محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,055
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
كرنسى كى تجارت كرنا جائز ہے، ليكن اس ميں شرط یہ ہے كہ مجلس عقد ميں ہى كرنسى اپنے قبضہ ميں لے لی جائے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبا (البقرة: 275)
’’اللہ تعالی نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا ہے۔‘‘
الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ) (صحيح مسلم، المساقاة: 1587)
’’سونے کے عوض سونا، چاندی کے عوض چاندی، گندم کے عوض گندم، جو کے عوض جو، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے عوض نمک (کا لین دین) مثل بمثل، یکساں، برابر برابر اور نقد بنقد ہے۔ جب اصناف مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیع کرو بشرطیکہ وہ دست بدست ہو۔‘‘
والله أعلم بالصواب.
ارشاد باری تعالی ہے:
وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبا (البقرة: 275)
’’اللہ تعالی نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا ہے۔‘‘
- ڈالر کی آن لائن خرید وفروخت اس صورت میں جائز ہو گی، جب اسی مجلس میں ہی كرنسى ايك دوسرے كے سپرد كر دى جائے۔
- اگر كرنسى ايك ہى ملك كى ہو مثلا ايك روپے كو دوروپے كے بدلے، یا ایک ڈالر کو دو ڈالر کے بدلے فروخت كيا جائے تو يہ جائز نہيں ہو گا كيونكہ يہ ربا الفضل ( زيادہ سود ) كى قسم ميں شامل ہوتا ہے، كيوںکہ جب كرنسى ايك ہو تو پھر مجلس ميں ہى قبضہ ميں لينا اور برابر ہونا ضروری ہے۔
الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ) (صحيح مسلم، المساقاة: 1587)
’’سونے کے عوض سونا، چاندی کے عوض چاندی، گندم کے عوض گندم، جو کے عوض جو، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے عوض نمک (کا لین دین) مثل بمثل، یکساں، برابر برابر اور نقد بنقد ہے۔ جب اصناف مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیع کرو بشرطیکہ وہ دست بدست ہو۔‘‘
- ایک ملک کی کرنسی کا دوسرے ملک کی کرنسی سے تبادلہ کرنا ایسے ہی ہے جیسا سونے کا تبادلہ چاندی سے کرنا، اس لیے ضروری ہے کہ تبادلہ کرتے وقت فورا اسی مجلس میں دونوں ملکوں کی کرنسی ایک دوسرے کے حوالے کر دی جائے۔
- کسی کے بنک میں رقم منتقل کر دینا اس کے حوالے کرنے کی ہی طرح ہے۔
- اگر مذکورہ بالا شرطیں پائی جا رہی ہے تو یہ کاروبار حلال ہے ۔
والله أعلم بالصواب.