• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں قیام کے دوران دونوں پاؤں کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے؟

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,099
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
ہمارے علم میں ایسی کوئی خاص حدیث نہیں ہے جس میں نماز میں قیام کی حالت میں دونوں پاؤں کے درمیانی فاصلے کو متعین کیا گیا ہو۔ نماز میں قیام کے دوران دونوں پاؤں کے درمیان معتدل فاصلہ ہونا چاہیے، دونوں پاؤں جوڑ کر بھی کھڑے نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی زیادہ فاصلہ ہونا چاہیےبلکہ اعتدال کے ساتھ اپنی جسامت کے مطابق پاؤں رکھنے چاہئیں ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو وہ اپنی ایڑیوں اور کندھوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاتے تھے، لیکن اگر کوئی شخص اپنے پاؤں کو غیر معمولی طور پر پھیلاتا ہے تو اس سے کندھوں کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے، جو صف کی ترتیب کو خراب کرتا ہے۔ شرعی طور پر مطلوب یہ ہے کہ کندھوں اور ایڑیوں کو ملا کر صف کو درست کیا جائے۔

سيدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي
’’اپنی صفوں کو درست رکھا کرو کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔‘‘

اس کے بعد ہم میں سے ہر شخص اپنا کندھا اپنے ساتھی کے کندھے سے اور اپنا قدم اپنے ساتھی کے قدم سے ملا دیتا تھا۔ (صحیح البخاری، الأذان: 725)

والله أعلم بالصواب.
 
Top