• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کتنے کلومیٹر سفر کرنے پر نماز قصر کی جا سکتی ہے؟

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,056
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
111
انسان کتنی مسافت طے کر لے تو قصر کر سکتا ہے ، اس بارے میں علماء کے مابین اختلاف رائے موجود ہے۔
جمہور علماء کے ہاں، اگر انسان 80 کلومیٹر کی مسافت طے کر لے تو قصر کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس مسافت کا اعتبار شہر ؍ گاؤں سے نکلنے کے بعد ہو گا۔ شہر کے اندر جو مسافت طے کی جائے گی وہ اس میں شامل نہیں ہو گی، یعنی اگر انسان شہر سے نکلنے سے پہلے 10 کلومیٹر سفر طے کرتا ہے تو یہ 10 کلومیٹر 80 کلومیٹر میں شامل نہیں کیے جائیں گے، بلکہ شہر سے نکلنے کے بعد اور دوسرے شہر ؍گاؤں میں داخل ہونے تک کا فاصلہ اگر 80 کلومیٹر یا اس سے زیادہ ہو گا، تو جمہور علماء کرام کے ہاں قصر کی جا سکتی ہے۔

بعض اہل علم کے ہاں نماز قصر کرنے کی حد22 کلومیٹر ہے، یعنی اگر کسی نے 22 کلو میٹر یا اس سے زیادہ مسافت سفر کرنا ہو تو وہ اپنے شہر ، قصبہ یا دیہات کی آبادی سے باہر چلا جائے تو نماز قصر کر سکتا ہے۔ اسی طرح سفر سے واپسی پر اپنے شہر، قصبہ، یا دیہات کی آبادی میں داخل ہونے سے پہلے پہلے قصر کر سکتا ہے۔

حضرت يحيى ين يزيد ہنائی فرماتے ہیں کہ میں نے سيدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نماز قصر کرنے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا:

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ )صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 691)

’’ رسول اللہ ﷺ جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر نکلتے، تو دو رکعت نماز پڑھتے۔‘‘

حدیث مبارکہ میں تین میل کے بجائے تین فرسخ مرادلینا زیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ اس میں تین میل بھی آجاتے ہیں کیونکہ ایک فرسخ تین میل کا ہوتا ہے، معلوم ہوا کہ مسافت اگر نو میل ہو تو نماز قصر کی جا سکتی ہے۔ پرانے میل انگریزی میل سے بڑے تھے جو آج کے حساب سے تقریبا 22کلومیٹر بنتے ہیں۔

بعض اہل علم کے ہاں سفر کی مسافت کے لحاظ سے کوئی حدبندی نہیں ہے ، بلکہ معاشرے کے عرف اور رواج میں لوگ جس کو سفر سمجھتے ہوں وہ سفر ہو گا اور قصر کرنے کی اجازت ہو گی۔
  • اس مسئلے میں اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسی کوئی واضح قرآنی آیت یا حدیث نہیں ہے جس میں بالکل واضح طور پر مذکور ہو کہ اتنی مسافت طے کرنے سے قصر کی جاسکتی ہے۔
  • اس مسئلہ میں زیادہ قوی بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ جب قرآن و حدیث میں سفر کی وجہ سے قصر کرنے کی رخصت دی گئی ہے ، لیکن مسافت کی تحدید نہیں کی گئی اور نہ ہی عربی زبان میں اس حوالے سے کوئی مسافت متعین کی گئی ہے، تو جو معاشرے میں سفر سمجھا جاتا ہواتنی مسافت طے کرنے سے قصر کی جا سکتی ہے ۔
والله أعلم بالصواب.
 
Top