• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولانا امین احسن اصلاحی کا نظریہ حدیث

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,529
ری ایکشن اسکور
9,996
پوائنٹ
667
نام کتاب
مولانا امین احسن اصلاحی کا نظریہ حدیث
مصنف
حافظ عبد الحمید ازہر
Title Page --- Molana-Ameen-Ahsan-Islahi-Ka-Nazria-Hadith.jpg
تبصرہ

مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ (1904ء۔1947ء) اعظم گڑھ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ موصوف مدرسہ فراہی کے ایک جلیل القدر عالم دین، مفسر قرآن اور ممتاز ریسرچ سکالر تھے ۔ موصوف نے نے ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کی ۔دس سال کی عمر میں مدرستہ الاصلاح سرائے میر میں داخل ہوئے یہاں آٹھ سال تعلیم حاصل کی مدرسہ سے فارغ ہوتے ہی صحافت سے منسلک ہو گئے۔ 1925ء میں صحافت کو خیر باد کہہ کر حمید الدین فراہی کی خواہش پر علوم قرآن میں تخصص کی غرض سے ہمہ وقت مدرستہ الاصلاح سے وابستہ ہو گئے، مدرسہ میں تدریسی فرائض کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ دیگر اساتذہ کے ساتھ مولانا فراہی سے درس قرآن لینے لگے آپ نے مولانا فراہی سے علوم تفسیر اور طریقہ تفسیر میں مہارت حاصل کی ۔ مولانا فراہی کی محنتوں کا نتیجہ تھا کہ اصلاحی صاحب نے ’’تدبر قرآن ‘‘ کے نام سے ایک ایسی تفسیر لکھی جو حقیقی معنوں میں فکر فراہی کی غماز ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’مولانا امین احسن اصلاحی کا نظریہ حدیث ‘‘ فضیلۃ الشیخ حافظ عبد الحمید ازہر رحمہ اللہ کی تصنیف ہے انہوں نے اس کتاب میں مولانا اصلاحی کی علمِ حدیث پر ناروا باتوں کا جائزہ لیا ہے اور ان کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا عبد الحمید ازہر رحمہ اللہ کو جنت الفردوس میں بلند مقام دے اور ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے ۔آمین (م۔ا)
کتاب کا لنک
 

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,529
ری ایکشن اسکور
9,996
پوائنٹ
667
عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 4
فن نقد حدیث پر مولانا اصلاحی کی کرم فرمائیاں 5
تحقیق حدیث کے لیے مولانا اصلاحی کی قیاس کسوٹیاں 41
مولانا اصلاحی صاحب کے ایک وکیل صفائی کےجواب میں 81
 
Top