• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تکذیبِ آیات و استیلائے تشریع

شمولیت
نومبر 01، 2022
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
35
بسم اللہ الرحمن الرحیم

تکذیبِ آیات و استیلائے تشریع
​

خالقِ ارض و سماوات، مالکِ کون و مکان، جلّ جلالہٗ و عمّ نوالہٗ، نے اُن خبط‌زدگانِ عقل و سفہائے زمانہ کے باب میں، جو تحلیل و تحریم کی جسارتِ ناروا کو اپنے وہمِ باطل اور نفسِ مسموم کی خواہشات پر موقوف کرتے ہیں، یہ ارشادِ قاطع و فرمانِ صریح صادر فرمایا کہ وہ نہ فقط منکرانِ معاد و جاحدانِ یومِ الحساب ہیں بلکہ مکذبینِ آیاتِ سبحانی اور شرکاءِ مساوات کے مرتکب و مستوجبِ لعنتِ جاوید ہیں۔

چنانچہ آیۂ کریمہ کی لسانِ قدسی سے ناطق و بلیغ حکم وارد ہوا:

﴿قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هَذَا فَإِنْ شَهِدُوا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ﴾ (الأنعام: ١٥٠)

یعنی اے مظہرِ حقائق و مصدرِ صداقت! اُن مدعیانِ شہادت کو پکارو جو یہ زعم رکھتے ہیں کہ اللہ نے فلاں امر کو حرام کیا ہے؛ لیکن اگر وہ اپنی جہالت و ضلالت پر دلیلِ گواہی قائم کریں تب بھی تم ان کے ہم‌زبان نہ ہونا، اور نہ اُن کے اہواءِ مظلمہ و اوہامِ باطلہ کے اتباع میں قدم رکھنا؛ کہ وہی لوگ ہیں جو ہماری آیاتِ منزَّلہ کو جھٹلاتے ہیں، جو آخرت کے روزِ جزا پر یقین نہیں رکھتے، اور اپنے ربّ العزّت کے ساتھ برابری و مساوات قائم کرنے کی جسارتِ شنیع میں مبتلا ہیں۔

یہ ندائے قدسی در اصل اُن سفہائے وقت و نابکارانِ دہر کے خلاف بطورِ توبیخ و تعنیف نازل ہوئی ہے، جنہوں نے حاکمیتِ مطلقہ و اقتدارِ لایزال کے حقِ خالص کو غارت کر کے اپنی عقولِ ناقصہ و اوہامِ فاسدہ کی رو سے خودساختہ تشریع کی جسارت کی، اور اس جُرأتِ ناروا کو ’’قانون سازی‘‘ کا نامِ فریب بخشا۔

ان کی یہ مدّعا پروری اور دعوے داری کہ اُن کا وضع کردہ نظام، شریعتِ الٰہی کا جزوِ لاینفک و لابدی ہے، در حقیقت سراپا بے‌اعتباری و موہومیت ہے، اس لیے کہ امرِ محقق و فیصلۂ قطعی یہ ہے: حکمِ سبحانی کے بعد کسی کی رائے، خواہ وہ کتنی ہی خوشنما و پرزرق و برق ہو، ذرّہ‌ برابر بھی حجیت و اعتباریّت کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

اگر صاحبِ خردِ متفکّر و عاقلِ متدبّر لحظۂ فانیہ بھر کے لئے آئینۂ فکر و تامّل میں نظر افگند کرے اور تدبّر و تفکّر کی صیقل سے اپنے قلبِ منکسر کو جلا بخشے تو بیّن و آشکار ہو جائے گا کہ ربِّ کریم جلّ جلالہٗ نے ان شقیانِ روزگار پر جو قہر و غضب نازل فرمایا ہے، اور ان کو منکرانِ آخرت و عدیلانِ ربّ قرار دیا ہے، اس کا سرّ نہاں جز اس کے اور کچھ نہیں کہ اطاعتِ شریعتِ الٰہیہ و تسلیمِ مطلقۂ اوامرِ سبحانی ہر مومن پر فرضِ عین و واجبِ لازمہ ہے۔

پس جو جماعت اپنی عقولِ ناقصہ کے خبط و اوہامِ باطلہ کے بل پر خودساختہ نوامیسِ کاذبہ کو ’’قانون‘‘ کے مسمّیٰ سے موسوم کرے، خواہ اس پر "اسلامی" کی جعلی مُہریں ہی کیوں نہ ثبت کرے، وہ در اصل مکذبینِ آیاتِ ربّانیہ میں شمار ہوتی ہے؛ کہ نصوصِ قدسیہ کے بعد غیر کی ہر رائے و وضعی ضابطہ محض لغو و مہمل، اور محض سراب و خیالِ باطل کے سواء کچھ نہیں۔

آیاتِ قدسیہ اگرچہ بر سبیلِ کونیات و مظاہرِ موجودات مراد لی جائیں تو ہر ذرّۂ ذلیل و ہر شئۓ حقیر، حتیٰ کہ ذرّاتِ غبار و قطعاتِ کہسار، جملہ مظاہرِ ارضی و سماوی اس حقیقتِ جلیّہ پر ناطق و دلالت کنندہ ہیں کہ خالقِ مطلق و مالکِ حقیقی و متصرّفِ کل، فقط و فقط ذاتِ احدیّتِ غیرِ مشوب ہے، پس لازوال و غیرِ متنازعہ یہ امر متحقق ہے کہ وہی منفرد حاکم و شارع، مقتدرِ بالذات و سلطانِ ازلی ہے۔

و اگر بالفرض آیاتِ قرآنیہ مراد ہوں، تو صریح نصوصِ محکمات و بیناتِ آیات، بآوازِ رسا اور بلسانِ جلالیہ شہادت دیتی ہیں کہ ہر ابنائے آدم پر، حیاتِ مستعار کے جملہ شُعب و مظاہر میں، واجب و لازم و فرضِ معیّن ہے کہ ذاتِ وحدہٗ لا شریک کو مقتدرِ اعلیٰ و مرجعِ مطلق تسلیم کرے، اور غیرِہ کی حاکمیت و تشریع کو محض وهمِ باطل و سرابِ کاذب جانے۔

پس بر سبیلِ تقدیرِ ربّانی، اُن نابکارانِ شقاوت‌ پیشہ پر یہ حکمِ الٰہی نافذ و لازم گردانیدہ گیا کہ وہ منکرانِ معاد و جاحدانِ یومِ جزا ہیں؛ اس لئے کہ جو کوئی لقائے پروردگار و عودِ الی اللہ کا معتقد و موقن ہو، اُسے کیونکر جُرأت و مجال ہوسکتی ہے کہ الوہیتِ سبحانی میں سرکشی و تمرّد کرے یا اپنے خویش کو واضعِ نوامیس و شارعِ قوانین جانے؟ حالانکہ بدیہی و قطعی یہ امر ہے کہ تشریع و تقنین کا حقِ مختص و منصبِ منیع، فقط و فقط ذاتِ ذوالجلال و الاکرام کے لئے مخصوص و محتجز ہے، جس کی جنابِ کبریائی کے ماورا کسی بھی نفسِ مدّعی کے لئے ذرّہ برابر نصیب و حصہ متصور نہیں۔

حاکمیت کا منصب، جس طرح لوحِ تقدیر و صحیفۂ ازل میں قضائے کائنات و تقدیرِ ازلی کے ہم رکاب و ہم عنان ہے، بعینہٖ اسی طرح شریعتِ مطہرہ و حکمِ تشریعی کے مسندِ منیع پر بھی مستوی و متمکن ہے۔ آیتِ کریمہ کے اختتام پر ربِ قدیر و مالکِ تقدیر نے اُن کی اُس صفتِ رذیلہ و خصلتِ قبیحہ کا ذکر فرمایا جو صریح کفر و جحود کی آئنہ‌دار و مظہرِ اکبر ہے: ’’یہ اپنے ربِ عظیم کے ساتھ مساوات قائم کرتے ہیں‘‘۔

اور اگر وہ صدقِ توحید و اخلاصِ اعتقاد کے حامل و وارث ہوتے تو کیونکر یہ متصور تھا کہ ربِ واحد و فردِ صمد کی حاکمیتِ مطلقہ میں کسی غیر کو شریک ٹھہراتے؟ یا کسی بندۂ مسکین و عبدِ عاجز کے دعویٰ تشریع و وضعِ قوانین باطلہ کو بقبول خاطر لاتے؟ بلکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ ان کی یہ جسارت و گستاخی، شرکِ جلی و ضلالتِ کبریٰ کے سوا کوئی اور تعبیر نہیں رکھتی۔
 
Top