• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلام میں بڑے بزرگوں کے حقوق

شمولیت
اگست 25، 2013
پیغامات
40
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
72
اسلام میں بڑے بزرگوں کے حقوق
عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی(سعودی عربیہ)

شریعت اسلامیہ میں حقوق کی بڑی اہمیت ہے خاص طورسے انسان کے حقوق سے متعلق امورکی بڑی نگہبانی کی گئی ہے ، ماں ،باپ ، بھائی ،بہن ، آل واولاد ، پڑوسی ،اور مہمان سے لےکر بچوں اور بوڑھوں تک ،سب کے حقوق شریعت میں متعین ہیں اورسب کے سب مسؤلیت اور ذمہ داری کے دائرے میں ہیں ،یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" كُلُّكُمْ رَاعٍ ومَسْؤُولٌ عن رَعِيَّتِهِ" ۔"تم میں سے ہرایک نگہبان ہے اور اور ہرایک سے اس کی رعیت کےبارےمیں سوال ہوگا"۔(صحیح بخاری/5200، صحیح مسلم/1829)۔چنانچہ انسان کے اوپرعائدذمہ داریاں وہ بنیادی اقدار ہیں جو فرد کے کردار کی تعمیر اور معاشرے میں اس کے کردار کو مضبوط بنانے میں معاون ہیں۔اور یہ ذمہ داریاں اس وقت اچھی طرح سے ادا ہوتی ہیں جب ہر طرح کےحقوق کی پاسداری کی جائےوہ حقوق چھوٹےہوں خواہ بڑے۔
تمام حقوق کی طرح سماج کے بڑے بوڑھے بزرگ افراد کے بہت زیادہ فضائل اور لوگوں پران کے متعدد حقوق ہیں اور اسلام نےلوگوں پر ان کے حقوق کی اچھی طرح سے ادائیگی کی ذمہ داری ڈالی ہے ،اور اس کی طرف لوگوں کو ابھار تےہوئے ان کی ہر طرح سے رعایت کی ہےاور ان کے حق میں کوتاہی سے منع کیاہے۔جن میں سے چندکا ذکر ذیل میں مختصرا کیاجارہا ہے :
1 - یوں تو عمریں بہت سارے لوگوں کی بڑھتی ہیں جن میں سےزیادہ تر لوگ اپنی اس بڑھی ہوئی زندگی کواپنے حساب سے گزارنےکی کوشش کرتے ہیں اوربسا اوقات تو آدمی کی دنیاوی حرص بڑھتےعمرکے ساتھ بڑھتی ہی جاتی ہے ،لیکن جو لوگ اپنی بڑھتی ہوئی زندگی کو غنیمت جانتےہوئے نیکی وطاعت میں گزارتےہیں وہ ڈھیروں خیراوربھلائی کو پالیتےہیں جو ان کے لئےدنیااورآخرت دونوں میں کامیابی کا ضامن ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے بڑے بزرگ بڑے فضل اور خیروالےہوتےہیں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" إِنَّهُ لَايَزِيدُالْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلَّاخَيْرً"۔" مومن کی عمر اس کی بھلائی ہی میں اضافہ کرتی ہے"۔(صحیح مسلم/2682)۔ اورابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ": خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا ، وَأَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا"۔"کیا میں تم لوگوں کے لیے تمہارے بہترین افراد کی نشاندہی نہ کر دوں؟" صحابہ کرام نے کہا: بالکل یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ! تو آپ نے فرمایا:" تم میں سے بہترین افراد وہ ہیں جن کی عمریں لمبی ہوں ، اور اخلاق کے اچھےہوں"۔(مسنداحمد/9224، صحیح ابن حبان /484، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ/1298)۔اورایک روایت کے الفاظ ہیں : "خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا , وَأَحْسَنُكُمْ أَعْمَالًا"۔"تم میں بہتروہ ہیں جن کی عمریں طویل ہوں اور عمل بہترین ہو"۔(مسنداحمد/7211، مصنف ابن ابی شیبہ/34422، صحیح الجامع/3262)۔
اورمسند ابی یعلی کے اندر انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں اتنی زیادتی ہے:" بشرطیکہ وہ راہ راست پر چلتے رہیں"۔ (سلسلۃ صحیحۃ/2498)۔
2 - بزرگ اور بڑے بوڑھے ان کمزوراور ناتواں لوگوں میں سے ہیں جن کی دعاؤں میں اللہ تعالی نے تاثیررکھی ہے اور ان کو مدد اورکامیابی کے اسباب میں سے قراردیاہے ،صحیح بخاری کے اندر ہے کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"۔"هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ"۔" تم لوگ صرف اپنے کمزور معذور لوگوں کی دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ کی طرف سے مدد پہنچائے جاتے ہو اور ان ہی کی دعاؤں سے رزق دئیے جاتے ہو"۔(صحیح البخاری/2896) ۔
3- ان کے مشورہ کے مطابق عمل کرنےمیں آسانی اور برکت بھی ہے صحیح ابن حبان کی ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"الْبَرَكَةُ مَعَ أَكَابِرِكُمْ"۔"تمہارے بڑوں کے ساتھ ہی تم میں خیر و برکت ہے"۔ (صحيح الجامع/ 2884)۔ چونکہ بڑے بزرگوں کو دنیاوی معاملات میں اچھا تجربہ ہوتاہے ،اورانہوں نے اپنی طویل زندگی میں بہت سارے سرد وگرم کو جھیلا ہوتاہے اور اکثرمعاملات کو قریب سے دیکھا اور پرکھا ہوتاہے، اس لئے معاشرہ میں ان کا وجود غنیمت ہوتاہے اور ان کا مشورہ تجربات اور یقینی مشاہدات پر مبنی ہوتاہے۔
4 - بڑے بزرگوں کی عزت وتکریم دراصل اللہ تبارک وتعالی کے اجلال اور تکریم کا حصہ ہوتاہے،سنن ابی داود وغیرہ کی روایت میں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اللهِ تَعَالَى إِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ المُسْلِمِ"۔ "معمر اور سن رسیدہ مسلمان کی عزت و تکریم دراصل اللہ کے اجلال و تکریم ہی کا ایک حصہ ہے"۔ (سنن ابی داود/ 4843، علامہ البانی نے اس کی سند کو حسن کہاہے)۔
5- اگر ہم نے بڑے بزرگوں کا احترام کیا او ران کے حقوق کی رعایت کی تو کل کو ہم بھی بوڑھے ہونے والے ہیں ایسی صورت میں اللہ تعالی ہماری تکریم اور احترام کےلئے آنے والی نسل کو توفیق دےگا ،کیونکہ ایک عادلانہ اور شریعت کی تعلیمات سے مستفاد قاعدہ ہےکہ "وَالْجَزَاءُ مِنْ جِنْسِ الْعَمَلِ"۔"جیسی کرنی ویسی بھرنی "۔
6- جو آدمی بڑے بزرگوں کی عزت وتعظیم نہیں کرتا اس کےلئے شریعت میں بہت بڑی وعید آئی ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرْكَبِيرِنَا،وَيَرْحَمْ صَغِيرنَا"۔"جو ہمارے بڑے کا حق نہ پہنچانے (اس کا ادب و احترام نہ کرے) اور ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کھائے اور تو وہ ہم میں سے نہیں"۔ (سنن ابی داود/ 4943، علامہ البانی نے صحیح کہاہے)۔
بڑے بزرگوں کے حقوق کی صورتیں:
بڑے بزرگوں کے حقوق کی ادائيگی کی کئی صورتیں ہیں ، مثلا: ان سے سلام کرنا اور ا س میں ان سے پہل کرنا ۔مجلسوں میں انہیں مقدم کرنا ۔ان کی باتوں کو ترجیح دینا اور انہیں غور سے سننا ۔ انہیں مخاطب کرنے میں ادب وتکریم کا خیال کرنا اور نرمی گفتاری کے ساتھ ان سے کلام کرنا۔ نیکی وطاعت اور صحت وعافیت کے ساتھ ان کےلئے لمبی عمرکی دعاء کرنا ۔ان کی عیادت کرنا اور ان کی ضروریات زندگی جیسے حسب استطاعت علاج ودوا ، گھر اور کھانےپینے کا بہترین انتظام کرنا وغیرہ۔
اگر بڑے بزرگ ماں باپ ہوں تو ان کے حقوق کئی گنا بڑھ جاتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالی نے ان کے ساتھ حسن سلوک وغیرہ کو اپنی عبادت کے ساتھ ذکرکیاہے ،فرماتاہے:(وَقَضٰی رَبُّكَ اَلَّاتَعْبُدُوْۤااِلَّاۤ اِیَّاهُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَاَحَدُهُمَاۤاَوْكِلٰهُمَافَلَاتَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّلَاتَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًاكَرِیْمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا)۔( اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا،اور نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا، بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا. اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے) ۔(الاسراء /23-24)۔
اللہ رب العزت ہمیں ہماری ذمہ داریوں کے سمجھنے اور ان کی حفاظت کی توفیق دےاور ہمارےبڑے بزرگوں کا سایہ ہم پر ان کی صحت اور نیکی کے ساتھ دیر تک قائم رکھے۔وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم۔

**********​
 

اٹیچمنٹس

Top