محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,047
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
علماء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا انکار کرتا ہے وہ کافر ہے، دائرہ اسلام سے خارج ہے، کیونکہ اس نے قرآن وسنت کی تکذیب کی ہےاور اسلام کے ایک رکن کا انکار کیا ہے۔
جو شخض زکاۃ کو فرض سجھتا ہے، لیکن زکاۃ کی ادائیگی نہیں کرتا، وہ مجرم ہے، کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔ احادیث مبارکہ میں ایسے شخص کے بارے میں سخت وعید بیان کی گئی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جو بھی سونے اور چاندی کا مالک ان میں سے (یا ان کی قیمت میں سے) ان کا حق (زکاۃ) ادا نہیں کرتا تو جب قیامت کا دن ہو گا (انھیں) اس کے لئے آگ کی تختیاں بنا دیا جائے گا اور انھیں جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور اس کی پشت کو داغا جائےگا، جب وہ (تختیاں) پھر سے (آگ میں) جائیں گی، انھیں پھر سے اس کے لئے واپس لایا جائےگا، اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے (یہ عمل مسلسل ہوتا رہے گا) حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا، پھر وہ جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لےگا۔‘‘ (صحیح مسلم: 987)
جو شخض زکاۃ کو فرض سجھتا ہے، لیکن زکاۃ کی ادائیگی نہیں کرتا، وہ مجرم ہے، کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔ احادیث مبارکہ میں ایسے شخص کے بارے میں سخت وعید بیان کی گئی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جو بھی سونے اور چاندی کا مالک ان میں سے (یا ان کی قیمت میں سے) ان کا حق (زکاۃ) ادا نہیں کرتا تو جب قیامت کا دن ہو گا (انھیں) اس کے لئے آگ کی تختیاں بنا دیا جائے گا اور انھیں جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور اس کی پشت کو داغا جائےگا، جب وہ (تختیاں) پھر سے (آگ میں) جائیں گی، انھیں پھر سے اس کے لئے واپس لایا جائےگا، اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے (یہ عمل مسلسل ہوتا رہے گا) حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا، پھر وہ جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لےگا۔‘‘ (صحیح مسلم: 987)