• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمہوریت و توحید؛ تصادمِ تصورات کا ایک التباس آلود مرقع

شمولیت
نومبر 01، 2022
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
35
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
جمہوریت و توحید؛ تصادمِ تصورات کا ایک التباس آلود مرقع

جمہوریت، جسے اربابِ تجدد و اصحابِ فکرِ مغرب زدہ نے سلطنتِ انانیہ و سلکِ عقولِ بشریہ کا خلعتِ فریب بخشا ہے، دراصل ایک معبدِ تحکمِ عوامی ہے، جس کے محراب و منبر پر نوازشِ تکوینیہ کی بجائے تقنینِ خودمختارانہ کا طاغوتی سایہ سایہ فگن ہے۔ اس طرزِ نظام کی اساس، یک قلم، اس مسموم تخیل پر قائم ہے کہ:

"اقتدارِ اصیل کا منبع و مرکز عقلِ عوامی و ارادہءِ جمہوریہ ہے، نہ کہ وحیِ سماویہ" یعنی تحریم و تحلیل، فصل و وصل، ابرام و نقض تمام مناصبِ تقنینیہ کو اصواتِ غیر معصومہ کے تفویض کردہ سمجھ کر، قومِ جمہور کو بمنزلہءِ صانعِ شریعتِ ناسخہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

اس مکتبِ فتنہ انگیز کے بالمقابل، توحید کا عقدِ اصولی، جوکہ احکامِ ربانیہ کا صراحۃً ناقضِ شرک ہے، ہمیں ایک غیر مشتبہ، غیر مشروط، اور غیر مختلط حقیقت سے ہمکنار کرتا ہے کہ:

﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾ (سورۃ یوسف: ٤٠) یعنی تشریع و تقنین کی کلید فقط و فقط ذاتِ وحدہ لا شریک کے قبضۂ تصرف میں ہے۔

یہ آیتِ مبارکہ ایک سیفِ ذو الفقار کی مانند ہر اس نظام پر ضربِ استیصال ہے جو عقلِ غیر منزّہ و ارادہءِ غیر الٰہی کو منصبِ تشریع پر متمکن دیکھتا ہے۔

یوں جمہوریت و توحید کا مابین، ایک ایسا تصادمِ ماہوی جنم لیتا ہے، جسے محض اختلافِ طریقہءِ حکمرانی کہہ دینا سذاجتِ فہم اور سفسطہءِ بیان کے سوا کچھ نہیں۔ یہ فی الواقع تصادمِ الوہیتِ مطلقہ و ربوبیتِ مزعومہ ہے۔

جمہوریت، بلسانِ حال، یوں نعرہ زن ہے: "لنا الحکمُ، و لنا التشریعُ، و لنا الامرُ و النہیُ" جبکہ توحیدِ خالص، بعزمِ غیر متزلزل پکارتی ہے: "الحکمُ الا للہ، و الشریعۃ من عندہ، و الطاعۃ لہ وحدہ"

پس وہ نظام جس میں اربابِ جمہور کو صناعِ شریعت و معمارِ دستور قرار دیا جائے، وہ نہ فقط توحید کی تکذیبِ عملی ہے، بلکہ تشریعِ غیر الٰہی کے معبد میں سجودِ عقلانی کا ارتکاب ہے، جوکہ بعینہٖ شرکِ اکبر کی صریح اور غیر قابِلِ تاویل شکل ہے۔
 
Top