• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا لے پالک کی نسبت پالنے والے کی طرف کی جائے گی؟

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,051
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
111
اپنے نام کے ساتھ منہ بولے باپ کا نام لکھنا جائز نہیں ہے، حقیقی باپ کا نام ہی لکھا جائے گا۔

ارشاد باری تعالی ہے:
ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ (الأحزاب: 5)
’’انہیں ان کے باپوں ہی کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے ہاں زیادہ انصاف کی بات ہے، پھر اگر تم ان کے باپ نہ جانو تو وہ دین میں تمھارے بھائی اور تمھارے دوست ہیں۔‘‘

اپنی نسبت حقیقی والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف کرنا کبیرہ گناہ ہے، ایسا کرنے والے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعید فرمائی ہے۔

سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُهُ، إِلَّا كَفَرَ. وَمَنِ ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ)). (صحیح البخاري، المناقب: 3508، صحیح مسلم، الإيمان: 61)
’’جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا اور جس نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی (نسبی) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔‘‘
  • واضح رہے کہ منہ بولے باپ کا حکم اجنبی شخص کی طرح ہی ہے، یعنی آپ اس کے وارث نہیں بن سکتے اور نہ وہ آپ کا وراث بن سکتا ہے۔ بالغ ہونے کے بعد پردے وغیرہ کے احکام بھی لاگو ہوں گے۔
  • آپ پر واجب ہے کہ اپنی تمام دستاویزات کو تبدیل کروائیں اور حقیقی باپ کا نام لکھوائیں۔
والله أعلم بالصواب.
 
Top