• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سلام پھیرنے کے بعد امام کس طرف رخ کرے گا؟

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,099
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
نماز سے سلام پھیرنے کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھنا سنت ہے۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنا عرصہ قبلہ رخ ہو کر بیٹھتے کہ یہ دعا پڑھ لیتے: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلاَةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ (صحیح البخاري، الأذان: 845)
’’ نبی ﷺ جب نماز پڑھ لیتے تو اپنا روئے مبارک ہماری طرف کر لیتے۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة: 592)
’’ رسول اللہ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد صرف یہ ذکر پڑھنے تک ہی (قبلہ رخ ) بیٹھتے: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ‘‘

  • سلام پھیرنے کے بعد دائیں طرف یا بائیں طرف مڑ کر مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھنا جائز ہے ، کیونکہ نبی ﷺ سے دونوں طرح ثابت ہے۔ آپ ﷺ کبھی دائیں اور کبھی بائیں طرف مڑتے تھے، اگرچہ بعض علماء نے دائیں طرف مڑنے کو افضل قرار دیا ہے۔۔
اسماعیل بن عبدالرحمان سدی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ جب میں نماز پڑھ لوں تو اپنا رخ کیسے موڑوں، اپنی دائیں طرف یا اپنی بائیں طرف سے؟ انھوں نے کہا:
أَمَّا أَنَا فَأَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ (صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 708)
’’ میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو زیادہ تر دائیں طرف سے رخ پھیرتے دیکھا ہے۔‘‘

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ (صحیح البخاري، الأذان: 852)
’’تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں شیطان کا حصہ نہ بنائے، وہ اس طرح کہ نماز کے بعد دائیں جانب سے پھرنے کو ضروری خیال کرے۔ یقینا میں نے نبی ﷺ کو اکثر اپنی بائیں جانب سے بھی پھرتے دیکھا ہے۔‘‘

سيدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی دائیں طرف سے رخ پھیرتے تھے اور کبھی بائیں طرف سے ۔ (مسند أحمد: 6660) (صحیح)

  • سیدنا انس رضی اللہ عنہ اورسیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں تطبیق یہ ہے کہ نبی ﷺ کبھی دائیں طرف سے رخ پھیرتے تھے اور کبھی بائیں طرف سے۔ ہرصحابی نے وہی بیان کیا جو اس کے علم کے مطابق زیادہ تھا۔ اس لیے دونوں طریقے جائز ہیں۔ جو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ذکرہے کہ ’’تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں شیطان کا حصہ نہ بنائے‘‘، تو یہ دراصل دائیں یا بائیں جانب سے پھرنے کے عمل کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس شخص کے حق میں ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ ایسا کرنا لازمی اور ناگزیر ہے۔ اس لیے کہ جو شخص ان دونوں میں سے کسی ایک طریقے کو واجب سمجھ لے وہ غلطی پر ہے۔
امام ابن بطال رحمہ اللہ صحیح بخاری کی شرح میں فرماتے ہیں:
علماء کے نزدیک دائیں اور بائیں دونوں جانب سے رخ پھیرنا اور مڑنا جائز ہے، وہ اسے مکروہ نہیں سمجھتے، کیونکہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے احادیث ثابت ہیں۔ اگرچہ آپ ﷺ کا دائیں جانب سے پھرنا زیادہ تھا، اس لیے کہ آپ ﷺ اپنے تمام کاموں میں دائیں طرف کو پسند فرمایا کرتے تھے۔حضر ت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے صرف دائیں جانب سے پھرنے کو لازم پکڑ لینے کے اندیشے کی بنا پر منع فرمایا کہ کہیں اسے ایسا لازمی عمل نہ سمجھ لیا جائے کہ جس کے سوا کسی اور طریقے کو جائز ہی نہ مانا جائے۔ (شرح صحيح بخاری از ابن بطال، جلد نمبر2، ص 464)

محمد اشرف عظيم آبادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَمَذْهَبُنَا أَنَّهُ لَا كَرَاهِيَةَ فِي وَاحِدٍ مِنَ الْأَمْرَيْنِ لَكِنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَنْصَرِفَ فِي جِهَةِ حَاجَتِهِ سَوَاءٌ كانت عن يمينه أو شماله فإن استوى الْجِهَتَانِ فِي الْحَاجَةِ وَعَدَمِهَا فَالْيَمِينُ أَفْضَلُ لِعُمُومِ الْأَحَادِيثِ الْمُصَرِّحَةِ بِفَضْلِ الْيَمِينِ فِي بَابِ الْمَكَارِمِ وَنَحْوِهَا. (عون المعبود، جلد 3، ص 254)
’’ہمارا مسلک یہ ہے کہ ان دونوں طریقوں میں سے کسی ایک میں بھی کوئی کراہت نہیں، البتہ مستحب اور افضل یہ ہے کہ آدمی اس سمت سے پھرے جس سے وہ خود آرام دہ محسوس کرے ، خواہ وہ دائیں جانب ہو یا بائیں جانب۔ اگر اس کے لیے دونوں جانب سے رخ پھیرنے میں کوئی تنگی نہیں ہے، تو دائیں جانب سے پھرنا افضل ہے، کیونکہ احادیث مبارکہ میں اچھے اعمال کو دائیں جانب سے کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔‘‘

والله أعلم بالصواب.
 
Top