• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقدیسِ جُموع بر مسندِ تقنین و انکارِ وحی

شمولیت
نومبر 01، 2022
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
35
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

تقدیسِ جُموع بر مسندِ تقنین و انکارِ وحی

جمہوریت جو سطحِ نظر پر جلوہ گَر، آرائشِ فہمِ جمعی و تزئینِ ادراکِ عوامی کی ملمّع کاری معلوم ہوتی ہے درباطن، ایک فتنۂ لامکان و کفر منظم ہے، جس نے تمثالِ "عقلِ عامّہ" کے نقوش میں صنمِ اکثریت پرستی کو سجا رکھا ہے۔

یہ وہ مسلکِ منقلب الفطرت ہے جہاں تمییزِ حق و باطل کو نہ میزانِ وحیِ منزّل، نہ فرقانِ الٰہی، بلکہ اصواتِ مخمورانِ جمہور کی ناپختہ رائے اور رجحاناتِ بے زمام کی ترازو پر تولا جاتا ہے۔

اصحابِ ایوان، جو خود کج فہم و مقہورِ زمانہ ہوتے ہیں، ان کی اکثریتی تائید کو حکمِ حتمی جاننا گویا کلامِ ربانی کو کثرتِ رائے کے نیلام گھر میں گروی رکھنے کے مترادف ہے؛ اور یوں نصوصِ مقدسہ، جو لوحِ ازل سے صادر ہوئیں، آج کے معرکۂ قانون سازی میں یا تو مؤخر ہو جاتی ہیں یا منسوخ المعنی ٹھہرتی ہیں۔

پس، یہ تفویضِ حاکمیت بہ ارادۂ جُموع و سلبِ تشریع از بارگاہِ وحی، سراسر طغیانِ فکری، و عصیانِ شرعی، و شرکِ حاکمیت کا فصیح ترین عنوان ہے۔ اس نظامِ تمویہِ ادراک و مغالطہ پردازِ وجدان کا غایتِ کار، و مرامِ مکنون، گویا یہ مسلکِ عقل برانداز ہے کہ: "ما یرضاہُ الجَمعُ، فہُوَ العدلُ و الصوابُ، ولو خالفَ حکمَ ربِّ الارباب"

یعنی اگر طائفۂ عوام، ولو کہ وہ بہ ضلالتِ جبلیہ و جہالتِ سرمدیہ ملوث ہی کیوں نہ ہوں، کسی امرِ موہوم کو بہ تسلیمِ جمعی منبعِ صدق و معیارِ خیر متعین کر دیں، تو وہی قول، قطع نظر از مخالفتِ صریحۂ وحیِ الٰہی، ندائے نبوی، و آیاتِ محکمات، بحکمِ اکثریت، حکمِ مطاع و فرمانِ واجب الاطاعت بن جاتا ہے۔

یہ وہ زعمِ جمعی و غرورِ اکثریتی ہے جس میں حکمِ ربانی کو معرضِ تمہید و تعبیر میں لا کر، شورائے جمہور کی کثرتِ اصوات کو معیارِ عدل و حسن کا پیمانہ گردانا جاتا ہے؛ گویا کہ وحیِ مصدقہ، جو لوحِ محفوظ کی تجلی ہو، اُسے چند مخلوقِ فانی کے رجحانات و آراء کے طشت میں لا کر تولنے کی جسارت کی جائے۔

درحقیقت، یہ وہی فتنۂ اکثریت پسندانہ ہے جس میں ارادۂ عوامی کو منبعِ تشریع، اور الہامِ نبوی کو مؤخر و مغلوب تسلیم کیا جاتا ہے اور یوں قلبِ حاکمیتِ الٰہیہ پر خنجرِ جمہوریت کا پہلا کاری وار واقع ہوتا ہے۔

باوجود آنکہ خالقِ ارض و سماء، مالکِ لوح و قلم، ربِ جلیل و جبّار، اس غفلتِ جموعیہ و تغافلِ تمویہی کا پردہ پیش از پیش چاک فرما چکا ہے، اور صدائے وحیِ ازلی میں، ندائے تنبیہیہ کو بوضوحِ نیرِ نیم روز یوں رقم فرمایا:

﴿وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ﴾ (الانعام: ۱۱۶) "اگر تو اطاعت کرے اکثریتِ اہلِ زمین کی، تو وہ تجھے بہکائیں گے راہِ الٰہیہ سے۔"

یہ آیۂ مُبین، درحقیقت، وہ شعلۂ قدسی ہے جو عمارتِ جمہوریت کے بُنیادی دعوے پر آتشِ تنسیخ بن کر گرتی ہے۔ اس میں ساطع تردید ہے اُن تمام اصحابِ رائے و دُعاتِ جمہوریت کے لیے، جو اصواتِ کثیرہ کو میزانِ حق، اور آرائے عوام کو آئینۂ عدل گرداننے کے مجازِ خود ساختہ بن بیٹھے ہیں۔

ایں آیہ، میزانِ وحی کو میزانِ عوام پر مقدم قرار دے کر، اصنامِ اکثریت پرستی کے بتکدے میں زلزلۂ ابراہیمی پیدا کرتی ہے؛ اور بتاتی ہے کہ کثرتِ عدد، ہدایت کا قرینہ نہیں، بلکہ غواصی و ضلالت کا مہلک فریب ہے۔

پس جو لوگ وحیِ ربانی کو، آراءِ زمینی کے طشت میں رکھ کر پرکھنے کی جسارت کریں، وہ درحقیقت مشعلِ نبوت کو قندیلِ بازار سے کم قیمت سمجھنے والے نادان ہیں۔

پس، دینِ محمدیِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے آئینِ ابدی میں میزانِ صدق و کذب، معیارِ ہدایت و ضلالت، فقط و فقط وہی نورِ ہدایت ہے جو از لوحِ محفوظ بر لوحِ عالم نازل ہوا یعنی قرآنِ مجید و سنتِ مطہرہ، جو کلامِ ربانی و تبیینِ نبوی کی صورت میں منصّۂ ازل پر ثبت و مسلّم ہے۔

اور اس کے بالمقابل، جمہوریت یہ طرزِ تغلبِ عوام، یہ اسلوبِ سلطنتِ جُموع، جو بظاہر آزادیِ ارادہ و عقلِ اجتماعی کا ملمّع بردوش دعویٰ رکھتا ہے درحقیقت عقلِ معیوبہ و رجحاناتِ ناقصہ کی آمرانہ پیشوائی کا وہ فریبِ جدید ہے جو تشریعِ الٰہی کے تخت پر خواہشاتِ نفسی و اصواتِ جمہوری کو متمکن کرنا چاہتا ہے۔

یوں شریعت، جو وحیِ منزّل کا فیضان اور نورِ قدس کا ضیاء ہے، اس کے بالمقابل جمہوریت، ضیاء کو ظل، اور وحی کو رائے کے غبار میں گم کرنے کا مکروفریب ہے؛ ایک ایسا مسلکِ تمرد جو منصبِ ربوبیت پر اکثریت عوام کی تاجپوشی کا ناپاک داعیہ رکھتا ہے۔

لہٰذا جمہوریت کا یہ مزعومۂ مغالطہ خیز و موہوم العقیدہ تصور کہ "حق وہی ہے جس پر اکثریت کی تصدیق و تصویب کا مہر ثبت ہو" درحقیقت، یہ فقط ادنیٰ درجۂ زَلَّۃِ فکریہ نہیں، بلکہ منصوصاتِ وحیِ ربانیہ کے بالمقابل ایک جسارتِ کبریٰ ہے، جو سراسر انکارِ مصدرِ الٰہی، و تمردِ مطلقہ بر حاکمیتِ ربِّ قدوس کا آئینہ دار ہے۔

یہ نظریہ، جس میں اصواتِ عوامی کو میزانِ صداقت ٹھہرایا گیا، سراسر شراکتِ غیر فی مقامِ تشریع ہے؛ ایسا گویا کہ ربوبیتِ علمی و الوہیتِ تقنینی کے معراج پر اجتماعِ ناس کو بطورِ شریکِ منصب و ندِ الٰہی متمکن کر دیا گیا ہو جو کہ عینِ عقدِ شرکیہ و تمہیدِ کفرِ مرکب ہے۔

یہ وہ دغلِ فکری و افترا علی اللہ ہے جہاں مصدرِ حق و باطل کا انتساب وحیِ منزّل سے منقطع ہو کر اصواتِ غیر منزلہ، و آراءِ خبط زدہ کی دہلیز پر نثار ہو جاتا ہے؛ اور یوں فرقان و حکمت کا ترازو ہاتھ سے چھن کر ہجومِ جاہلانہ کے ناپختہ ترازو میں منتقل ہو جاتا ہے۔
 
Top