• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حکمرانوں کے خلاف خروج کے متعلق فضیلۃ الشیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمۃ اللہ علیہ کا پیغام حق

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
846
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
حکمرانوں کے خلاف خروج کے متعلق فضیلۃ الشیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمۃ اللہ علیہ کا پیغام حق

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للِہ وحدہ، والصّلاة والسلام على من لا نبیّ بعدہ۔ امّا بعد:

یہ بات اہلِ ایمان کے لیے بالکل واضح اور صریح ہے کہ ایسے حکمران جو اللہ کی شریعت کو پسِ پشت ڈال کر باطل قوانین کے ذریعے حکومت کرتے ہیں، درحقیقت طاغوت اور دین کے دشمن ہیں۔ آج ہم اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے، شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ نقل کرتے ہیں، جنہوں نے اہلِ ایمان کے لیے اجماعی اور غیر متنازع حکم صادر کیا ہے:

فضیلۃ الشیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ نے فرمایا:

ونقول الإجماع الواضحة الفصيحة، في وجوب الخروج على مثل حكام زماننا ؛ الذين حكموا بغير الشريعة، وشرعوا ما لم يأذن به الله، وادعوا حق التشريع من دون الله، وامتنعوا على ذلك بقوة السلاح والقانون زعموا ، وناصروا الكفار على المسلمين ووالوا الكفار الأصليين والمرتدين، والغربيين والشرقيين.

ہم یہ بات بالکل واضح اور صریح اجماع کے طور پر کہتے ہیں کہ ہمارے اس زمانے کے ان حکمرانوں کے خلاف خروج واجب ہے، جو اللہ کی شریعت کے بغیر حکم کرتے ہیں، اور ایسے قوانین وضع کرتے ہیں جن کی اجازت اللہ نے نہیں دی، اور اللہ کے سوا اپنے لیے حقِ تشریع (قانون سازی) کا دعویٰ کرتے ہیں، پھر اس باطل نظام پر اسلحے اور قانون کی طاقت سے جمے رہتے ہیں، اور کافروں کو مسلمانوں پر مدد دیتے ہیں، اور اصل کفار اور مرتدین چاہے مشرقی ہوں یا مغربی سب سے دوستی و وفاداری رکھتے ہیں۔


[امتطاء السروج في نقش شبهة موقف الإمام أحمد من الخروج، ص : ٧]

IMG-20251030-WA0002.jpg

شیخ ترکی بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ دو ٹوک الفاظ میں کہتے ہیں«الإجماع الواضحة الفصيحة، في وجوب الخروج على مثل حكام زماننا ؛ الذين حكموا بغير الشريعة» یعنی یہ بات اہلِ ایمان کا متفقہ اجماعی عقیدہ ہے کہ اس عہد کے وہ حکمران، جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کو پسِ پشت ڈال کر باطل قوانین کے ذریعے فیصلے کرتے ہیں، درحقیقت طاغوتی نظام کے محافظ اور الوہی حاکمیت کے منکر ہیں۔ ان کے خلاف خروج واجب و لازم ہے، کیونکہ انہوں نے ربِّ کائنات کے حکم کو ٹھکرا کر انسانی قانون کو بلند کیا، اور اس جُرمِ عظیم کے ذریعے زمین پر الوہیتِ باطلہ کا علم بلند کیا۔

ان کی اطاعت دراصل کفر کی تقویت اور اسلام کی جڑ کاٹنے کے مترادف ہے۔ ایسے حکمرانوں کے بارے میں نرمی، تاویل، یا مداہنت کے الفاظ بولنا ایمان کی کمزوری اور غیرتِ دینی کے فقدان کی علامت ہے۔ پس جو قومیں ایسے طاغوتی نظام پر راضی ہیں، وہ درحقیقت اپنے زوال اور عذابِ الٰہی کو دعوت دے رہی ہیں۔

یہ طاغوتی حکمران دراصل اللہ کی زمین پر اس کے حکم کے منکر اور اس کی الوہیت کے باغی ہیں۔ «وشرعوا ما لم يأذن به الله» وہ ایسے قوانین بناتے ہیں جن کی اجازت اللہ ربّ العزّت نے کبھی نہیں دی، بلکہ ان قوانین کے ذریعے اپنے آپ کو ربوبیت اور تشریع کے منصب پر فائز کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ کہ انہیں قانون سازی کا اختیار حاصل ہے دراصل اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے، بلکہ الوہیت کے تخت پر بیٹھنے کی کوشش ہے۔

یہی وہ جرم ہے جس نے فرعون کو فرعون بنایا، نمرود کو نمرود بنایا، اور آج کے ان ظالم حکمرانوں کو اسلامی لبادے میں چھپے طواغیت میں بدل دیا ہے۔ ان کے وضع کردہ قوانین دراصل قرآن کے خلاف اعلانِ بغاوت ہے۔ ان کے آئین، ان کے دستور، ان کے پارلیمانی فیصلے سب کے سب "أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ" کا جیتا جاگتا مظہر ہیں۔

یہ لوگ دراصل ربّ کے حقِ تشریع میں مداخلت کر کے اپنے آپ کو خالق کے برابر سمجھنے کی گستاخی کرتے ہیں «وادعوا حق التشريع من دون الله» اور یہی کفرِ اکبر کی بنیاد ہے۔ ان کی اطاعت، ان کے قانون کی پابندی، اور ان کے نظام کو قبول کرنا اسلام کے قلعے میں نقب زنی اور ایمان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔

یہ طاغوتی حکمران محض فکری یا نظریاتی گمراہ نہیں، بلکہ ظلم و استکبار کے عملی مجسمے ہیں، جو اپنے اس باطل و کفریہ نظام کو اسلحے کے زور اور قانون کے جال سے قائم رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کا نظام فطرت کے خلاف، دین کے منافی، اور عقلِ سلیم کے برعکس ہے؛ اس لیے وہ اسے صرف طاقت، جبر اور ریاستی دہشت سے زندہ رکھتے ہیں۔ «وامتنعوا على ذلك بقوة السلاح والقانون زعموا»

یہی وہ لوگ ہیں جن کے دل ایمان سے خالی، مگر ہاتھ ظلم سے بھرے ہیں۔ ان کا قانون دراصل باطل کی تلوار ہے جس سے وہ حق کے چراغ بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ عوام کو “قانون” کے نام پر غلام بناتے ہیں، “امن” کے پردے میں ظلم پھیلاتے ہیں، اور “ریاست” کے عنوان سے ربّ العالمین کی حاکمیت پر شب خون مارتے ہیں۔

ان کے لشکر، ان کے عدالتیں، ان کے آئین سب اس ایک مقصد کے خادم ہیں کہ اللہ کے دین کو روکا جائے، اور طاغوت کی کرسی محفوظ رہے۔ یہ وہی چہرے ہیں جن کے بارے میں قرآن نے فرمایا:

"إِنَّهُمْ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ اللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ"
(یقیناً انہوں نے اللہ کے سوا شیطانوں کو دوست بنا لیا، اور گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔)

پس ان کے خلاف خاموشی خیانت ہے، ان سے محبت نفاق ہے، اور ان کے باطل نظام کی تائید کفرِ بواح کی ایک صورت ہے۔

یہ طاغوتی حکمران نہ صرف اللہ کی شریعت سے انحراف کرتے ہیں بلکہ کافروں کے دست و بازو بن کر امتِ مسلمہ کے خلاف صف آراء ہوتے ہیں۔ «وناصروا الكفار على المسلمين» وہ اسلام کے دشمنوں کے خیمے میں بیٹھ کر مسلمانوں کے خون پر سودے بازی کرتے ہیں، ان کے وسائل و سرزمینیں کافروں کے لیے کھول دیتے ہیں، اور اہلِ ایمان کو کمزور کرنے کے لیے خود مسلمانوں پر ظلم و جبر کرتے ہیں۔

یہی وہ خائن طبقہ ہے جس کے متعلق قرآن نے فرمایا: "وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ"
(اور جو تم میں سے ان کو دوست بنائے، وہ انہی میں سے ہے۔)

یہ حکمران دراصل نفاقِ اکبر کے حامل اور ولایتِ کفر کے نمائندے ہیں۔ ان کی دوستی ایمان نہیں بلکہ ذلت و رسوائی کی علامت ہے۔ ان کے ہاتھوں سے مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہتی ہیں، ان کے فیصلوں سے امت کے شہر و دیہات اجڑتے ہیں، اور ان کی پالیسیوں سے دشمنوں کو تقویت اور اہلِ اسلام کو کمزوری نصیب ہوتی ہے۔

یہی وہ لوگ ہیں جو امریکہ و اسرائیل کے غلام اور امتِ محمدیہ کے دشمن ہیں۔ ان کے الفاظ میں “اصلاح” کے دعوے ہیں، مگر ان کے عمل میں “فساد” کی حقیقت عیاں ہے۔ ان کے لیے قرآن کی وعید واضح ہے:

"بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا، الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ"
(منافقوں کو دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو وہ جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں۔)

یہ طاغوتی حکمران درحقیقت ایمان کے لبادے میں لپٹے کفر کے نمائندے اور نفاق کے پروردہ ہیں۔ «والوا الكفار الأصليين والمرتدين، والغربيين والشرقيين» وہ مشرقی ہوں یا مغربی طواغیت، سب کے غلام و وفادار ہیں ان کے لیے عزت و وفا صرف انہی کافروں اور مرتدین کے لیے ہے جنہوں نے اسلام اور اہلِ اسلام سے عداوت کو اپنا شعار بنا رکھا ہے۔

یہ وہی طبقہ ہے جو واشنگٹن و لندن کے ایوانوں میں سجدہ ریز اور تل ابیب و دہلی کے درباروں میں وفاداری کے عہد باندھتا ہے، مگر جب اہلِ ایمان کے لیے بات آتی ہے تو چہرے بگڑ جاتے ہیں، زبانیں گونگی ہو جاتی ہیں، اور ہاتھ ظلم کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

ان کی سیاست دراصل “ولاءِ الكفر” کی تجدید اور “براءَةُ مِنَ الإيمان” کا اعلان ہے۔ وہ اللہ کے دشمنوں کو دوست اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو دشمن سمجھتے ہیں۔ یہ وہی کردار ہے جو منافقینِ مدینہ کا تھا ظاہراً کلمہ گو، باطناً دشمنِ دین۔

اللہ تعالیٰ نے ان جیسے منافق حکمرانوں کے بارے میں فرمایا:

"تَرَى كَثِيرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنفُسُهُمْ أَن سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ"
(تم ان میں سے اکثر کو دیکھو گے کہ وہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں، کیا ہی برا ہے جو انہوں نے اپنے لیے آگے بھیجا کہ اللہ ان پر غضبناک ہوا۔)

پس یہ بات واضح ہے کہ ان طاغوتی حکمرانوں کے خلاف خاموش رہنا، ان کے ساتھ مداہنت، اور ان کے نظام کی تائید کرنا ایمان کے خاتمے اور نفاق کی نشانی ہے۔ شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمۃ اللہ علیہ نے جو پیغام دیا اس پر عمل کرنا ہر مومن کے لیے واجب ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للِہ ربّ العالمین
۔
 
Top