ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 928
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
مدخلیت کی حقیقت اور برصغیر میں اس کا انجام
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ الذی جعل الحق ناصراً، والباطل مندحراً، والصلاة والسلام علی من بعث بالسيف بین يدي الساعة حتّی يعبد الله وحده لا شریک له۔
امت مسلمہ کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ ہر دور میں باطل نے حق کے لبادے میں گھس کر اسلام کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ کبھی قادیانیت نے تقیہ اور فریب سے امت کو گمراہ کرنا چاہا، کبھی صیہونی و صلیبی ایجنٹوں نے اپنے ایجنڈے کے مطابق اسلام کا لبادہ اوڑھ کر امت کو کمزور کرنے کی سازش کی۔ انہی باطل سازشوں میں سے ایک خطرناک فتنہ مدخلیت بھی ہے۔
یہ فرقہ طاغوتی حکمرانوں کے درباری غلام، طواغیت کے وکیل اور کفار کے ایجنڈے کے ترجمان ہیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ امت کو توحید و جہاد سے محروم کر کے، طاغوتی حکمرانوں کی اندھی اطاعت کو دین بنا کر پیش کریں اور عوام کو کفر کے خلاف اٹھنے سے روکیں۔
مدخلیوں کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ حکمران جو کچھ کرے، چاہے وہ کفر بواح کا مرتکب ہو، شریعت اسلامی کو معطل کر دین اسلام کے خلاف صف آراء ہو جائے تب بھی اس کی اطاعت لازم ہے۔ یہ دین کو کفار کی غلامی اور محکومی کا مذہب بنا کر پیش کرتے ہیں۔
حالانکہ قرآن مجید واضح اعلان کرتا ہے:
“ومن لم یحکم بما أنزل اللہ فأولئک ہم الکافرون” [المائدہ: 44]
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق” [مسند احمد]
خالق کی نافرمانی میں کسی بھی مخلوق کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔
ہندوستان میں جمعیت اہلِ حدیث والوں کے اندر ایک عرصے سے غلامانہ ذہنیت سرایت کر گئی تھی۔ ہندو اکثریت کے درمیان رہنے کی وجہ سے ان کے اندر سیکولرزم، وطن پرستی، جمہوریت پرستی اور کفریہ نظام کے ساتھ مصالحت جیسی مکفرات جڑ پکڑ گئیں۔ اسی کمزوری نے ہندوستان کی جمعیت اہلِ حدیث کو مدخلیوں کے لیے آسان شکار بنا دیا۔ مدخلیوں نے ان کی اسی ذہنی غلامی اور حکمران پرستی کو ہوا دے کر اپنے نظریات وہاں پھیلائے اور اپنی جڑیں کچھ حد تک مضبوط کر لیں۔
اسی لیے آج ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں اجمل منظور، نارائن پوری، علیم کلیم برادرز اور ابو زید بےضمیر جیسے مداخلہ کھلے عام اپنے مدخلی افکار پھیلا رہے ہیں۔ یہ لوگ جہاد اور مجاہدین سے بغض رکھتے ہیں، توحید کے اصل مفہوم کے دشمن ہیں اور کھل کر طاغوت کی حمایت کرتے ہیں۔ اور جمعیت اہلِ حدیث ہند نے ان کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیے ہیں۔
جبکہ پاکستان میں صورت حال یکسر مختلف رہی۔ یہاں اہلِ حدیث علماء نے مدخلیت کے فتنے کو ابتدا ہی میں پہچان لیا اور اس کا قلع قمع کر دیا۔ جب مدخلیت نے پاکستانی اہلِ حدیثوں کے اندر جگہ بنانے کی کوشش کی تو اس وقت شیخ زبیر علی زئی نے اس فتنے کا دلائل و براہین کے ساتھ علمی محاسبہ کیا اور مدخلیوں کی جڑیں اکھاڑ دیں۔
اور آج پاکستانی اہل حدیثوں میں حافظ ضیاء اللہ روپڑی مدخلیت کے رد میں نمایاں اور جری شخصیت ہیں۔ انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ مدخلیت منہجیت کا نام استعمال کر کے دراصل طواغیت کی وکالت اور کفار کی خوشامد کرتی ہے۔
پاکستانی مدخلیوں کو اپنے کھلے انجام کا اندازہ ہے۔ اس کی مثال وہ وقت ہے جب مرتضیٰ بن بخش مدخلی نے کھل کر اپنے افکار بیان کیے جسے اہلِ حدیثوں نے رد کر کے اس کی مدخلیت کا پردہ چاک کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں مدخلی چہرے جیسے شاہد رفیق، واصل واسطی، فیضان فیصل اور محمد طاہر وغیرہ تقیہ کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ کھل کر اپنی مدخلیت ظاہر کرنے سے خوفزدہ ہیں مگر پس پردہ اپنے زہریلے افکار پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مگر اللہ کے فضل سے ان کی یہ سازشیں بھی عوام اور علماء پر آشکار ہو رہی ہیں۔
“ويمكرون ويمكر الله والله خير الماكرين” [آل عمران: 54]
یہ لوگ مکر کرتے ہیں اور اللہ بھی خفیہ تدبیر کرتا ہے، اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔
مدخلیوں کی روش دراصل قادیانیوں سے مختلف نہیں۔ جیسے قادیانیوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر امت کو دھوکہ دینا چاہا، ویسے ہی مدخلی زنادقہ "منہجیت" کے نام پر اپنے باطل نظریات پھیلاتے ہیں۔ قادیانی ذلیل و خوار ہوئے، راندہ درگاہ بنے اور دنیا میں رسوا ہو گئے۔ مدخلیوں کا انجام بھی یہی ہوگا۔
“إن الباطل کان زهوقا” [بنی اسرائیل: 81]
بے شک باطل تو مٹنے والا ہے۔
مدخلیت نہ سلفیت ہے نہ اسلام سے اس کا کوئی تعلق۔ یہ ایک زندیقانہ فکر ہے جو کفار اور طواغیت کی ترجمان ہے۔ ہندوستان میں جمعیت اہلِ حدیث کی غلامانہ ذہنیت کے سبب یہ کچھ حد تک پنپ گئی، مگر پاکستان میں اہلِ حدیث علماء نے اسے جڑ سے اکھاڑ دیا۔
یہ فتنہ اب ہندوستان میں بھی دم توڑ دے گا۔ مدخلیت بھی قادیانیت کی طرح ایک مردہ فتنے کے طور پر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دی جائے گے۔ یہ فرقہ امت کے شعور میں ہمیشہ کے لیے ذلت و رسوائی کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔