محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,049
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
جو شخص مسجد میں داخل ہو اس کے لیے مستحب ہے کہ دو رکعتیں پڑھنے سے پہلے نہ بیٹھے۔
سيدنا ابوقتادہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ المَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِس (صحيح البخاري، الصلاة: 444)
’’جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے قبل دو رکعت ضرور پڑھے۔‘‘
أَصَلَّيْتَ يَا فُلاَنُ؟» قَالَ: لاَ، قَالَ: «قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْن (صحيح البخاري، الجمعة: 930)
’’اے فلاں! کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’کھڑے ہو کر نماز ادا کرو۔‘‘ (صحیح بخاری: 930)
يَا بِلاَلُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الإِسْلاَمِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الجَنَّةِ» قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي: أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا، فِي سَاعَةِ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ (صحيح البخاري، التهجد: 1149)
’’اے بلال! مجھے وہ عمل بتاؤ جو تم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہو اور تمہارے ہاں وہ زیادہ امید والا ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔‘‘ حضرت بلال ؓ نے عرض کیا: میں نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو میرے نزدیک زیادہ پرامید ہو، البتہ میں رات اور دن میں جب وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے جو نماز میرے مقدر میں ہوتی ہے پڑھ لیتا ہوں۔ ‘‘
والله أعلم بالصواب.
سيدنا ابوقتادہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ المَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِس (صحيح البخاري، الصلاة: 444)
’’جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے قبل دو رکعت ضرور پڑھے۔‘‘
- اگر انسان مسجدمیں آئے اور خطیب خطبہ جمعہ دے رہا ہو تب بھی دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھنا چاہیے۔
أَصَلَّيْتَ يَا فُلاَنُ؟» قَالَ: لاَ، قَالَ: «قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْن (صحيح البخاري، الجمعة: 930)
’’اے فلاں! کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’کھڑے ہو کر نماز ادا کرو۔‘‘ (صحیح بخاری: 930)
- تحیۃ المسجد نماز کے ممنوعہ اوقات میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔جو شخص کسی بھی وقت وضو کرے اس کے لیے مستحب ہےکہ وہ دو یا دو سے زائد رکعات ادا کرے، اگرچہ ممنوعہ وقت ہی کیوں نہ ہو۔
يَا بِلاَلُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الإِسْلاَمِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الجَنَّةِ» قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي: أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا، فِي سَاعَةِ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ (صحيح البخاري، التهجد: 1149)
’’اے بلال! مجھے وہ عمل بتاؤ جو تم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہو اور تمہارے ہاں وہ زیادہ امید والا ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔‘‘ حضرت بلال ؓ نے عرض کیا: میں نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو میرے نزدیک زیادہ پرامید ہو، البتہ میں رات اور دن میں جب وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے جو نماز میرے مقدر میں ہوتی ہے پڑھ لیتا ہوں۔ ‘‘
والله أعلم بالصواب.