ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 847
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
زلزلے، سیلاب اور اس جیسی افات کے متعلق چند باتیں
از قلم: مفتی اعظم حفظہ اللہ
زلزلے، سیلاب اور ایسی آفات سب اللہ تبارک و تعالی کا عذاب اور ناراضگی ہے اور یہ کہنا کہ یہ عذاب نہیں جہالت ہے۔
یہ تمام آفات انسان کے اپنے ہاتھ کی کمائی ہے جیسے کہ قرآن مجید میں تبارک وتعالی نے واضح کیا ہے کہ یہ بھی تمھارے تمام اعمال کا جواب نہیں بلکہ بہت سے تو وہ بغیر سزا کے معاف کر دیتا ہے۔
یہ انسانوں کےلئے تنبیہ ہے کہ وہ توبہ کریں، اللہ کی طرف لوٹ آئیں، اللہ کو ناراض کرنے والے گندے کاموں سے رک جائیں، اس کے دین کی سربلندی، غیر اللہ کے قوانین کے خاتمے، شرک مٹانے اور توحید کا بول بالا کرنے کےلئے اٹھ کھڑے ہوں۔
یہ کہنا کہ اس میں عام لوگ کیوں مرتے ہیں جہالت اور شیطانی قول ہے، اللہ تعالی عالم الغیب یے اس کو وہ باتیں پتہ ہیں جو تمھیں نہیں پتہ وہ حکیم ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ کب کہاں کس کے ساتھ کیا کرنا ہے۔
یہ گمان کرنا کہ عام لوگ معصوم ہوتے ہیں اپنی جگہ ایک اور جہالت ہے۔ عام لوگ خاص لوگ کوئی تفریق نہیں ہر معاشرے، ہر طبقے میں بڑے بڑے گناہ اور نافرمانیاں پائی جاتی ہیں۔
یہ کہنا کہ فلاں جگہ زلزلہ یا سیلاب کیوں نہیں اتا یہ جہالت ہے کیونکہ اللہ تعالی کے ہاں ایک دن ہزار سال کے برابر ہے اس کے منصوبے زمانوں پر محیط ہوتے ہیں تمھارے اس 60 سال کے بلبلے جیسی زندگی میں قید نہیں ہوتے ہر بستی پر آتا ہے اپنے وقت پر آتا ہے یا نہیں بھی اتا تو ان کا معاملہ موخر کیا ہوتا یا آخرت میں ان کےلئے رکھا ہوتا یا اس کی صورت کوئی اور ہوتی جو تمھیں سمجھ نہیں آتی۔
اس عذاب میں یہاں اگرچہ سب لپیٹ میں آجاتے لیکن قیامت کے دن الگ الگ حساب اور اعمال ہوگا۔
اس میں دوسروں کے ساتھ لپیٹ میں آنے والے اہل حق کو اللہ تعالی ہر گز قیامت کے دن ان کے ساتھ نہیں کرے گا وہ شھید ہیں اور اللہ تعالی ان کو ان کے اچھے کاموں کا اجر ضرور دے گا۔
اس موقع پر تمام انسانوں کو اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور جس بستی کے لوگ مبتلا ہوئے ہیں ان کے بچ جانے والوں کو زیادہ عبرت حاصل کرنی چاہئے۔
ان معاملات میں شیطان کی طرف سے یہ کوشش ہوتی ہے کہ تمام تر توجہ مادی اسباب پر جائے اور یہ یاد نہیں رہے کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے اس لئے اس بات کا دھیان رکھنا چاہئے کہ یہ یاد دہانی ہمیشہ رہے۔
ان تکوینی امور میں بغیر علم کے عقل کے گھوڑے دوڑانے کے بجائے اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنا چاہئے کیونکہ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
وما علینا الا البلاغ