ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 836
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
کیا اللہ تعالیٰ بھوک سے مرنے نہیں دیتا؟
از قلم: مفتی اعظم حفظہ اللہ
غزہ میں ان دنوں بھوک سے بہت سی اموات ہو رہی ہیں، ویسے بھی دنیا کے اکثر خطوں میں بھوک سے اموات کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔
اس سے شاید کسی کے ذہن میں یہ آئے یا کوئی ملحد اعتراض اٹھائے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کے رزق کا ذمہ لیا ہوا ہے، پھر یہ کیوں؟
تو دراصل یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جو قرآن کی ایک آیت کا غلط مفہوم نکالنے سے پیدا ہوئی، اور بعد میں عوام میں عام ہو گئی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها"
(اور زمین پر کوئی چلنے والا جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی پر ہے)
اس آیت سے کم علم لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ شاید اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں جو بھی جاندار ہے اس کو رزق پہنچانا مجھ پر لازم ہے، اور اسی سے یہ غلط نظریات بن گئے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بھوکا نہیں سلاتا یا یہ کہ کوئی بھوک سے نہیں مر سکتا، وغیرہ۔
جبکہ آیت کا اصل مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جتنے چلنے والے ہیں، ان کو جو بھی رزق ملتا ہے، وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے، اور جب بھی کسی کو جتنا رزق دیا جائے گا، وہ خاص اللہ کی طرف سے ہی دیا جاتا ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
"وما من دابة في الأرض إلا على الله رزقها"، قال: ما جاءها من رزقٍ فمن الله، وربما لم يرزقها حتى تموت جوعًا، ولكن ما كان من رزقٍ فمن الله. (طبری)
"جو بھی رزق ملتا ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور ہوسکتا ہے وہ کسی کو رزق نہ دے، حتیٰ کہ بھوک سے مر جائے، لیکن جو بھی رزق دیا جائے گا، وہ اللہ ہی کی طرف سے دیا جائے گا۔"
اور اس کو دیگر بہت سارے مفسرین نے بھی واضح کیا ہے۔
سو اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ میں ہر کسی کو روزانہ رزق دوں گا، یا میں ہر کسی کو اتنا رزق ضرور دوں گا کہ وہ بھوک سے نہ مرے، یا میں کسی کو بھوک سے نہیں مرنے دوں گا، بلکہ اس نے تو اس کے برعکس فرمایا ہے کہ:
"اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ"
(اللہ جس کا چاہے رزق کشادہ کر دے اور جس کا چاہے تنگ کر دے)
سو وہ چاہے تو اتنا تنگ کر دے کہ ایک وقت کا کھانا ملے، یا چاہے اتنا تنگ کر دے کہ کئی دن تک کھانا نہ ملے، یا چاہے اتنا تنگ کر دے کہ بھوک سے موت واقع ہو جائے، یہ سب اس کے قبضۂ قدرت و اختیار میں ہے، اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
جس کو چاہے رزق دے، جس کو چاہے نہ دے، جس کو چاہے زیادہ دے، جس کو چاہے کم دے، اور جس کو چاہے بھوک سے مار دے۔
ہاں، البتہ جس کو جتنا رزق مل رہا ہے، وہ صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کی طرف سے مل رہا ہے، چاہے سمندر کی گہرائی میں کوئی مچھلی ہو، یا آسمان کی وسعتوں میں کوئی پرندہ، یا زمین پر چلنے والا کوئی انسان، یا کوئی بھی مخلوق ہو، جس کو جو بھی رزق مل رہا ہے، وہ یہ سب اسی کا رزق ہے۔
یہی اس آیت کا اصل مفہوم ہے۔