عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,539
- ری ایکشن اسکور
- 9,997
- پوائنٹ
- 667
نام کتاب
باجماعت نماز تراویح عشا کے بعد یا دیر رات؟
نام مصنف
محمد حامد سلفی مدنی
رمضان المبارک میں نماز تراویح ایک مسنون و مستحب عبادت ہے، جسے انفرادی طور پر بھی ادا کیا جا سکتا ہے اور باجماعت بھی۔ انفرادی ادائیگی کی صورت میں اس کا وقت نماز عشا کے بعد سے طلوع فجر تک وسیع رہتا ہے، البتہ با جماعت ادا کرنے کی صورت میں اس کا وقت متعین ہے اور وہ ہے نماز عشا کے فوراً بعد ، جیسا کہ سنت نبوی اور سلف صالحین کے تعامل سے ثابت ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں سے بعض مساجد میں رمضان کے آخری عشرے میں باجماعت نماز تراویح کو موخر کر کے درمیانی شب میں ادا کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور دن بدن اس رجحان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، اس طرز عمل کو اگرچہ بعض اہل علم نے جائز قرار دیا ہے مگر اکثر علما اس سے اجتناب کی تاکید کرتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ باجماعت نماز تراویح:عشاء کے بعد یا دیر رات ؟‘‘ محترم محمد حامد سلفی حفظہ اللہ کی کاوش ہے فاضل مصنف نے نہایت عرق ریزی اور بڑی جاں فشانی کے ساتھ اس کے علمی مواد کو یکجا کیا ہے ۔ (م۔ا)
لنک کتاب
باجماعت نماز تراویح عشا کے بعد یا دیر رات؟
نام مصنف
محمد حامد سلفی مدنی
تبصرہ
رمضان المبارک میں نماز تراویح ایک مسنون و مستحب عبادت ہے، جسے انفرادی طور پر بھی ادا کیا جا سکتا ہے اور باجماعت بھی۔ انفرادی ادائیگی کی صورت میں اس کا وقت نماز عشا کے بعد سے طلوع فجر تک وسیع رہتا ہے، البتہ با جماعت ادا کرنے کی صورت میں اس کا وقت متعین ہے اور وہ ہے نماز عشا کے فوراً بعد ، جیسا کہ سنت نبوی اور سلف صالحین کے تعامل سے ثابت ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں سے بعض مساجد میں رمضان کے آخری عشرے میں باجماعت نماز تراویح کو موخر کر کے درمیانی شب میں ادا کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور دن بدن اس رجحان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، اس طرز عمل کو اگرچہ بعض اہل علم نے جائز قرار دیا ہے مگر اکثر علما اس سے اجتناب کی تاکید کرتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ باجماعت نماز تراویح:عشاء کے بعد یا دیر رات ؟‘‘ محترم محمد حامد سلفی حفظہ اللہ کی کاوش ہے فاضل مصنف نے نہایت عرق ریزی اور بڑی جاں فشانی کے ساتھ اس کے علمی مواد کو یکجا کیا ہے ۔ (م۔ا)
لنک کتاب