عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,539
- ری ایکشن اسکور
- 9,997
- پوائنٹ
- 667
نام کتاب
المقدمۃ الجزریۃ مع تحفۃ الاطفال
نام مصنف
ابی الخیر شمس الدین محمد بن محمد بن محمد بن علی یوسف الجزری الشافعی
المقدمة فيما يجب على قارئ القرآن أن يعلمه امام ابن الجزری شافعی رحمہ اللہ (وفات: 833ھ) کی تجويد قرآن كے موضوع پر ایک منظوم متنی کتاب ہے جو کہ علمِ تجوید کے تمام بنیادی موضوعات پر مشتمل ہے اور مقدمہ جزریہ کے نام سے معروف ہے۔ جس میں اشعار کی تعداد 107یا 119 ہے۔ ابن الجزری رحمہ اللہ نے خود اشعار کے درمیان کوئی عنوانات نہیں رکھے، لیکن بعد کے ناسخین یا محققین نے ان میں بعض ذیلی عنوانات کا اضافہ کیا ہے۔یہ چونکہ تجوید کی بنیادی کتاب ہے اور مدارس کے نصاب میں شامل ہے اس لیے کئی اہل علم نے مقدمہ جزریہ کا ترجمہ و شروحات تحریر کی ہیں۔ زیر نظر کتاب میں تجوید کے دو بنیادی رسالے ’’ مقدمہ جزریہ‘‘ از ابن الجزری اور ’’ تحفۃ الاطفال‘‘ از علامہ سلیمان بن حسین الجمزوری رحہما اللہ کو یکجا کر کے شائع کیا گیا ہے۔ان دونوں رسالوں کا ترجمہ شیخ القراء و المجودین قاری اظہار احمد تھانوی رحمہ اللہ نے کیا ہے۔(م۔ا)
لنک کتاب
المقدمۃ الجزریۃ مع تحفۃ الاطفال
نام مصنف
ابی الخیر شمس الدین محمد بن محمد بن محمد بن علی یوسف الجزری الشافعی
تبصرہ
المقدمة فيما يجب على قارئ القرآن أن يعلمه امام ابن الجزری شافعی رحمہ اللہ (وفات: 833ھ) کی تجويد قرآن كے موضوع پر ایک منظوم متنی کتاب ہے جو کہ علمِ تجوید کے تمام بنیادی موضوعات پر مشتمل ہے اور مقدمہ جزریہ کے نام سے معروف ہے۔ جس میں اشعار کی تعداد 107یا 119 ہے۔ ابن الجزری رحمہ اللہ نے خود اشعار کے درمیان کوئی عنوانات نہیں رکھے، لیکن بعد کے ناسخین یا محققین نے ان میں بعض ذیلی عنوانات کا اضافہ کیا ہے۔یہ چونکہ تجوید کی بنیادی کتاب ہے اور مدارس کے نصاب میں شامل ہے اس لیے کئی اہل علم نے مقدمہ جزریہ کا ترجمہ و شروحات تحریر کی ہیں۔ زیر نظر کتاب میں تجوید کے دو بنیادی رسالے ’’ مقدمہ جزریہ‘‘ از ابن الجزری اور ’’ تحفۃ الاطفال‘‘ از علامہ سلیمان بن حسین الجمزوری رحہما اللہ کو یکجا کر کے شائع کیا گیا ہے۔ان دونوں رسالوں کا ترجمہ شیخ القراء و المجودین قاری اظہار احمد تھانوی رحمہ اللہ نے کیا ہے۔(م۔ا)
لنک کتاب