محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,049
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
انسان کو کفریہ وسوسے شیطان کی طرف سے آتے ہیں۔ اگر انسان ان وسوسوں کو اپنا ایمان اور عقیدہ نہیں بناتا اور زبان پر نہیں لاتا تو وہ کافر نہیں ہو گاکیونکہ ایسے وسوسوں پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی کا ہم پر خاص فضل اور کرم ہے کہ اس نے اس طرح کے وسوسوں سے درگزر فرمایا ہے۔
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ (صحیح البخاری، الأيمان والنذور: 6664)
”اللہ تعالٰی نے میری امت سے وسوسے اور ان کے دل کی باتوں سے درگزر فرمایا ہے جب تک وہ ان پر عمل پیرا نہ ہوں یا انہیں زبان پر نہ لے آئیں۔“
بلکہ بعض احادیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان کا اس طرح کے وسوسوں کو ناپسند کرنا اور زبان پر لانے سے خوف محسوس کرنا اس کے ایمان کے صحیح ہونے کی علامت ہے۔
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم میں سے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا: ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتا ہے، آپ ﷺ نے پوچھا:
وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ (صحيح مسلم، الإيمان: 132)
’’کیا تم نے واقعی اپنے دلوں میں ایسا محسوس کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کی: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ’’یہی صریح ایمان ہے۔‘‘
انسان کو چاہیے کہ وہ کثرت کے ساتھ رب کے حضور دعا کرے اوراللہ تعالی کا ذکر کرے، اللہ تعالی اپنی رحمت کرتے ہوئے اس طرح کے وسوسوں کو اس سے دور کر دے گا۔ ان شاء اللہ۔
والله أعلم بالصواب.
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ (صحیح البخاری، الأيمان والنذور: 6664)
”اللہ تعالٰی نے میری امت سے وسوسے اور ان کے دل کی باتوں سے درگزر فرمایا ہے جب تک وہ ان پر عمل پیرا نہ ہوں یا انہیں زبان پر نہ لے آئیں۔“
بلکہ بعض احادیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان کا اس طرح کے وسوسوں کو ناپسند کرنا اور زبان پر لانے سے خوف محسوس کرنا اس کے ایمان کے صحیح ہونے کی علامت ہے۔
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم میں سے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا: ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتا ہے، آپ ﷺ نے پوچھا:
وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ (صحيح مسلم، الإيمان: 132)
’’کیا تم نے واقعی اپنے دلوں میں ایسا محسوس کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کی: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ’’یہی صریح ایمان ہے۔‘‘
انسان کو چاہیے کہ وہ کثرت کے ساتھ رب کے حضور دعا کرے اوراللہ تعالی کا ذکر کرے، اللہ تعالی اپنی رحمت کرتے ہوئے اس طرح کے وسوسوں کو اس سے دور کر دے گا۔ ان شاء اللہ۔
والله أعلم بالصواب.