ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 831
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
بدعتِ میلاد پر علامہ شاطبی رحمہ اللہ کی نصیحت
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، محمد بن عبد اللہ، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔
اہلِ اسلام پر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ دینِ متین کتاب و سنت کا نام ہے۔ جس عبادت کو نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا اور نہ ہی سلفِ صالحین نے اس پر عمل کیا، اس کو دین میں داخل کرنا بدعت ہے، اور بدعت سراسر ضلالت ہے۔
وسئل الأستاذ أبو إسحاق الشاطبي، رحمه الله، عمن عهد بثلثه ليوقف على إقامة مولده - صلى الله عليه وسلم -.
فأجاب: أما الوصية بالثلث ليوقف على إقامة ليلة مولد النبي - صلى الله عليه وسلم - فمعلوم أن إقامة المولد على الوصف المعهود بين الناس بدعة محدثة، وكل بدعة ضلالة، والإنفاق على إقامة البدعة لا يجوز، والوصية غير نافذة، بل يجب على القاضي فسخه ورد الثلث إلى الورثة يقتسمونه فيما بينهم
علامہ شاطبی رحمہ اللہ (٧٩٠ھ) سے ایسے شخص کے متعلق سوال ہوا جو اپنے ایک تہائی مال کو میلاد کیلیے وقف کرنے کی وصیت کر دے، تو آپ نے جواب دیا :
جہاں تک ایک تہائی مال کو شبِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کے لیے وقف کرنے کی بات ہے تو معلوم ہے کہ لوگوں میں مروج طریقۂ میلاد ایک بدعتِ محدثہ ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ اور بدعت کے کام میں خرچ کرنا جائز نہیں۔ پس یہ وصیت نافذ نہ ہو گی۔ قاضی پر واجب ہے کہ اسے فسخ کر کے مال کو ورثہ میں تقسیم کر دے۔
[المعيار المعرب والجامع المغرب عن فتاوي أهل إفريقية والأندلس والمغرب، ج : ٩، ص : ٢٥٢]
1. میلاد کا انعقاد بدعت ہے
علامہ شاطبی رحمہ اللہ نے صراحت کے ساتھ فرما دیا کہ جو میلاد عوام میں مروج ہے وہ بدعتِ محدثہ ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "كل بدعة ضلالة" (ہر بدعت گمراہی ہے)۔
اب جس چیز کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے اختیار نہ کیا، اس کو دین میں شامل کرنا گویا اپنی عقل کو وحی پر ترجیح دینا ہے۔ کیا یہ بات دین میں نئی شریعت بنانے کے مترادف نہیں؟
2. بدعت پر خرچ کرنا ناجائز ہے
شریعت نے مال کو اللہ کی راہ میں صرف کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن وہ صرف اللہ کی مشروع راہ میں ہے: مسجد کی تعمیر، قرآن و حدیث کی اشاعت، طلبہ و فقراء کی اعانت، جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ۔ لیکن بدعت میں مال ضائع کرنا حرام ہے۔ اس سے واضح ہے کہ میلاد پر خرچ نہ صدقہ ہے نہ خیرات بلکہ وبال ہے۔
3. ایسی وصیت کالعدم ہے
اگر کوئی شخص اپنے مال میں وصیت کرے کہ اسے میلاد پر لگایا جائے تو یہ وصیت باطل ہے، کیونکہ یہ اللہ کی معصیت میں ہے۔ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ولا تصح الوصية بمعصية وفعل محرم" گناہ اور کسی حرام کام کے لیے کی گئی وصیت صحیح نہیں ہوتی۔
اہلِ بدعت کہتے ہیں کہ میلاد منانا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی علامت ہے۔ حالانکہ محبت تو اتباعِ سنت سے ہے، نہ کہ بدعت کے جشن سے۔ اگر محبت کے نام پر بدعت جائز ہو تو ہر قوم اپنی من چاہی رسم کو دین کا حصہ بنا لے۔ پھر تو دین کا کوئی ڈھانچہ باقی نہ رہے گا۔
الغرض! علامہ شاطبی رحمہ اللہ کا یہ صریح فتویٰ ہر عقل و خرد والے کے لیے حجتِ قاطعہ ہے کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف ایک بدعتِ قبیحہ ہے بلکہ اس پر صرف کیا جانے والا مال ضائع اور وبالِ جان ہے۔ ایسی وصیت شرعاً کالعدم اور مردود ہے، اس پر عمل درآمد قاضی کے لیے جائز نہیں بلکہ اس کو فسخ کرنا اس پر واجب ہے۔
جو لوگ میلاد کے نام پر چراغاں، نغمہ و سرود، اور قصیدہ و قوالی کی محافل سجاتے ہیں، وہ درحقیقت دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مدعی تو ہیں مگر عامل نہیں۔ یہ سب کچھ نہ کتاب اللہ میں ہے، نہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے، نہ ہی آثارِ صحابہ و تابعین میں۔ پس جو لوگ اس کی طرف رغبت کرتے ہیں وہ خود کو گمراہی کے دلدل میں دھکیلتے ہیں۔
اہلِ ایمان پر واجب ہے کہ وہ ان محدثات سے بچیں اور اپنے مال و جان کو خالص کتاب و سنت کی اتباع میں صرف کریں۔ میلاد منانے والے اپنے عمل سے گویا یہ اعلان کرتے ہیں کہ دین اسلام اُن کے نزدیک ناقص تھا اور انہوں نے اسے مکمل کرنے کے لیے نئے طریقے ایجاد کر لیے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا:
"اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا" [المائدہ: 3]
پس جو اس کمال کے بعد نئی بدعت ایجاد کرے، وہ گویا اللہ کے کمالِ دین کا منکر ہے۔
لہٰذا میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک باطل رسم، بدعتِ سیّئہ اور ضلالتِ عظیمہ ہے۔ اس کے قائلین و عاملین کو توبہ لازم ہے، ورنہ وہ اسی وعید کے مصداق ہوں گے:
"فليحذر الذين يخالفون عن أمره أن تصيبهم فتنة أو يصيبهم عذاب أليم" [النور: 63]
یعنی جو لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں وہ ڈریں کہ کہیں ان پر فتنہ نہ آ جائے یا ان پر دردناک عذاب نہ ٹوٹ پڑے۔
واللہ المستعان وعلیہ التکلان۔