو مسخ کر رہا ہے۔
جھوٹ، چالاکیاں، مکاری، دھوکہ بازی ربیع مدخلی کی فطرت کا حصہ بن چکی ہیں۔ شیخ باشمیل صاف کہتے ہیں کہ یہ چالاکیاں نئی نہیں، یہ "معہودہ" یعنی پرانی عادتیں ہیں جو اس کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہیں، جن پر وہ کئی دہائیوں سے زندہ ہے۔
ربیع مدخلی کی ساری فکری ساخت، اس کی چالاکی، اس کا رویہ اخوان المسلمون کی تربیت کا نتیجہ ہے جیسا کہ شيخ عبداللطيف باشميل نے فرمایا "منذ تدريب الإخوان المسلمين له على ذلك..." اور ربیع مدخلی آج اپنے آپ کو "سلفی سلفی" کہہ کر سلفیت کا ٹھیکیدار بنتا ہے، جبکہ اس کی بنیادیں خود اخوانی سازشی سوچ سے نکلی ہیں۔
یہ شخص "منہجیت کے نقاب میں چھپا ہوا متعصب حزبی ہے جیسا کہ شيخ عبداللطيف باشميل نے فرمایا "تدريبهم إياه على الحزبية المقيتة..." وہ آج بھی حزبی ذہنیت رکھتا ہے جس سے سلفی علماء براءت کا اعلان کرتے آئے ہیں، لیکن ربیع اس کا سب سے بڑا علمبردار بنا بیٹھا ہے۔
ربیع مدخلی کو جب اخوانیوں نے اپنی صفوں سے نکالا تو اس کے دل میں حسد، انتقام، اور زعامت کی ناکامی بیٹھ گئی۔ یعنی وہ اخوانیوں کا دشمن اصولی بنیادوں پر نہیں، بلکہ اس لیے ہے کہ وہ اس تنظیم میں اثر و رسوخ چاہتا تھا، مگر ناکام ہو گیا۔ یہی وہ بدنیتی ہے جس پر اس کی "نصیحتیں" اور "تبلیغ" قائم ہیں۔
"وباعترافه بدخوله في تنظيمهم..." یعنی ربیع مدخلی نے خود مانا کہ وہ اخوانی تنظیم میں شامل رہا۔ اب جو شخص خود فکری بدعت میں پلا بڑھا ہو، وہ سلفیت کا امام کیسے ہو سکتا ہے؟
شیخ باشمیل نے ربیع مدخلی کی اصل نفسیاتی بیماری کی تشخیص کی ہے کہ "ثم انقلابه عليهم بعد محاولاته التنفذ عليهم لعشقه للزعامة والتصدر..." یعنی ربیع مدخلی زعامت کا بھوکا اور قیادت کا رسیا تھا اسی لیے جب اخوانیوں نے اس کے خواب چکنا چور کیے، تو وہ ان کا دشمن ہو گیا!
یہی وجہ ہے کہ ربیع مدخلی "سلفیت" کا دعویٰ کرتا تھا، مگر اندر سے حزبی ذہنیت کا بدترین خناس تھا "على مخلفات وزبالات إرث الفكر الإخواني..." اسے حزبی ذہنیت کی نفرت انگیز تربیت دی گئی، اور یہ ذہنیت اس کے اندر گوشت، خون، اور نس نس میں رچ بس گئی یہی وہ حزبیت ہے جو آج مدخلی فرقے کو سلفیت کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار بنا چکی ہے۔
مدخلی فرقہ کافروں پر خاموش، اور سلفیوں پر سب سے سخت، طاغوتی حکمرانوں کے پاؤں چاٹنے والا، اور مجاہدینِ اسلام کو خارجی، تکفیری کہنے والا فرقہ ہے۔ اس فرقے کی زبان حق کے خلاف زہر اگلتی ہے، اور باطل کے لیے نرم و گداز ہوتی ہے۔
شیخ باشمیل نے ربیع کے "پیر و مرشد" کو بھی بےنقاب کیا کہ "وتربى عليه من المنظر الإخواني سعيد حوى، أيام كان في المدينة النبوية يتلقى عنه المدخلي ورفيقه القادري الإخوانية" یہ سب کچھ اس نے اخوانی مفکر 'سعید حوی' سے سیکھا، مدینہ میں بیٹھ کر، جہاں وہ اور اس کا رفیق 'قادری' اس کے شاگرد تھے!
ربیع مدخلی کا منہج سلفی نہیں بلکہ دجلِ جدید ہے۔ اس نے بدعتیوں کے ساتھ تربیت پائی ہے وہ سلفی علماء کرام پر خارجی ہونے کا بہتان لگاتا ہے، اور طواغیت کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔ لہذا اے اہلِ حدیثوں! ربیع مدخلی اور اس کے مدخلی فرقے کو پہچانو! یہ دشمن دین ہیں، فتنۂ آخر الزماں کے نقاب پوش کارندے ہیں۔ یہ باطل کے وکیل اور حق کے دشمن ہیں۔
ربیع مدخلی جھوٹا ہے، چالاک، فریبی، مفاد پرست ہے۔ اس کی دعوت سلفی نہیں بلکہ حزبیت پر مبنی ہے۔ وہ بدعتِ حزبیت، ارجاء، اور شخصیت پرستی کا نمائندہ ہے۔ لہذا ان مداخلہ سے بچو! یہ باطل کو سلفیت کا لباس پہنا کر دین کا جنازہ نکال رہے ہیں!
اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه۔